دیہات کی لڑکیاں اور روایتی سماجی زنجیریں؟ روئیداد

خوشبو بورا
کبھی کبھی اپنے ملک کو دیکھ کر لگتا ہے کہ ملک آزاد ہو گیا ہے جہاں ہر کسی کو اپنی مرضی کے مطابق زندگی گزارنے اور جینے کی آزادی ہے۔ لیکن ایسا لگتا ہے کہ خواتین اور لڑکیوں کے لیے، خاص طور پر دیہی علاقوں میں رہنے والی لڑکیوں کے لئے آزادی کا کوئی مطلب نہیں ہے۔ ان کے لیے آزادی محسوس کرنے کا واحد ذریعہ نیند ہے کیونکہ اس میں کوئی پابندی نہیں ہے۔ بند آنکھوں کے ساتھ، ایک لڑکی اپنے تمام خوابوں، آزادی اور خوشیوں کو محسوس کرتی ہے جو وہ حاصل کرنا چاہتی ہے۔ لیکن جیسے ہی اس کی آنکھ کھلتی ہے، وہ ایک بار پھر خود کو ثقافت اور روایت کے زنجیروں میں جکڑا ہوا پاتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ آزادی حقیقی معنوں میں ہے؟ ملک غلامی سے آزادی کی طرف بڑھ چکا ہے لیکن ملک کے دور دراز دیہی علاقوں کی خواتین اور نوعمر بچیاں آج بھی غلام ہیں۔ انہیں پدرانہ سماج نے روایت کی زنجیروں میں جکڑا ہوا ہے۔ وہ گھر کی چار دیواری میں قیدرہنے کو مجبور ہیں۔ انہیں گھریلو فیصلے لینے کی بھی آزادی نہیں ہے۔ انہیں خاندان کے مرد افراد کے فیصلے کو قبول کرنا ہوتا ہے، چاہے وہ فیصلہ ان کے حق میں نہ ہو۔ انہیں تو اپنی رائے دینے کی بھی آزادی نہیں ہے۔جس طرح انگریز ہندوستانیوں پر ہر کام کرنے کے لیے دباؤ ڈالتے تھے، اسی طرح آج مرد خواتین پر کام کرنے اور فیصلے قبول کرنے کے لیے دباؤ ڈالتے ہیں، جسے عورتیں کسی بھی حالت میں قبول کرنے پر مجبور ہیں۔ تاہم آزادی کے 75 سال بعد ملک کے حالات بدل گئے ہیں۔ ہر ایک کو آئینی طور پر جینے اور رہنے کی آزادی ہے۔ اس آزادی کا اثر شہری علاقوں میں بھی نظر آرہا ہے۔ جہاں خواتین اور نوعمر لڑکیوں کو رہنے، جینے، تعلیم حاصل کرنے، ملازمتوں کے مواقع تلاش کرنے اور اپنی پسند کے شریک حیات کا انتخاب کرنے کا حق حاصل ہے۔ خاندان اور معاشرہ بھی اسے بخوشی قبول کرتا ہے۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اتراکھنڈ کے دیہی معاشرے میں رہنے والی خواتین اور لڑکیوں کے لیے ایسے سازگار حالات کیوں نہیں ہیں؟
ملک کے دیگر دور دراز دیہی علاقوں کی طرح پہاڑی ریاست اتراکھنڈ کے دیہی علاقے میگڑی اسٹیٹ میں بھی خواتین اور لڑکیوں کا حال یکساں ہے۔ جہاں وہ پدرانہ معاشرے کے تحت زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ ریاست کے باگیشور ضلع کے گروڈ بلاک میں واقع اس گاؤں کی آبادی تقریباً 2528 ہے۔ جبکہ شرح خواندگی 85 فیصد کے قریب ہے۔ جس میں خواتین کی شرح خواندگی تقریباً 40 فیصد اور مردوں کی 45 فیصد ہے۔ یعنی خواندگی کے حصول میں خواتین مردوں سے پیچھے نہیں ہیں۔ اس گاؤں میں نئی نسل کی تقریباً تمام لڑکیاں کم از کم 12ویں پاس ہیں۔ اس کے باوجود یہاں کی خواتین اور لڑکیوں کوپدرانہ معاشرے میں زندگی گزارنی پڑتی ہے۔ انہیں اپنی زندگی کے بارے میں فیصلے لینے کا بھی حق نہیں ہے۔ تقریباً تمام لڑکیوں کی شادی 12ویں کے بعد طے ہوجاتی ہے۔ کیا وہ مزید پڑھنا چاہتی ہے یا نہیں؟ کیا وہ اپنے پاؤں پر کھڑا ہونا اوربااختیار بننا چاہتی ہے یا نہیں؟ وہ اپنے مستقبل کے بارے میں کیا خواب دیکھ رہی ہیں؟ ان سے یہ پوچھنا بھی ضروری نہیں سمجھا جاتا ہے۔اس حوالے سے نویں جماعت کی ایک طالبہ کماری جیا کا کہنا تھا کہ لڑکی کے بالگ ہوتے ہی خاندانی عزت، ثقافت اور روایت کا بوجھ اس کے سر پر ڈال دیا جاتا ہے جسے وہ زندگی بھر اٹھانے پر مجبور ہوتی ہے۔ تاہم خاندان کے لڑکوں سے وہی حالات اور توقعات نہیں کی جاتی ہے۔ اسے اپنی مرضی کے مطابق زندگی گزارنے کی مکمل آزادی دی جاتی ہے۔ گھریلو فیصلے بھی اس کے مستقبل کو مدنظر رکھ کر کیے جاتے ہیں۔ اگر لڑکے ذات اور مذہب سے بالاتر ہوکر اپنے شریک حیات کا انتخاب کریں تو معاشرے کو اس میں کوئی برائی نظر نہیں آتی۔ لیکن اسی معاشرے کو لڑکی کے ایسے کسی بھی فیصلے پر سخت اعتراض ہوجاتاہے۔ اگر کوئی لڑکی نوکری کرنا چاہے تو اسے کوئی آزادی نہیں۔ شادی کے بعد نئی بہو اپنی پسند کا کام بھی نہیں کر سکتی۔ اس کے لیے اسے اپنے شوہر سے اجازت لینا ہوگی۔ معاشرہ بھی بہو کی نوکری کو روایت اور رسم و رواج کے منافی سمجھ کر اس پر انگلیاں اٹھاتا ہے۔
اس سلسلے میں 40 سالہ خاتون کھشتی دیوی کا کہنا ہے کہ گزشتہ چند دہائیوں میں خواتین او لڑکیوں کے تئیں معاشرے کی سوچ میں کافی تبدیلی آئی ہے۔ آج لڑکیوں پر ایسی پابندیاں نہیں لگائی جاتیں جیسی ہمارے زمانے میں ہوتی تھیں۔ وہ بتاتی ہیں کہ ہمارے دور میں لڑکیوں کی پانچویں جماعت پاس کرتے ہی شادی کر دی جاتی تھی۔ ہائی سکول کی دوری کی وجہ سے والدین لڑکیوں کوا سکول بھیجنے پر پابندی لگاتے تھے۔ اگر کوئی لڑکی آگے پڑھنے کے لیے اسکول جانے کی ہمت بھی دکھاتی تو معاشرے کی جانب سے اسے اس حد تک ذہنی اذیت دی جاتی ہے کہ وہ خود ہی اسکول جانا چھوڑ دیتی ہے۔ ایک اور خاتون نشا بورا کہتی ہیں کہ پہلے اور آج کے درمیان لوگوں کی سوچ میں معمولی تبدیلی آئی ہے۔ چونکہ حکومت لڑکیوں کی تعلیم کی حوصلہ افزائی کے لیے اسکالرشپ سمیت کئی اسکیمیں بھی چلا رہی ہے۔ جس کی وجہ سے والدین انہیں تعلیم حاصل کرنے کی ترغیب دے رہے ہیں۔اس کی وجہ سے لڑکیاں بھی باشعور ہو رہی ہیں۔ لیکن 12ویں کے بعد بھی ان کے گھر سے باہر جانے پر پابندیاں ہیں۔ جس کے لیے آج بھی تبدیلی لانا بہت ضروری ہے۔اس حوالے سے سماجی کارکن نیلم گرانڈی کا کہنا ہے کہ خواتین اور لڑکیوں کے حوالے سے دیہی معاشرے کی سوچ میں پہلے کی نسبت کافی تبدیلی آئی ہے۔ لیکن شہروں کے مقابلے دیہی علاقے اس معاملے میں اب بھی بہت پیچھے ہیں۔ لڑکیوں کو تعلیم حاصل کرنے کی آزادی ملی لیکن ان کی زندگی کا فیصلہ پدرانہ معاشرہ کرتا ہے۔ جسے انہیں ہر حال میں قبول کرنا پڑتا ہے۔ درحقیقت دیہی معاشرہ خواہ خواندہ ہو گیا ہو لیکن بیدار نہیں ہوا ہے۔ وہ آج بھی خواتین اور لڑکیوں کے مسائل کو اپنی تنگ نظری کے دائرے میں دیکھتا ہے اور انہیں اس پر عمل کرنے پر مجبور کرتا ہے۔ جس میں گھر والوں کی خاموش رضامندی بھی شامل ہوتی ہے۔ نیلم کہتی ہیں کہ اس سوچ کو بیداری کے ذریعے ہی دور کیا جا سکتا ہے۔ تب ہی عورتوں اور لڑکیوں کی آزادی کے حقیقی معنی پورے ہوں گے۔ (چرخہ فیچرس)
(میگڑی اسٹیٹ، اتراکھنڈ)