جموں // نیشنل کانفرنس کے صوبائی صدر دیویندر سنگھ رانا نے گورنر ستیہ پال ملک کی جانب سے ریاستی اسمبلی کو تحلیل کرنے کے فیصلے کو جمہورت کا قتل قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس فیصلے سے یہ واضح ہو گیا کہ دہلی ( مرکزی حکومت ) جو چاہے گی ریاست میں وہی ہوگا ۔ بقول ان کے دہلی نہیں چاہتی کہ ریاست میں بھاجپا کے بغیر کوئی سرکار بنے۔ دیویندر سنگھ رانا نے گذشتہ روز کٹھوعہ میں نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہا ’ریاست میں جب مخلوط حکومت گری تھی تب سے ہی نیشنل کانفرنس مطالبہ کر ہی ہے کہ اسمبلی کو تحلیل کرنا چاہیے اور از سر نو اسمبلی انتخابا ت منعقد کروانے چاہیے ۔جمہورت کا تقاضہ ہے کہ جب کو ئی عوامی سرکاراعتماد کھودیتی (گرجاتی ) تو از سرنو انتخابات منعقد کر واکر لوگو ں کا اعتماد حاصل کرنا چاہئے اور جس کو عوام کی حمایت حاصل ہو گی و ہ سرکار چلائے گا ‘۔انہوں نے کہا کہ ریاست میں حالات کچھ ایسے بنے کہ پی ڈی پی ، نیشنل کانفرنس اور کانگریس نے عظیم اتحاد تشکیل دینے کا عمل شروع کیا ،اتحاد کا عمل شروع ہونے پر جس طریقے سے اسمبلی کو تحلیل کیا گیا ،اس پر کئی سوال اٹھتے ہیں ‘۔ ان کا کہنا تھا کہ جب تک بھارتیہ جنتا پارٹی دواسمبلی ممبروں کے ساتھ حکومت سازی کی کوشش کر رہی تب تک کھلی چھوٹ دی گئی اور جب 56 اراکین اسمبلی کے ساتھ مضبوط حکومت بننے لگی تو اس کو بننے نہیں دیا گیا اچانک اسمبلی کو تحلیل کر دیا گیا ،اس طریقے سے اسمبلی کو تحلیل کرنے کے فیصلے پر گورنر پر بھی کئی سوال اٹھتے ہیں ۔انہوں نے ریاستی گورنر کے بیا ن کا ذکرکرتے ہو ئے کہا کہ ’ گورنر صاحب نے کہا ہے کہ خرید وفروخت (ہارس ٹریڈنگ ) ہو رہی تھی اور کچھ لوگوں کو دھمکیاں بھی دی جارہی تھیں ،اگر ایسے حالات تھے تواسمبلی تحلیل کرنے میں کس با ت کا انتظار کیا جا ررہا تھا لیکن سابق وزیر ِ علیٰ محبوبہ مفتی کے مکتوب لکھنے کے پندرہ منٹ بعد ہی اسمبلی کو تحلیل کردیا گیا‘ ۔انہوں نے بی جے پی پر الزام عائد کرتے ہوئے کہاکہ ’بی جے پی نے زور دار کوشش کی کہ کسی نہ کسی طریقے سے ریاست میں سرکا ر بنائی جائے اس کے لئے انہوںنے پیپلز کانفرنس کے سربراہ سجاد لون سے اتحاد کیا ، سجاد لون سے ان کا گہرا رشتہ ہے ۔ بی جے پی کی طرف حزب اختلاف کی جماعتوں کے اراکین اسمبلی کو توڑنے کی بھرپور کوشش کی گئی اور اس میں وہ ناکامیاب ہوگئے ۔جب 56 ارکین اسمبلی کی فہرست سامنے پیش کی گئی تو انہوں نے اسمبلی کو تحلیل کرکے ایک بار پھر جمہورت کا قتل کردیا ِاور اس سے یہ واضح ہو گیا دہلی ( مرکزی حکومت ) چاہے گی وہ ہی سرکار جموں و کشمیر میں بنے گی ،دہلی نہیں چاہتی تھی کہ بی جے پی کے بغیر ریاست میں کوئی سرکار بنے اور بی جے پی کے ساتھ کوئی ہاتھ ملانے کے لئے تیا ر نہیں تھا ،اس لئے دہلی نے یہ فیصلہ جلد بازی میں لیا‘۔بی جے پی کی جانب سے عائد کئے گئے الزمات پر بولتے ہوئے این سی لیڈر دیویندر سنگھ رانا نے کہا کہ ’اگر ایک بھی ثبوت یہ پیش کردیں کہ پاکستان کے اشارے پر نیشنل کانفرنس نے کوئی بھی کا م کیا ہے تو نیشنل کانفرنس اس کا خمیازہ بھگتنے کے لئے تیار ہے اور بی جے پی کے جو مقامی لوگ ہیں ، میں ان کو کچھ نہیں کہتا کیونکہ وہ سیاست سے نابلد لوگ ہیں وہ اس قسم کی باتیں کرتے رہتے ہیں ان کو میں معافی دیتا ہوں ‘ ۔انہوںنے کہ’ ریاست کے گورنر صاحب ایسی بات کرتے ہیں تومجھے افسوس ہے ،میں گورنر سے اپیل کرتا ہوں کے اگر وہ کہتے ہیں کہ پاکسان کے کہنے پر بائیکاٹ ہوتاہے تووہ اس کے ثبوب پیش کریں اور تحقیقات کروائیںاور جولوگ پاکستان کے اشارے پر کام کررہیں ہے ،ان کے خلاف کاروائی کریں ۔ نیشنل کانفرنس نے جموں وکشمیر اور ہندوستان کے لئے قربانیاں دی ہیں ۔