نئی دہلی/لوک سبھا نے دہلی میں لیفٹیننٹ گورنر کو زیادہ اختیارات دینے والا ‘ گورنمنٹ آف نیشنل کیپٹل ٹیرٹری (ترمیمی) بل 2021 منظور کر لیا ۔ وزیر مملکت برائے داخلہ کشن ریڈی نے بل پر ہوئی بحث کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ اس بل کے سلسلے میں حزب اختلاف کا وفاقی ڈھانچے میں مداخلت کا الزام غلط ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ لیفٹیننٹ گورنر کو کوئی اختیار نہیں دیا گیا ہے ، لیکن اس بل کی منظوری سے لیفٹیننٹ گورنر کے اختیارات میں اضافہ ہوگا اوروفاقی ڈھانچے والے نظام اور مرکز کے زیر انتظام علاقہ کے کام کاج کے نظام کو مضبوطی ملے گی ۔انہوں نے کہا کہ یہ بل سپریم کورٹ کے اس فیصلے کے مطابق ہے جس میں کہا گیا تھا کہ دہلی اسمبلی کو ریاست کا مکمل درجہ نہیں ہے اور مرکز کے زیر انتظام علاقہ کے طور پر اس کے اختیارات محدود ہیں ۔ دہلی میں گورننس کے اختیارات کے تعلق سے جھگڑا رہا ہے ، اس لئے بار بار عدالت میں جانا پڑتا تھا لیکن اس بل میں اختیارات کے سلسلے میں وضاحت کی گئی ہے اور اس کے منظور ہونے کے بعد لیفٹیننٹ گورنر کے اختیارات کے حوالے سے صورتحال واضح ہوجائے گی۔ انہوں نے کہا کہ یہ بل دہلی کے عوام کے مفاد کے لئے لایا گیا ہے ۔ مسٹر ریڈی نے کہا کہ دہلی ایک مرکز کے زیر انتظام علاقہ ہے ، اس لئے دہلی اسمبلی کا موازنہ دیگر ریاستوں کی اسمبلی سے نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے کہا کہ 1991 میں دہلی کو مرکز کے زیر انتظام علاقہ بنا کر بال کرشنا کمیٹی کی بنیاد پر اس کے گورنینس ڈھانچے کو تیا ر گیا تھا ۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن غلط تشہیر کر کے حکومت پر بے بنیاد الزامات عائد کر رہی ہے ۔ مسٹر جوشی نے کہا کہ حکومت کا ارادہ ریاستوں کے حقوق کو چھیننا نہیں ہے بلکہ کانکنی شعبہ کے پروجیکٹوں کو چلانا آسان بنانا ہے ۔ ایسی حالت میں بھی مرکزی حکومت کو ریاستی حکومت کے صلاح و مشورہ سے کام کرنا ہوگا۔انہوں نے کہاکہ اس بل میں ترمیم سے نہ صرف معدنیات اور کوئلہ کانکنی کے حقوق کے نیلامی کے عمل میں بہتری ہوگی بلکہ کوئلہ اور دیگر معدنیات کے کیپیٹیو کانکنی مالکان کو اپنے پلانٹ کی ضرورت کے بعد باقی بچے معدنیات کا پچاس فیصد حصہ فروخت کرنے کی اجازت بھی ملے گی۔ فی الحال کیپٹیو معدنیات مالکان کو صرف اپنی صنعتی اکائیوں کیلئے معدنیات کے استعمال کی اجازت تھی۔مسٹرجوشی نے کہاکہ ضلع سطح پر معدنیات سے متعلق جو کمیٹی ہوگی اس میں ایم پی کا اہم کردار ہوگا۔ اس قانون کے بعد معدنیات شعبوں میں آمدنی کو ہونے والا نقصان رکے گا اور مقامی سطح پر لوگوں کی زندگی میں بہتری لانے کا کام کیا جائے گا۔ان کا کہنا تھا کہ کمریشیل معدنیات کے بارے میں اراکین جو اندیشہ ظاہر کررہے ہیں انہیں یہ بتانا ضروری ہے کہ اس میں کچھ بھی گڑبڑی نہیں ہونے دی جائے گی۔شیوسینا کے ونائک بھوراؤ راؤت نے گورنمنٹ فار نیشنل کیپٹل ٹیرٹری دہلی (ترمیمی) بل 2021 کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ کئی برسوں سے اقتدار میں نہیں آنے کی وجہ سے بی جے پی یہ بل لے کر پیچھے سے حکومت کرنا چاہتی ہے ۔ دہلی حکومت کو آئین بنا یا ہے اور اب وہاں لیفٹیننٹ گورنر کی حکومت ہو گی ۔یہ بل جمہوریت کے خلاف ہے ۔ اسمبلی اگر کچھ غلط کرتی ہے ، تو اس کے خلاف آئین میں التزام ہیں ۔ اس بل سے دہلی کی سرکار کوئی فیصلہ نہیں لے پائے گی ، اس لئے وہ اس کی مخالفت کرتے ہیں۔بی ایس پی کے کنور دانش علی نے کہا کہ یہ دہلی حکومت کے اختیارات چھیننے والا بل ہے ۔ باباصاحب کے خوابوں کو توڑنے کام کر رہی ہے سرکار ۔ آئین کے ساتھ کھلواڑ نہیں کیا جانا چاہئے ۔ جمہوری حقوق کے خاتمے کی نیت کے تحت یہ بل لایا گیا ہے ۔ دہلی اسمبلی میں جب کوئی بل لانا ہو گا تو پہلے لیفٹیننٹ گورنر سے اجازت لینی ہو گی ، یہ کہا ں کا انصاف ہے ؟ یہ دہلی کے لوگوں کے ساتھ دھوکہ ہے ۔( یواین آئی)