راجوری//ضلع صدر مقام راجوری سے محض 8کلومیٹر دور دھنور گورسیاں اور دھنو ر جرالاں میں پینے کے پانی کی سخت قلت پائی جارہی ہے جبکہ محکمہ پی ایچ ای کی طرف سے اس مسئلے کے حل کیلئے کوئی بھی اقدام نہیں کیاجارہا۔ دھنور گورسیاں اور دھنور جرالاں کا یہ حال ہے کہ لوگ صبح ہی اپنے چھوٹے بڑے برتن روڈ کے کنارے رکھ جاتے ہیں اور محکمہ صحت کی طرف سے پانی کا ایک ٹینکر پانی لیکر جاتا ہے جوان لوگوں تک پانی پہنچادیتاہے جو سڑک کنارے رہتے ہیں لیکن دور دراز کے لوگوں کو سخت مشکلات کاسامناہے ۔ کشمیر عظمیٰ سے بات کرتے ہوئے عبدالمجید کوہلی ، محمد لطیف لوہار اورعبیداللہ خان نے بتایا کہ پانی کی قلت سے علاقہ کے لوگ سخت پریشان ہیںلیکن تشویشناک بات یہ ہے کہ ابھی تک محکمہ صحت کی طرف سے اس سلسلے میں کوئی اقدام نہیں کیاگیا۔انہوں نے کہا کہ کہنے کو تو راجوری ضلع میں سیاسی نمائندگی افک پر ہے لیکن یہ نمائندگی کسی بھی کام کی نہیں اورلوگ بنیادی سہولیات کیلئے ترس رہے ہیں ۔باباغلام شاہ بادشاہ یونیورسٹی کے طلباء گلشن لون اور اعجاز ملک جو کرایہ پر رہ رہے ہیں ،کا کہنا ہے کہ راجوری کی مشہور یونیورسٹی بھی اسی علاقے میں پڑتی ہے جہاں پر سینکڑوں طلباء کرایہ پر رہ رہے ہیں تاہم اس سب کے باوجود انہیں پانی کی سہولیات سے محروم رہنا پڑرہا ہے۔ان کاکہناہے کہ وہ بھی پینے اور دیگر ضروریات کیلئے پانی قدرتی چشموں سے لانے پر مجبور ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ راجوری کی سیاسی قیادت کی غیر سنجیدگی اور انتظامیہ کی لاپر واہی کی وجہ سے علاقے میں پینے کے پانی کا شدید بحران پایا جارہا ہے ۔ انہوں نے ضلع انتظامیہ راجوری سے اپیل کی کہ وہ دھنور گورسیاں اور دھنور جرالاں میں پینے کا صاف پانی فراہم کرنے کے لئے اقدامات کو یقینی بنائے۔