بندے کی عافیت اسی میں ہے کہ وہ اپنے ربِ کریم کے در کا ہی فقیر بنا رہے،اسے پورے آداب و شرائط اور شعور کے ساتھ پُکارے۔دعا کی استجابت کو جلدی میں نہ دیکھ کر دوسرے آستانوں پر بندے کو آخر کیا مل سکتا ہے؟وہاں ذلت و رسوائی ہی اس کے مقدر بن سکتی ہے۔خیر اور شر کا مالک اللہ سبحانہ و تعالیٰ ہی ہے،اپنی حکمت کے تحت جسے چاہتا ہے خیر میں مبتلا کر دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے شر کی وادی میں دھکیل دیتا ہے۔بندے کی نجات اسی عقیدے میں ہے کہ ان دونوں حالتوں میں سے کسی ایک حالت میں رکھنے کی طاقت بس اُس اللہ جل و اعلٰی کو ہے جو پوری کائنات کا منتظم ہے اور جس کی تدبیروں کے پیچھے ایک بہت بڑی حکمت کام کر رہی ہوتی ہے۔یہی وہ واحد ذات ہے جو اپنے بندے کو شر کے بھنور سے نجات دلا سکتی ہے۔اللہ رب العزت ان حالتوں میں رکھ کر دیکھنا چاہتا کہ بندہ شُکر اور کُفر کے راستوں میں سے کون سا راستہ اپنے لئے مُنتخب کرے گا۔اللہ رب العزت کو ہر ایک چیز کا مختار اور قادر ماننا کوئی آسان کام نہیں ہے،جس کے لئے جان جوکھوں میں ڈالنا پڑتا ہے۔اس عقیدے توحید میں اتنی اہمیت اور اتنا طاقت ہے کہ اسے اپنانے سے انسانی زندگی میں ایک ہمہ گیر انقلاب رونما ہو جاتا ہے۔اسی اہمیت و افادیت کو مدِ نظر رکھتے ہوئے اللہ تعالٰی نے قرآنِ پاک میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس مضبوط عقیدہ توحید کو اپنانے کی تاکید ان الفاظ میں کر دی ہے:
’’اور اگر اللہ تجھ کو کسی دکھ میں مبتلا کرے تو اس کے سوا کوئی نہیں جو اس کا دور کرنے والا بن سکے اور اگر کسی خیر سے بہرہ مند کرے تو وہ ہر چیز پر قادر ہے۔‘‘(الانعام:17)
مولانا ڈاکٹر محمد اسلم صدیقیؒ اس آیتِ پاک کے ذیل میں لکھتے ہیں:
’’جو بات اس آیتِ کریمہ میں کہی گئی ہے کہ آدمی اپنے نفع و ضرر کا مالک صرف اللہ ہی کو سمجھے۔ یہ عقیدہ توحید کی آخری بات ہے اور اس کے قبول کرنے اور اسے اختیار کرلینے کے بعد زندگی مکمل تبدیل ہوجاتی ہے۔ لیکن اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اسے قبول کرنے میں تو شاید دشواری نہ ہو،مگر اس پر عمل کرنا آسان نہیں۔دنیا میں بہت سے قوت کے آستانے ہیں،بہت سے تخت اقتدار بچھے ہوئے ہیں،بڑی بڑی حویلیاں ہیں،جہاں وڈیرے کبریائی کا دعویٰ رکھتے ہیں۔انسانی برادری میں کبر و نخوت کے بیشمار دعویدار ہیں،جو دوسرے کا سر اٹھا کر چلنا برداشت نہیں کرتے اور کتنے ایسے معاشی ساہوکار ہیں،جن کے حکم کی مخالفت انسان کے معاش کو تنگ کردیتی ہے۔نتیجتاً اس کا جینا دوبھر ہوجاتا ہے۔ ایسی صورتحال میں اللہ تعالیٰ ہی کو نفع و ضرر کا مالک سمجھنا اور اس کے سوا کسی کے سامنے ہاتھ نہ پھیلانا کسی کے سامنے سر نہ جھکانا،کسی سے امیدیں وابستہ نہ کرنا اور کسی کی بندگی بجا نہ لانا،یہ بہت مشکل کام ہے۔اس لیے آنحضرتؐ کو خطاب کر کے یہ بات فرمائی گئی ہے کہ آپ اپنے سارے مقامات اور مراتب کے باوجود جب تک اس بات کا یقین پیدا نہیں کریں گے کہ آپ کے نفع و ضرر کا مالک بھی اور آپ کی امیدوں کا پورا کرنے والا بھی،صرف خداوند عالم ہے۔اس وقت تک آپ توحید میں کامل نہیں ہوسکتے۔حالانکہ آنحضرت ﷺ سے بڑھ کر موحد کون ہوگا چونکہ یہ ایک مشکل بات تھی،اس لیے بطور خاص آپ کو خطاب کر کے یہ بات کہی گئی ہے اور پھر اسی پر اکتفا نہیں فرمایا بلکہ عام انسانوں کے حوالے سے بھی قرآن کریم نے جابجا اس کا ذکر کیا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ارشادات اور دعاؤں میں بھی اسے دھرایا،تاکہ اس مشکل لیکن ناگزیر احساس کو انسانی زندگی کا چلن بنادیا جائے۔ارشاد فرمایا : ’’اللہ تعالیٰ نے جو رحمت لوگوں کے لیے کھول دی اس کو کوئی روکنے والا نہیں اور جس کو روک دے اس کو کوئی کھولنے والا نہیں‘‘۔
صحیح احادیث میں ہے کہ رسول کریم ؐ اپنی دعاؤں میں اکثر یہ کہا کرتے تھے :’’ اے اللہ!جو آپ نے دیا،اس کو کوئی روکنے والا نہیں اور جو آپ نے روک دیا،اس کا کوئی دینے والا نہیں اور کسی کوشش والے کی کوشش آپ کے مقابلہ میں نفع نہیں دے سکتی۔‘‘
امام بغویؒ نے اس آیت کے تحت حضرت عبد اللہ ابن عباسؓ سے نقل کیا ہے کہ ایک مرتبہ رسول اللہؐ ایک سواری پر سوار ہوئے اور مجھے اپنے پیچھے ردیف بنا لیا۔کچھ دور چلنے کے بعد میری طرف متوجہ ہو کر فرمایا کہ اے لڑکے!میں نے عرض کیا،حاضر ہوں۔کیا حکم ہے؟آپؐ نے فرمایا کہ تم اللہ کو یاد رکھو!اللہ تم کو یاد رکھے گا۔تم اللہ کو یاد رکھو گے تو اس کو ہرحال میں اپنے سامنے پاؤگے،تم امن و عافیت اور خوش عیشی کے وقت اللہ تعالیٰ کو پہچانو تو تمہاری مصیبت کے وقت اللہ تعالیٰ تم کو پہچانے گا،جب تم کو سوال کرنا ہو تو صرف اللہ سے سوال کرو اور مدد مانگنی ہو تو صرف اللہ سے مدد مانگو۔جو کچھ دنیا میں ہونے والا ہے،قلم تقدیر اس کو لکھ چکا ہے۔اگر ساری مخلوقات مل کر اس کی کوشش کریں کہ تم کو ایسا نفع پہنچا دیں،جو ا للہ تعالیٰ نے تمہارے حصہ میں نہیں رکھا تو وہ ہرگز ایسا نہ کرسکیں گے اور اگر وہ سب مل کر اس کی کوشش کریں کہ تم کو ایسا نقصان پہنچاویں،جو تمہاری قسمت میں نہیں ہے تو ہرگز اس پر قدرت نہ پائیں گے۔اگر تم کرسکتے ہو کہ یقین کے ساتھ اس پر عمل کرو تو ایسا ضرور کرلو،اگر اس پر قدرت نہیں تو صبر کرو کیونکہ اپنی خلاف طبع چیز پر صبر کرنے میں بڑی خیر و برکت ہے اور خوب سمجھ لو کہ اللہ تعالیٰ کی مدد صبر کے ساتھ ہے اور مصیبت کے ساتھ،راحت اور تنگی کے ساتھ،فراخی ہے۔(یہ حدیث ترمذی اور مسند احمد میں بھی بسند صحیح مذکور ہے)
اسی سے ملتا جلتا مضمون ایک دوسری آیت میں ہمیں ان الفاظ میں دیکھنے کو ملتا ہے:’’اور اگر اللہ تجھے کسی مصیبت میں ڈالے تو خود اس کے سواء اسے دور کرنے والا کوئی نہیں۔اور اگر وہ ارادہ فرمائے تیرے حق میں کسی بھلائی کا تو اس کے فضل کو پھیرنے والا بھی کوئی نہیں ہے۔وہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے سرفراز فرماتا ہے۔وہ درگزر کرنے والا رحم کرنے والا ہے۔‘‘(یونس:107)
مذکورہ تفصیلی وضاحت سے یہ بات عیاں ہوئی کہ ہمارے لئے اللہ تعالیٰ کو راضی کرنے اور کامیاب زندگی گزارنے کی واحد کنجی اپنے رب کو مسلسل پُکارنے میں ہی ہے،جس کا عملی ثبوت ہمیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور اسلاف کی زندگیوں میں دیکھنے کو ملتا ہے۔رب کے در کا فقیر بننا ایک ایسا اعزاز ہے جو قسمت والوں کو ہی ملتا ہے،جن کے دل اس یقین سے شرشار ہوتے ہیں کہ بندے کو رب کے آستانے پر ہی سب کچھ مقررہ وقت پر مل سکتا ہے،بس صبر کرنے کی دیر ہے۔وہ اس بات سے بخوبی واقف ہوتے ہیں کہ رب کے کرم و سخاوت کا دروازہ کبھی بند نہیں ہوتا،وہ مانگنے سے خوش اور نہ مانگنے سے ناراض ہوتے ہیں۔اس حقیقت کا تذکرہ ایک شاعر نے اپنے ان سنہرے الفاظ میں کر دیا ہے۔؎
(ترجمہ:’’کسی انسان سے اپنی حاجت مت مانگو اس سے مانگو جس کے کرم و سخاوت کے دروازے ہر وقت کھلے رہتے ہیں بند نہیں ہوتے،انسان اور اللہ کے درمیان تو یہی فرق ہے۔اگر اللہ سے مانگنا چھوڑ دو گے تو اللہ ناخوش ہو جائے گا اور انسان سے جب مانگو گے ناخوش ہو جائے گا۔‘‘
mail:[email protected]