خان محمد یاسراشرف
انسان سماجی جانور ہے سماج میں رہتا ہے تعلقات بناتا ہے اپنی ضرورتیں پوری کرتا ہے۔اچھے برے وقت کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور اس اچھے برے وقت میں اسے رشتے داروں کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔ویسے تو زندگی میں رشتے ملا کرتے ہیں۔مگر ایک انسانی رشتہ ایسا ہے جس میں زندگی ملا کرتی ہے اور وہ رشتہ ہے ــ’’دوستی کا رشتہ‘‘زندگی میں ہر رشتہ کی ضرورت ہے اور اس کی ایک الگ اہمیت ہے۔جس طرح پیاس لگنے پر اس پیاس کو سوائے پانی کی دنیا کی کوئی نعمت ختم نہیں کر سکتی ،اسی طرح دوست بھی ایک بڑی نعمت ہے۔ہر رشتہ کہ کچھ اصول و آداب ہے مگر دوستی ہی ایک ایسا رشتہ ہے جس کے کوئی اصول وآداب نہیں۔ہمیں اپنے رشتے داروں سے ملاقات کے وقت سوچنا ہوتا ہے کہ ان کے سامنے آیا ابھی ہنسنا ہوگا کہ نہیں بولنے سے پہلے دس بار سوچنا ہوتا ہے کہ انھیں بُرا نہ لگ جائے، ہمیں یہ بھی سوچنا ہوتا ہے کہ ہمارے آنسو ئوں کے ان کے سامنے چھپایا جائے یا بہایا جائے ۔ہمارے پہنے کھانے گھومنے اور باتیں کرنے پر انھیں اعتراض ہوتا ہے۔وہیں ایک مخلص دوست ہوتا ہے جس سے مصافحہ کرنے پر دل کی ڈور اس کے ہاتھ میں تھما دی جاتی ہے۔آنکھوں کے اشاروں سے الجھن سما دیتے ہیں اور گلے لگنے پرپوری دنیا سے چھپائے ہوئے غم کے الم لٹادیتے ہیں ۔یہاں کوئی بندش نہیں ہوتی کوئی روک ٹوک نہیں ہوتی ۔بس ہوتی ہے تو دلوں کو جوڑنے کی باتیں ،غموں کو چھوڑنے کی باتیں ہوتی ہے یہ وہ لمحہ ہوتا ہے جہاں کوئی فکر نہیں ہوتی ۔ دوست جب ملتا ہے تو وہ زندگی میں پائے جانے والے غموں کو اس اکائونٹ سے خالی کرتا ہے اور اس کی جگہ پیار محبت اورقہقہوں کو بھرتا ہے۔
ہر شخص کی زندگی میں ایک دوست کا ہونا ضروری ہے ۔جس سے وہ دل کی بات کر سکے۔اپنا درداپنا دکھ عیاں کر سکے۔اگر کسی کا کوئی دوست نہیں مانو وہ دنیا کا سب سے غریب آدمی ہے۔دوستی کی مثال چاول کی مانند ہے جتنا پرانا ہوتا ہے اتنا ہی لذیذہوتا ہے۔اور اگر دوستی کا رشتہ نہ بنا ہوتا تو انسان کبھی یقین نہیں کرتا کہ اجنبی لوگ اپنوں سے بھی پیارے ہوتے ہیں۔ــ’’ کسی پوچھنے والے نے پوچھا کہ دوستی کا مطلب کیا ہے؟بتانے والنے بتایا دوستی کا کوئی مطلب نہیں ،اسی لیے وہ دوستی ہے۔دوستی کی دجہ نہیں ہوتی، دوستی سزا نہیں ہوتی، دوستی میں دنیا داری نہیں ہوتی، دوست جان سے پیارا ہوتا ہے، دوست سے جان پیاری نہیں ہوتی۔ اس کی بہترین مثال حضور ﷺ کی حضرت ابوبکر سے دوستی کہ آپ رضی اللہ تعالی عنہ غار یار کہلائے۔نبی کے کہنے پر گھر کا سارا سامان صاف کرکے لے آئے چھوڑ آئے تو صرف اللہ اور اس کے رسول کا نام گھر میں چھوڑ آئے۔بچپن کی دوستی پچپن کے آگے بھی چلتی ہے۔
میں ان خوش نصیبوںمیں سے ہوں جنھیں اللہ نے بہترین دوستوں سے نوازا ۔جو میرے ہر خوشی اور ہر غم میں میرا ساتھ دیتے ہیں۔میرا کوئی دوست مفاد پرست نہیں،صرف مخلص محبتی اور ہمدرد ہے۔ مگر دنیا میں چند ایک دوست ایسے بھی ہوتے ہیں جو اپنی ضرورت آپ کے ذریعے پوراکرنے آتے ہیں اور جوں ہی آپ سے کوئی مطلب نہیں رہتا ،ایسا غائب ہوتے ہیں جیسے گدھے کے سر سے سینگ۔ابھی حال کی بات ہے میرے ایک عزیز دوست کی طبیعت بہت ہی زیادہ خراب ہوگئی اس نے اپنی ملازمت سے میڈیکل لیو لی تقریبا چالس دن کی اس دوران دفتر کے کسی بھی شخص نے اس سے ملاقات نہیں کی، حالانکہ وہ ان کے ساتھ ہر روز آٹھ آٹھ گھنٹے کام کرتا ہے۔اللہ نبی نے بتایا ہے کہ تیمارداری کرنے پر ستر ہزار فرشتے عیادت کرنے والے کے لیے دعائے مغفرت کرتے ہیں۔صرف یہ بے حسی ہمارے معاشرے میں پائی جا رہی ہے۔ اور دفتر سے رخصت لینے پر باس کے علاوہ دیگر احباب بھی دوری بنائے رکھتے ہیں۔کبھی ہم ان کے لیے بھاگ دوڑ کرنے والے وہ ہمارے اور ہم ان کے ہم نوالہ ایک دم سے اجنبی بن جاتے ہیں ۔ایسی ہم نشینی کس کام کی جو وقت کرنے پر حاضر نہ ہو ،جو دکھ کی گھڑی میں ساتھ نہ ہو، دھوپ میں سایہ نہ ہو،غم میں دلاسہ نہ ہو۔شایداسی لیے احمد فراز نے یہ غزل کہی ہوں کہ
دوست بن کر بھی نہیں ساتھ نبھانے والا
وہی انداز ہے ظالم کا زمانے والا
تم تکلف کو بھی اخلاص سمجھتے ہو فراز
دوست ہوتا نہیں ہر ہاتھ ملانے والا
آخر میں معاشرے کے معزز احباب سے گزارش ہےکہ وہ اپنے اندر انسانیت ہمدردر ی پیدا کرےاور یہ چیزیں آپ میں ہیں تو اپنے ماتحتوں میں اس تعلق سے بیداری پیدا کرے۔
�������������