انسانی فطرت میں ’بھول جانا‘ یا واقعات کا تحلیل ہونا بدرجہ اتم موجود ہے۔شایدایسا اس لئے ہے تاکہ انسانی سفر جاری رہ سکے اور فنا کی حقیقت پر مسلسل پردہ بنا رہے اور یہ فنا ایک نسل سے دوسری نسل تک منتقل ہوتی رہے۔صنعتی انقلاب سے، جب سے دنیا کے بارے میں ایک کے بعد ایک ترقی کے زینے طے کرنے کا دعویٰ کیاجاتا ہے،کئی بین الاقوامی مسائل نے سر نکالا۔ان مسائل میں چھوٹے اقتصادی نوعیت کے مسائل بھی شامل تھے اور بعض دو عالمی جنگوں کے جیسے سنگین مسئلے،جن کی وجہ سے لوگوں کو بھاری تباہیوں کا سامنا کرنا پڑا یہاں تک کہ اُن کی زندگیاں ہی بدل کر رہ گئیں۔اس دوران کچھ وبائی بیماریاں بھی پھوٹ پڑیں لیکن ایک کے بعد ایک آنے والی یہ ساری بلا ئیں ٹلیں تو دیکھا گیا کہ زندگی بالکل بے اثر تھی اور اس کا پہیہ لگاتار معمول کی طرح چرخے کھا رہا تھا۔بلائوں کے متاثرین کو اس کی تلخیاں کچھ دیر ضرور ستاتی رہیں، لیکن باقی ماندہ دنیا اپنے میں مست و مگن تھی اور اس پر جیسے کوئی اثر نہیں پڑا تھا۔
حادثات اور آفات کا احاطہ اس بات کو طے کرتا ہے کہ اس کا اثر کہاں تک محسوس کیا جائے۔متاثرین جتنے زیادہ ہوں، اثر اُتنا ہی سنگین دکھائی دیتا ہے۔ اور پھر یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ کسی مخصوص خطے کے اندر بار بار مسائل درپیش آنے سے حالات کا اثر باہری دنیا کیلئے زائل ہوتا ہے اور وہ توجہ کا مرکز نہیں رہتا ہے کیونکہ موجودہ دنیا ، جوذرائع ابلاغ کے اثر میں رہتی ہے، نئی چیزوں اور خبروں کو زیادہ اہمیت دیتی ہے، جس کے نتیجے میں ایک ہی خطے میں پیش آنے والے ایک ہی نوعیت کے واقعات کو زیادہ دیر تک اہمیت نہیں ملتی ہے، یا ایسا جان بوجھ کر بھی کیا جاتا ہے۔
مثال کے طور پرکشمیر کو لیا جاسکتا ہے جہاں بندشیں ،لاک ڈائون اور ہلاکتیں کوئی نئی باتیں نہیں ہیں۔ دیکھا جائے تو یہاں گذشتہ برس جو سیاسی بھونچال آیا اُس کا اثر طویل عرصے تک محسوس کیا جائے گا، بلکہ اُس کے نتائج کافی دیر پا ہیں، اور اس کی ٹیس یہاں کے لوگوں میں لگاتار جاری ہے ۔ لیکن اب جب پوری دنیا ہی لاک ہے تو کشمیریوں کی واویلا کون سنے ؟بھلا جب نیو یارک کے بروکلین برج ، پیرس کے پلیس ڈی لا کانکورڈ، روم کے سینٹ پیٹرز اسکوئیر،مین ہاٹن اور اوہان جیسے عالمی مراکزمیں سناٹا چھایا ہے تو سرینگر کے لالچوک کی کیا حیثیت ہے! لیکن کشمیریوں کو جو بات چبھ رہی ہے وہ یہ ہے کہ دنیا کے ہر ملک کیلئے موجودہ صورتحال وقتی ہے لیکن کشمیری اس جیسی صورتحال کا سامنا دہائیوں سے کررہے ہیں۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ ہر بحرانی کیفیت کے بعد کے اقتصادی فیصلے بڑے اہم ہوتے ہیں اور یہ عام لوگوں کو ہی نہیں بلکہ ملکی معاملات کو بھی متاثر کرنے کی اہلیت رکھتے ہیں تاہم یہ فیصلے، جو بازاروں یعنی تجارت پر منحصر ہوتے ہیں، بھی فوری طور پر اپنے اثرات نہیں چھوڑتے ۔2008کی کساد بازاری ، جس نے وال اسٹریٹ کو بھی گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کردیا، بھی کوئی خاص تبدیلی رونما نہ کرسکی۔عام لوگوں کی خواہشات وہیں کی وہیںرہیں،زیادہ سے زیادہ خرچ کرنا،بہتر سے بہتر سماجی زندگی کا حصول،اعلیٰ صحت سہولیات،تعلیم،تفریح اور نقل و حرکت وغیرہ۔منصوبہ بندی کا نظام تاہم سوچ اور وقت کے ساتھ بدلتا رہتا ہے،کبھی کبھی پرانی پالیسیاں پھر سے فیشن میں آجاتی ہیں اور نئی بدنام ہوجاتی ہیں، منصوبہ بندی کے نظام میں سوچ اور فکر کی یہ تبدیلیاں فطری ہیں۔
دنیا میں آج تک کی سبھی یاد گار تبدیلیاں اچانک رونما نہیں ہوئی ہیں اور نہ اُن کے پیچھے حادثے یا قدرتی آفات کے ہاتھ کار فرما تھے۔بے شک ایسی تبدیلیاں انسانی کوششوں اور کاوشوں کا نتیجہ ہوتی ہیں لیکن ان کے وقوع پذیر ہونے میں کافی وقت درکار ہوتا ہے اوریہ ایک پراسیس کا نتیجہ ہوتا ہے۔ماضی قریب میں دنیا نے حکمرانی اور سیاسی نظام میں دو اہم تبدیلیاں پائیں، اول سوشلزم اور دوم فسطائیت۔دونوں کسی بحران کا نتیجہ نہیں بلکہ طویل المدتی عوامل کا آہستہ سے حاصل ہونے والانتیجہ تھا ،بلکہ یوں کہا جائے تو بہتر ہوگا کہ یہ سیاست اور معیشت کے اجسام پر موجود زخموں سے نکلنے والی پیپ کو روکنے کا عمل تھا۔حالانکہ یہ عمل بھی سیاست اور معیشت کے جسم سے نکلنے والی پیپ کی صرف بو کو تبدیل کرسکی ، زخموں کو مندمل کرنے اور اُن سے نکلنے والی پیپ کو روکنے میں یہ عمل بھی بری طرح ناکام رہی۔
کورونا وائرس، پوری دنیا کو درپیش تازہ ترین بحران ہے جو سبھی ممالک کو انتہائی بری طرح متاثر کررہا ہے۔اس مہلک وائرس کے پھیلائو کو روکنے کیلئے عالمی ادارۂ صحت نے اس کو پہلے ہی عالمی وبا قرار دے رکھا ہے ۔ خوف و دہشت میں مبتلاء کم و بیش پوری دنیا لاک ڈائون میں ہے اور ہر قسم کی سرگرمیاں معطل ہیں۔ کم و بیش دو ماہ کا عرصہ گذر گیا لیکن جدید ٹیکنالوجی پر فخر کرنے والی انسانیت بالعموم اور اپنے آپ کو دنیا کے تھانے دار سمجھنے والے ممالک بالخصوص ، بھی نہیں جانتے ہیں کہ یہ سلسلہ کہاں تک چلے گا یا یہ صورتحال دنیا کو کہاں لیجائے گی۔حقیقت یہ ہے کہ پوری سائنسی دنیا کی پول کھل چکی ہے اوریہ بات پایہ ثبوت کو پہنچ گئی ہے کہ ایک وائرس کے نتیجے میںپیدا ہونے والی صورتحال کیلئے جدید دنیا بالکل تیار نہیں تھی۔میڈیکل شعبہ بھی اس وائرس کے بارے میں زیادہ نہیں جانتا ہے کہ یہ کتنی قوت رکھتا ہے،اس کا علاج کیا ہے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ بچائو کیسے کیا جائے۔متعلقہ شعبے میں اس بات کو لیکر بھی شدیداختلافات پائے جاتے ہیں کہ یہ وائرس کہاں سے آیا اور اس کی پہچان کیا ہے۔دنیا کی دوا سازی کی منڈی چاہتی ہے کہ ایک نئی دوا تیارہو یا ایک نیا ویکسین بنایا جائے لیکن آثار و قرائن بتارہے ہیں کہ اس میں ابھی کافی وقت درکار ہے۔
آثار و قرائن یہ بھی بتارہے ہیں کہ کورونا وائرس سے پیدا بحران سنگین نوعیت کاہے اور اس سے نمٹنے اور اس پر قابو پانے کیلئے کافی وقت درکار ہوگا۔اس دوران لوگوں کا روزگار چھن جائے گا،آمدن کو دھچکہ پہنچے گا اور کروڑوں لوگوں کو جینے کے لالے پڑ جائیں گے۔یہ معاشی بگاڑ اُس کساد بازاری سے بالکل مختلف ہوگا جس کا دنیا کو تجربہ ہے۔عین ممکن ہے کہ موجودہ صورتحال کم سے ایک سال تک چلے جس کے نتیجے میں نہ معلوم کتنے کمزرو کچلے جائیں گے، کتنوں سے کتنے سمجھوتے کروائے جائیں گے اور معیشت کو بچانے کیلئے کتنے انسانوں یا اُن کے مفادات کو قربان کیا جائے گا! یہ سب ہوگا اور ماہرین کے مطابق ایک سال کا عرصہ گذر جانے کے بعد ہی عالمی سطح پر معمولات بحال ہوںگے، اقتصادی سرگرمیاں پٹری پر آجائیں گی اورساتھ ہی اُن نئی سرگرمیوں کے مثبت نتائج کی زور دار نمائش ہوگی۔ اس نمود و نمائش کے بل پر لوگوں کی یادداشت سے کورونا وبا ء کی یادیں پھیکی پڑنا شروع ہوجائیں گی اور تجارتی مبصرین کا طرز عمل ایسا ہوگا جیسے کچھ ہوا ہی نہیں تھا۔
معمول کے حالات میں بیماری ایک ذاتی معاملہ ہے اور اس کا مقابلہ ہر بیمار اکیلے کرتا ہے، لیکن کورونا کے عالمی وباء نے ہمیں اجتماعی طور الگ تھلگ کرکے ایک ایسی صورتحال میں ڈال دیا ہے جہاں ہم اکیلے پن میں بھی اکیلے نہیں ہیں۔ فی الحال ہم سب خوف کے مارے سماجی فاصلے بنائے رکھنے پر کاربند ہیں، ہمیں معلوم نہیں کہ مابعد کورونا ہماری اجتماعی زندگیاں کیسی ہونگی کیونکہ ہماری ذاتی زندگیوں میں بدلائو پہلے سے ہی ظاہر ہونا شروع ہوگیا ہے۔
بھارت میں محض 23فیصد کے آس پاس لوگ ہی ایسے ہیں جو سرکاری تنخواہوں پر منحصر ہیں، باقی ماندہ بھاری آبادی کی آمدن پر خدشات ہیں۔بالفاظ دیگر سرکاری ملازمین اور کامگار طبقے کے درمیان فاصلہ مزید بڑھنے کا امکان ہے۔ معاشی نابرابری اس حد تک بڑھ سکتی ہے کہ یہ ناقابل برداشت ہوجائے گی۔یہ صورت سماج کو کس طرح اثر انداز یا متاثر کرے گی؟ اس کے بارے میں غیر جانبدار ماہرین کوسوچنے سے ہی ڈر لگتا ہے ۔بتایا جاتا ہے کہ جب معاشی اور سماجی سرگرمیاں بحال ہونگی تو ہمارے آس پاس کی دنیا نقدی کی کمی محسوس کرے گی، تواضع، شہری ہوا بازی،سیاحت جیسی صنعتیں بگاڑ کا شکار ہونگی جس سے کامگار طبقے کو کافی متاثر ہونا پڑے گا۔
کئی تجزیہ نگار وں کا یہاں تک کہنا ہے کہ کورونا وائرس سے پیدا صورتحال دنیا میں طاقت کے توازن کو تبدیل کرے گی۔اس بہت بڑی بات پر کوئی تبصرہ کئے بغیر تاہم کورونا سے پیدا صورتحال کے نتیجے میںہمارے یہاں کی سماجی زندگیوں ،روایات اور رہن سہن میں جو تبدیلیاں عالم ممکنات میں شامل ہیں اُن میں شادی بیاہ کی تقریبات بھی شامل ہیں۔ خاص کر وادی کشمیر میں چار افراد کا ایک ہی برتن (ترامی) میں دعوتوں کی لذتیں حاصل کرنے کی روایت کا مستقبل خطرے میں مبتلاء ہے ۔ ہمارے یہاں کے عام لوگ حفظان صحت کو لیکر حساس ہونگے اور گلے لگنے یا ہاتھ ملانے کی رسومات بھی تاریخ بننے والی ہیں۔ ماہرین نفسیات کا کہنا ہے کہ عام لوگوں کی زندگیاں خدشات کا شکار ہونگی،ذہنی تنائو بڑھ جائے گا اور ہم ایسے سماج کا حصہ ہونگے جس میں خوف، ڈر اور النفسی کا عنصر غالب ہوگا۔
جب کورونا وائرس نے دنیا پر ہلہ بول دیا، تب اہل کشمیر اپنی خصوصی آئینی پوزیشن کے چھن جانے کے ماحول میں تھے۔ لوگ خدشات اور اُمیدوں کے دھوپ چھائوں میں ہی ہاتھ پائوں مارنے میں مصروف تھے کہ اُنہیں وبائی صورتحال نے آگھیرا۔ کشمیری عوام کیلئے ماہرین نفسیات و سیاسیات اس بات کو لیکر متذبذب ہیں کہ حالات جب معمول پر آئیں گے تو وہ کس طرح کا برتائو کریں گے؟کیا وہ اُور اُن کی سیاسی قیادت نئی صورتحال کو قبول کرے گی ؟جس کا دوسرا نام کچھ لوگ ’’سرنڈر‘‘کہتے ہیں یا وہ اپنے حقوق کی خاطر تگ و دو جاری رکھیں گے، جس کو موجودہ مرکزی حکومت میں ’’بغاوت‘‘ تصور کیا جائے گا۔