بلال فرقانی
سرینگر//جموں و کشمیر کی موجودہ سیاسی صورتحال کے درمیان اپنی پارٹی کے صدر سید محمد الطاف بخاری نے جمعہ کو نیشنل کانفرنس اورپی ڈی پی کو ریاستی درجہ، دفعہ 370اور عوامی مسائل پر گمراہ کن سیاست کا ذمہ دار ٹھہرایا، اور کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ عوام کو سچ بتایا جائے۔ پارٹی ہیڈ کواٹر پرایک تقریب کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے الطاف بخاری نے کہا ’’ہم بھارت کے خلاف نہیں بلکہ بی جے پی کی پالیسیوں کے خلاف ہیں‘‘ اور الزام عائد کیا کہ ملک میں مذہب کی بنیاد پر سیاست نہیں ہونی چاہیے کیونکہ بھارت ایک سیکولر ملک ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیشنل کانفرنس اور پی ڈی پی نے ریاستی درجہ اور دفعہ 370کے معاملے پر عوام کو دھوکہ دیا ہے۔انہوں نیعوامی الائنس برائے گپکار اعلامیہ کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا’’کہاں ہے 370، کہاں ہے 35A، کہاں ہے ریاستی درجہ؟ یہ سب عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے مترادف ہے۔‘‘ بخاری نے کہا ’’سچ کو سامنے آنا چاہی‘‘ اور عوام کو ان تمام سوالات کے جواب ملنے چاہئیں۔ انہوں نے زور دیا کہ جموں و کشمیر کے عوام اب باشعور ہو چکے ہیں اور وہ حقیقی قیادت کا انتخاب کریں گے۔
ریزرویشن اور روزگار
ریزرویشن پالیسی پر بات کرتے ہوئے بخاری نے آبادی کے تناسب سے ملازمتوں کی تقسیم کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر کسی طبقے کی آبادی 70 فیصد ہے تو اسے اسی تناسب سے ملازمتوں میں حصہ ملنا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ پالیسی میں شہری نوجوان سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ریزرویشن آبادی کے تناسب اور ڈویژنوں کی سطح پر ہونا چاہے۔
نوجوانوں کی شمولیت
بخاری نے کہا کہ آج بھی نوجوانوں کو حساس مواقع جیسے 15اگست اور 26جنوری سے قبل تھانوں میں طلب کیا جاتا ہے، جسے بند کیا جانا چاہیے کیونکہ کشمیری عوام امن چاہتے ہیں۔ انہوں نے مرکز سے اپیل کی کہ وہ کشمیری نوجوانوں کے ساتھ بات چیت کرے۔انہوں نے کہا’’آپ پاکستان سے بات کریں یا نہ کریں، ہم اس کی وکالت نہیں کرتے، لیکن کشمیری نوجوانوں سے بات ضرور کریں۔‘‘
سابق حکومتوں پر سنگین الزامات
اپنی پارٹی کے سربراہ نے محبوبہ مفتی کو2016اور عمر عبداللہ کو2010کے ادوارِ حکومت میں نوجوانوں کی ہلاکتوں کا حوالہ دیتے ہوئے انہیں ذمہ دار قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ان ادوار میں درج ایف آئی آر آج بھی نوجوانوں کا پیچھا کر رہی ہیں اور وہ عدالتوں کے چکر لگانے پر مجبور ہیں۔