سرینگر/بلال فرقانی/قومی تحقیقاتی ایجنسی نے انسانی حقوق کے معروف کارکن خرم پرویز کو گرفتار کیا ہے۔ ایجنسی سے پیر کی صبح اُن کی رہائش گاہ اور دفتر پر چھاپے مارے۔ سوموا ر کو این آئی اے کی ٹیم نے پولیس اور سی آر پی ایف اہلکاروں کے ہمراہ خرم پرویز کے امیراکدل سرینگر میں واقع دفتر اور سونہ وار میں انکی رہائش گاہ پر چھاپے مارے ۔ این آئی اے ٹیم نے رہائش گاہ اور دفتر کی باریک بینی سے تلاشی لی اور وہاں سے اُن کے لیپ ٹاپ، دیگر الیکٹرانک اشیاء اور موبائل فون کے علاوہ انسانی حقوق سے متعلق تیار کی گئی رپورٹیں اپنی تحویل میں لیں۔ اہل خانہ کا کہنا ہے کہ این آئی اے نے انہیں خرم پرویز کی گرفتاری سے متعلق میمو دیا اور انہیں اس بات کی جانکاری دی کی ختم پرویز کو دلی منتقل کیا جارہا ہے۔ واضح رہے کہ گزشتہ برس بھی ایجنسی نے خرم پرویز کی بینک تفاصیل اور دیگر دستاویز جانچ کے لیے اپنے قبضہ میں لیے تھے۔خرم پرویز عالمی شہرت یافتہ انسانی حقوق کارکن ہیں جنہیں اب تک کئی بین الاقوامی اعزازات سے نوازا جاچکا ہے۔ خرم پرویز کو حکام نے 2016 میں اس وقت حراست میں لیا تھا جب کشمیر میں حزب المجاہدین کے کمانڈر برہان وانی کی ہلاکت کے بعد بڑے پیمانے پر مظاہرے ہوئے تھے ۔