کورونا وائرس کی وجہ سے چونکہ پوری دُنیا میں سرکاری و غیر سرکاری ادارے بند پڑئے ہوئے ہیں۔ اس لئے آن لائن خد مات کی اہمیت عالمی سطح پردو چند ہوجاتی ہے۔ آج پوری دنیا میں طلباء کے لئے آن لائن کلاسز دئے جانے کا عمل تواتر سے جاری ہے۔اکثر سرکاری و غیر سرکاری دفاترمیں ویڈیو کانفرسوں کے ذریعے سے دفتری کام انجام دیا جارہا ہے بلکہ آن لائن سسٹم ایک پُل کی حیثیت سے سرکار اور عوام کے درمیان اُبھر کر سامنے آگیاہے لیکن بد قسمتی سے کشمیریوں کے لئے ابھی سرکاری سطح پر ایسی کوئی سہولت دستیاب نہیں۔وجہ صاف ظاہر ہے کہ4Gانٹر نیٹ نہ ہونے کی وجہ سے ایسا ہونا ابھی ناممکن لگ رہا ہے۔بہت سارے کشمیری طلباء آن لائن کلاسز لینے کے دوران مشکل سے ہی اپنے اساتذہ کی دُھندلی سی تصویر دیکھ سکتے ہیں کیوںکہ 2G انٹر نیٹ کے ہوتے ہوئے ویڈیو کال صرف وقت کا زیاں ثابت ہوچکی ہے تو پھر اسا تذہ آیڈیو لیکچرس کا سہارا لے کر بچوں کو پڑھا رہے ہیں۔والدین با لخصوص پڑھی لکھی مائیں کورونا کے چلتے گھروں میں اپنے بچوں کا خاص خیال رکھتی ہیں لیکن ناخواندہ والدین کے بچوںکا خُدا ہی حافظ۔یہ بچے لاک ڈائون میں تعلیم و تربیت کے سلسلے میں بہت زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔ان بچوں کے گھروں میں نہ ہی تعلیم و تر بیت کا انتظام ہوتا ہے اور نہ ہی آن لائن کلاسز کی سہولت تک ان کی رسائی ہے۔
معلومات تک رسائی
گزشتہ دو ہفتوں سے میں مسلسل لوگوں کی ٹیلیفون کالزلیتا ہوں جوRTIایکٹ کے تحت حکومت کی سرگرمیوں سے متعلق انفارمیشن حاصل کرنا چا ہتے ہیں۔ لوگوں کا یہ استفسار حق بجانب ہے کہ وہ حکومتی سرگرمیوں سے متعلق معلومات حاصل کرناچاہتے ہیں۔ ان میں سے اکثر معلومات کا جاننا لوگوں کے لئے بہت ضروری ہے باالخصوص کووڈ۔19آفت پر صرف ہونے والے فنڈس کے اعداد وشمارسے متعلق واقفیت ہونا ،مفت راشن کی تقسیم،ادویات کی فراہمی، حیات بخش ادویات کی فراہمی،N۔95 ماسکوںکی دستیابی،سینیٹائزرس اوردوا فروشوں پر دستانوں کی فراہمی کے بارے میں لوگوں کا جا ننا بہت ضروری ہے۔کوئی نہیں جانتاہے کہ کیسے سر کاری سر گر میوں سے واقفیت حاصل کی جاسکے کیوںکہ دفاتر بند پڑے ہوئے ہیں،سڑکوں سے ٹرانسپورٹ غائب ہے۔ اِن حالات میں صرف آن لائن موڈ کے معلومات کی فراہمی واحد ایک ذریعہ ہے جس ے معلومات کی ترسیل یقینی بن سکتی تھی تاہم افسوس کے ساتھ کہنا پڑرہا ہے کہ یہاںجموںوکشمیر میںفی الوقت یہ سہولیات میسر نہیں ہیں جبکہ اس کے برعکس مرکزی سرکار کے بہت سارے دفتروں میں یہ سہولت گُزشتہ چندبرسوںسے باضا بطہ طورنافذ العمل ہے۔ملک کی بہت ساری ریاستیں جیسے مہا راشٹرا،دہلی،،تلنگانہ،اورآندھرا پردیش اپنے اپنے مخصوص نامزد پورٹل کے ذریعے صرف دس روپے کے عوض آن لائن آر ٹی آئی در خواست وصول کر تی ہیں اور در خواست گزار کے بنک کھاتوں سے فیس کی ادائیگی بالکل ایسے ہی وصول کی جاتی ہے جس طرح شاپنگ مالوں میں گا ہکوں سے پیسے وصول کئے جاتے ہیں۔ایک طرف جموں و کشمیر مرکزی زیر انتظام علاقہ قرار دیاگیاتاہم دوسری جانب مرکزی سرکار کی جانب سے دی جانی والی سہولیات ابھی مرکزی زیر انتظام کشمیرمیں دستیاب نہیں ہیں۔آن لائن آر ٹی آئی درخواست داخل کرنے کی سہولت ان میں سے ایک مثال ہے۔
آن لائن RTIدرخواست اور عدالت عظمیٰ
گزشتہ سال سپریم کورٹ نے حق اطلاعات قانو ن کے تحت دستی درخواستیں جمع کرنے کی بجائے آن لائن درخواستیں جمع کرنے کی خاطر مرکزی اور ریاستوں کی سطح پر آن لائن پورٹل قائم کرنے سے متعلق ہدایات دینے سے متعلق عرضی پر مرکزی سرکار کے ساتھ ساتھ پچیس ریاستوں کوجواب دینے کیلئے ایک مہینے کی مہلت دی تھی موجودہ کووڈ۔19 کی اس عالمی آفت میں آن لائن سسٹم کا ہونا لازمی بن گیاہے تاہم افسوس یہ کہ ریاستوں نے عدالت عظمیٰ کو مطلع کرنے کی زحمت گوارا نہیں کی۔جسٹس این وی ورما،سنجیو کھنا اور کرشن مرارے پر مشتمل کے ایک بینچ نے گزشتہ سال اکتوبر میں اس کیس کی سماعت کے دوران ریا ستوں کے خلاف سخت ناراضگی کا اظہار کیا کیونکہ وہ26 اگست 2019کو مرکزی سرکار اور ریاستی سرکاروں کے نام جاری کئے گئے نوٹس کی تعمیل میں ناکام رہی تھیں۔جموں و کشمیر بھی باقی ریاستوں کے ساتھ ساتھ عدالت عظمیٰ کو آگاہ کرنے میں ناکام رہی تھی۔اس ضمن میں مفاد عامہ کی عرضی دہلی نشین ایک غیر سرکاری رضا کار تنظیم پرواسی لیگل سیل نے دائر کی تھی۔عرضی میں کہاگیا تھا کہ مرکز نے ایک آن لائن آر ٹی آئی پورٹل قائم کیاہے جس میں کوئی بھی بھارتی شہریت بشمول غیر مقیم بھارتی شہری آر ٹی آئی کے تحت کسی بھی وزارت سے معلومات کے حصول کیلئے درخواست دے سکتا ہے ۔قابل ذکر ہے کہ مرکزی سرکار نے 2013ء میںتمام ریا ستوں کو آن لائن پورٹل کی سہولت دستیاب رکھنے کے امکانات کا جائزہ لینے کے سلسلے میں تحریری طورآگاہ کیا تھالیکن چند مٹھی بھر ریاستوںنے ہی اس پر عمل کیا۔
ماسک اور دستانوں کی کالابازاری
حق اطلاعات قانون2005 کی دفعہ4(1)(b)کے تحت سبھی سرکاری محکمہ جات کو اس بات کا مکلف ٹھہرایا گیا کہ وہ رضاکارانہ طور اپنے اپنے محکمہ جات کی کاروائی اور ضروری معلومات عوام تک پہنچانے میں کسی قسم کا بخل نہ کریں۔سرکاری محکمہ جات کی سرگرمیوں سے متعلق آگاہی رکھنا عام لوگوں کے لئے بہت ضروری ہے۔ابھی کچھ دِن پہلے وادی میں قائم کمسٹس اینڈ ڈرگسٹس کی ایک ایسو سی ایشن نے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو جاری کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر میں ادویات ،ماسک اور دیگر اہم چیزوں کی کوئی کمی نہیں ہے۔ اسکے برعکس عام لوگوں کوN95 ماسک اوردستانے مہنگے داموں خریدنے پڑرہے ہیں۔ماسک کی قیمت اگرچہ 95روپے سرکاری نرخ نامہ کے مطابق بتائی جاتی ہے تاہم بازار میں یہی ماسک مبلغ 270 یا 300روپے میں فروخت کی جاتی ہے جبکہ دستانوں کومقرر ہ قیمت سے تین گنا زیادہ قیمت پر بیچا جارہاہے۔ عوام کو وِڑ۔19کی اس عالمی آفت کے دوران حق اطلاعات قانون کے تحت ضروری سامان و ادویات اور انکی قیمتوں کے بارے میں معلومات حاصل کرنا چا ہتے ہیں۔ کیا اسکا مطلب پھر یہ ہوا کہ لوگوں کو کورونا کے اس لاک ڈائون کے دوران اطلاعات کی فراہمی کے حق تک رسائی حاصل ہی نہیں؟ ۔
حاصل کلام
بہت سرکاری محکمہ جات کو وڈ۔19سے نمٹنے کے لئے خطیر رقوم خرچ کر رہے ہیں لیکن کون جانتا ہے کہ کتنی رقم خرچ ہوئی اور کہاں خرچ ہوئی؟۔اُمید کرتے ہیں کہ شفا فیت اور دیا نتداری سے خزانہ عامرہ سے حاصل ہونے والی یہ خطیر رقوم خرچ کی جاتی ہو لیکن دُکھ اس بات کا ہے کہ سرکاری افسران خود اپنے ساتھیوں پر فنڈس خرد برد کرنے کے الزام لگا رہے ہیں۔ میں نے ذاتی طور سرکارسے گزارش کی ہوئی ہے کہ روزانہ بنیادوں پراخراجات کی تفصیلات آن لائن پورٹل پر دستیاب رکھیں جوروزانہ کی بنیادوںپر اپ ڈیٹ بھی ہورہا ہو۔حق اطلاعات قانون2005کی دفعہ4کے تحت سرکاریں اس چیز کی قانونی طور ملکف ہیں کہ وہ رضاکارنہ طور پر کلاسیفائیڈ طرز کی معلومات کو چھوڑ کر دیگر تمام طرح کی معلومات پورٹل پر لوگوںکیلئے دستیاب رکھیں۔لازمی سروسز محکموں سے جڑے ملازمین بھی الزام لگارہے ہیںکہ کیمیکل اور دیگر اہم ضروری سامان ان کے سینئر افسران اِن دنوں بہت ہی مہنگے داموں خرید رہے ہیں۔اگریہ صرف ایک جھوٹا دعویٰ ہے تو سرکار کو از خود گزشتہ ایک مہینے میں خریدے گئے سامان اور ادویات کی تفصیلات پیش کرنے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کرنا چا ہئے۔اگر عام لوگوں کو سرکاری دفتروں تک رسائی حاصل نہیں ہے اور آر ٹی آئی درخواست داخل کرانے کی سہولت بھی دستیاب نہیں تو پھرکون ساراستہ اختیار کیا جا سکتا ہے جس سے معلوما ت کا حصول آسان بن جائے۔واحد حل ایک آن لائن آر ٹی آئی پورٹل شروع کرناہے جو عمومی انتظامی محکمہ کی ویب سائٹ سے منسلک ہو۔جب تک اس چیز کو ممکن بنایاجاتا ہے،اُس وقت تک میں جموں و کشمیر اور باقی ریاستوںکے رہنے والے ناراض لوگوں کومیں یہ صلح دیناچاہتا ہوں کہ وہ مرکزی حکومت کے عوامی شکایات سے متعلقہ محکمہDoPTکی آر ٹی آئی پورٹلwww.rtionline.gov.inکا استعمال کرسکتے ہیں۔ DoPT محکمہ متعلقہ ریاستوںو مرکزی انتظام والے علاقوں تک آر ٹی اے درخواست بھیجے گا۔مجھے یقین ہے کہ عام لوگ اس سے تھوڑی سی راحت محسوس کریںگے۔سرکار اپنے شہریوں کو آن لائن طرز پر حقِ انفار میشن کی رسائی سے محروم نہیں رکھ سکتی ہے۔لیفٹنٹ گورنر اور چیف سیکر یٹری کو اس حوالے سے سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔
(مضمون نگار جموں وکشمیر آر ٹی آئی مومنٹ کے بانی چیئرمین ہیں اورقارئین کی دلچسپی کیلئے آصف اقبال شاہ نے انگریزی سے مضمون کا ترجمہ کیا ہے )