مینڈھر//دارالعلوم محمودیہ قاسم نگر مینڈھرکے زیرِاہتما م سالانہ اصلاحی مجلس کاانعقاد کیاگیا،اس موقع پر طلبائے دارالعلوم محمودیہ نے ایک خوبصورت پروگرام پیش کیا، جس سے سامعین محظوظ ہوئے،بعد ازاں مولاناغلام محی الدین صاحب قاسمی مدظلہ نے اخلاق نبویؐ سے متعلق دل آویزخطاب فرمایا،اس موقع پر ریاست کے قاری محمدصادق ضیائی نے مختلف زبانوں میںنعتہائے نبوی ﷺکاگلدستہ پیش کرکے مجمع میں عشق ووفا کاسماں باندھ دیا،بعدازاں رئیس الواعظین فی الہند حضرت مولانامحمدفاروق صاحب مدنی فاضل مدینہ یونیورسٹی واستاذحدیث وتفسیر جامعہ اسلامیہ اشاعت العلوم اکل کوا نے انتہائی پرمغز اور جامع خطاب فرمایا جس میں قرآن وسنت کی ہمہ گیری اورہمہ جہت ہونے کوبیان فرمایا،شریعت ،طریقت اور سیاست ،جدیدتحقیقات کی روشنی میںحقانیت اسلام،علماء اور حفاظ کا مقام،فکرآخرت، توحیدورسالت کی عظمت،طریقہ اسلاف کی اہمیت وحقانیت،عمدہ نصائح ،عشق نبوی میں ڈوب کر تعلیمات نبوی کاسنگھم گلدستہ پیش فرمایا،وسعت عقل وعلم کاکماحقہ صحیح استعمال کرنا ایک اہم ذمہ داری گردانا،اسلام ایک ہمہ جہت اورمعتدل مذہب ہے اسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے مولاناموصوف نے ابنِ خلدون کے حوالے سے ایک بہت ہی قیمتی اور رگِ حمیت کو بھڑکانے والا جملہ ارشاد فرمایا:جوقوم اپنی تہذیب رکھتے ہوئے دوسروں کی تہذیب اختیار کرے وہ اپنی غلامی اور بھکاری ہونے کا اعتراف کرتی ہے،،نیز مولاناموصوف نے فرمایا کہ قوموں میںمت بٹو،تعصب کینہ بغض حسد ،حسب ونسب پر فخریہ سب چیزیںاعمال کو ختم کردیتی ہیں،انہوں نے مثال دے کرسمجھایاکہ اگر ٹنکی میں پانی کو بھرتے رہو،اور اسمیں کوئی سوراخ ہو تو بھرائی کے باوجودخالی ہی رہے گی،اسی طرح اگرنماز،روزہ ،صدقات وغیرہ کی تو ادائیگی ہو لیکن حسد،کینہ،بغض اورحسب ونسب پر فخر کا سوراخ ہو تویہ سب آخرت میں رائیگاں جائیں گی،لہذا اپنی صفوں میں اتحاد واتفاق پیدا کرنے اور تعلیمات نبویﷺ کو حرزِ جاں بنانے کی ضرورت ہے۔جلاس میں شرکت کرنے والے حضرات میں گجرات سے تشریف لائے ہوئے مہمان عالم دین حضرت مولانا حفظ الرحمان صاحب،چوہدری میرمحمد صاحب،ضلع بھر کے تمام ذمہ دارانِ مدارس اساتذہ کرام اور محبانِ دارالعلوم محمودیہ تھے ،اور دور دراز سے کثیرتعداد میں عوام الناس نے شرکت کی،نظامت کے فرائض حضرت مولاناارشاد صاحب نائب مہتمم مدرسہ دعوت الحق ہرنی نے انجام دئیے اورآخرمیں ناظم اعلی دارالعلوم محمودیہ نے تمام شرکاء کا اور انتظامیہ مہینڈر کا شکریہ ادا کیا پروگرام مہمان خصوصی کی دعاء پر اختتام پذیر ہوا۔