خُوشبو کی طبی افادیت | تعلیمات نبوی ؐ کی روشنی میں

پاکیزگی، صفائی ستھرائی، شائستگی اور نفاست کی مسلّمہ اقدار اس وقت پوری طرح روشن ہو جاتی ہیں، جب ہم اُنہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرتِ مبارکہ میں پاتے ہیں۔ حیاتِ مبارکہ کا کوئی گوشہ اُٹھا کر دیکھیں، پاکیزگی اور شائستگی سے عبارت ہے۔ اسی خوش طبعی اور نفاست کا یہ اثر تھا کہ آپؐ خوشبو کو پسندیدہ فرماتے تھے، حالانکہ آپؐ کے جسم مبارک سے نکلنے والا پسینہ بذاتِ خود مُعطر ہو تا تھا، چنانچہ حضرت اُمِ سلیم ؓ نے ایک مرتبہ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آرام فرما رہے تھے، جسمِ اطہر کا پسینہ جمع کرلیا، آپ ؐ کی آنکھ کھلی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: یہ کیا کر رہی ہو؟ انہوں نے عرض کیا : آپ کے پسینے کو میں اپنی خوشبو سے ملاؤں گی۔ (صحیح مسلم، باب طیب عرق النبی ؐ )
حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خوشبو سے بڑھ کر اور کوئی خوشبو نہیں سونگھی، نہ ہی عنبر اور نہ ہی مشک۔‘‘ (صحیح مسلم، بَاب طيب رائحۃ النبی ؐولين مسہ والتبرک بمسحہ)
حافظ ا بن القیم ؒفرماتے ہیں کہ خوشبو آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پسندید ہ ترین اشیاء میں سے تھی، اسے صحت کی حفاظت اور غموں کے دور کرنے میں بھی اثر ہے۔ (زاد المعاد، ص: ۳۰۹، ج:۴، مؤسسۃ الرسالۃ)
نبی اکرم ؐ کی تعلیمات کا ایک نمایاں حصہ طہارت اور پاکیزگی سے متعلق ہے، پھر اس میں بھی اگر غور کیا جائے تو انفرادی اور اجتماعی دونوں فوائد حاصل ہوتے ہیں۔ صفائی، ستھرائی اور طہارت کا عادی آدمی خود بھی ظاہری و باطنی بیماریوں اور وساوس وغیرہ سے محفوظ رہتا ہے اور دوسروں کے لیے بھی باعثِ اذیت نہیں ہوتا۔ دوسروں کو راحت پہنچانا یا کم از کم تکلیف سے بچانا عین اسلامی اخلاق کا مطلوب ہے۔ بخاری شریف میں ارشادِ مبارکہ ہے:’’اعلیٰ درجے کا مسلمان وہ ہے، جس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔‘‘سیدہ عائشہ صدیقہ ؓجمعہ کے غسل کی تاریخ بیان فرماتی ہیں :’’لوگ اپنے کامو ں میں مشغول رہتے تھے اور اسی طرح (یعنی میل کچیل اور پسینے میں) جمعہ کے لیے چلے جاتے تھے، چنانچہ انہیں کہا گیا کہ اگر تم غسل کر لیتے (تو بہتر تھا)۔‘‘(صحیح بخاری، کتاب الجمعہ)انہی مبارک اور پاکیزہ تعلیمات کا ایک حصہ خوشبو کے متعلق آپ ؐ کے ارشادات اور عملی طور طریقے ہیں۔
حضرت انس ؓکہتے ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس سُکّتہ تھا، اُس میں سے خوشبو استعمال فرماتے تھے۔ ’’سُکّتہ‘‘ کے معنی میں علماء کے دو قول ہیں: بعض تو اس کا ترجمہ عطردان اور اُس ڈبے کا بتاتے ہیں، جس میں خوشبو رکھی جاتی تھی۔ تب تو یہ معنی ہے کہ اس عطردان میں سے نکال کر استعمال فرماتے تھے۔ بعض علماء فرماتے ہیں کہ ایک مرکب خوشبو ہے، چنانچہ قاموس وغیرہ نے اسی کو ترجیح دی ہے اور صاحبِ قا موس نے اس کے بنانے کی ترکیب بھی مفصل لکھی ہے۔
ثمامہ کہتے ہیں کہ حضرت انس ؓخوشبو کو رَد نہیں کرتے تھے اور یہ فرماتے تھے کہ حضور اقدسؐ بھی خوشبو کو رد نہ فرمایا کرتے تھے۔ابن عمر ؓکہتے ہیں کہ حضور اقدسؐ نے ارشاد فرمایا : تین چیزیں نہیں لوٹانی چاہئیں: تکیہ ، خوشبو اور دودھ۔ ان چیزوں کو اس لیے ذکر فرمایا کہ ہدیہ دینے والے پر بار نہیں ہوتا اور لوٹانے سے اسے بعض اوقات رنج ہوتا ہے۔
انہی چیزوں کے حکم میں وہ سب چیزیں داخل ہیں، جو نہایت مختصر ہوں کہ جن سے ہدیہ دینے والے پر بار نہ ہو۔ تکیہ سے مراد بعض علماء نے ہدیہ کے طور پر تکیہ کا دینا بتایا ہے کہ اس میں بھی کچھ ایسا بار نہیں ہے اور بعض علماء فرماتے ہیں کہ استعمال کے لیے کسی لیٹنے یا بیٹھنے والے کے پاس عارضی طور پر تکیہ رکھ دینا اور اس پر سر رکھ دینا یا ٹیک لگا لینا مراد ہے۔
حضرت ابوہریرہ ؓکہتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ ارشاد فرمایا: مردانہ خوشبو وہ ہے، جس کی خوشبو پھیلتی ہوئی ہو اور رنگ غیرمحسوس ہو، (جیسے: گلاب، کیوڑہ، وغیرہ) اور زنانہ خوشبو وہ ہے، جس کا رنگ غالب ہو اور خوشبو مغلوب ہو، (جیسے: حنا، زعفران، وغیرہ) مطلب یہ ہے کہ مردوں کو مردانہ خوشبو استعمال کرنی چاہیے کہ رنگ اُن کی شان کے مناسب نہیں ہے اور عورتوں کو زنانہ خوشبو استعمال کرنی چاہیے کہ دُور اجنبیوں تک اس کی خوشبو نہ پہنچے۔
ابوعثمان نہدی تابعیؒ کہتے ہیں حضور اقدس ﷺ نے ارشاد فرمایا: جس شخص کو ریحان دیا جائے، اسے چاہیے کہ لوٹائے نہیں، اس لیے کہ اس کی اصل جنت سے نکلی ہے۔ ریحان سے خاص یہ قسم مراد ہے یا ہر خوشبو ریحان کہلاتی ہے، اہلِ لغت کے دونوں قول ہیں اور دونوں یہاں مراد ہو سکتے ہیں۔ حق تعالیٰ جل شانہٗ نے جنت کی خوشبوؤں کی نقل دنیا میں اس لیے پیدا فرمائی ہے کہ یہ جنت کی طرف ترغیب کا سبب بنے اور زیادتیِ شوق کا ذریعہ ہو کہ خوشبو کی طرف طبعاً رغبت پیدا ہوتی ہے اور طبیعت کو اُدھر کشش ہوتی ہے، لیکن دنیا کی خوشبوؤں کو جنت کی خوشبوؤں سے کیا نسبت کہ ان کی مہک اتنی دُور پہنچتی ہے کہ پانچ سو برس میں وہ راستہ طے ہو۔ (خصائلِ نبویؐ، شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا، ص:۱۱۶-۱۱۷،مکتبۃ الشیخ)
خوشبو کی مبارک سنتیں:۔ حضورؐ مشک اور عود کی خوشبو کو تمام خوشبوؤں میں زیادہ محبوب رکھتے تھے۔ (زادالمعاد)حدیث پاک کے حوالے سے یہ بات گزر چکی ہے کہ مردوں کے مقابلے میں عورتوں کے لیے وہ خوشبو زیادہ پسندیدہ ہے، جس کا رنگ ظاہر ہو اور بُو چُھپی ہوئی ہو۔ نیز عورت کو یہ بات زیب نہیں دیتی کہ وہ گھر سے خوشبو لگا کر نکلے۔ آپؐ نے دینی مقاصد مثلاً آپؐ کے مبارک دور میں آپؐ کی اقتداء میں نمازکی خاطر گھر سے باہر نکلنے والی عورت کو بھی خوشبو لگا کر نکلنے سے منع فرمایا ہے۔
مشاہدہ ہے کہ خوشبو آدمی کی طبیعت میں فرحت و نشاط اور چستی پیدا کرتی ہے۔ خوشبو کے ذریعے آدمی کو خود بھی اور دوسروں کو بھی ایک خوش گوار احساس ہوتا ہے۔ ذہنی دباؤ اور ڈپریشن وغیرہ سے دور رہتے ہیں۔ طبِ نبوی پر گراں قدر کام کرنے والے حکیم ڈاکٹر قدرت اللہ حسامی اپنی کتاب ’’اسلام اور جدید میڈیکل سائنس‘‘ میں رقم طراز ہیں:’’معطر ہوائیں اور عطربیز فضائیں روحِ انسانی کے لیے غذا کا کام کرتی ہیں اور روحِ قوی کے لیے سرمایۂ حیات ہیں۔ 
خوشبو سے روح میں توانائی پیدا ہوتی ہے، جس سے دماغ کو کیف اور اعضائے باطنی کو راحت نصیب ہوتی ہے۔ خوشبو سے نفس کو سرور اور روح کو انبساط حاصل ہوتا ہے۔ دوسرے الفاظ میں خوشبو روح کے لیے حد درجہ خوش گوار اور خوب تَر چیز ہے۔ خوشبو اور پاک روحوں میں گہرا تعلق ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اطیب الطیبین (سب سے زیادہ خوشبودار اور پاکیزہ) رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دنیا کی چیزوں میں سے ایک چیز خوشبو بہت زیادہ محبوب تھی۔‘‘
ریحان (تلسی):۔قرآن میں ریحان سورۂ رحمٰن آیت :۱۲ اور سورۂ واقعہ آیت :۸۹ میں مذکور ہے، جس سے خوشبو دار پھول مراد ہے۔اس کے پھول اور پتیاں دونوں پیشاب آور ہوتی ہیں۔ پورا پودا اینٹی سیپٹک ہوتا ہے۔ تخم یونانی ادویہ معدے کی تکالیف، جریان پیچش میں بہترین دوا ہے۔ آج کل اس کی کاشت یمن میں زیادہ ہوتی ہے۔ اس کی ایک قسم ریحان کا فوری بھی ہے، جس سے کافور نکالا جاتا ہے۔
خوشبو مقویِ قلب، منفعتِ بلغم اور دافعِ تعفّن ہے۔ اس کے روغن کی خاصیت سے مچھر دور بھاگ جاتے ہیں اور ہوا کا تعفُّن دور ہوجاتا ہے۔ اس کا جوہر Basil Camphor خوشبو کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ ڈاکٹر رستم جی نے اس کے تیل کو محرِّک، مبہی اور بچوں کو سردی اور کھانسی میں مفید لکھا ہے۔ (اسلام اور جدید میڈیکل سائنس،ص : ۵۳۳-۵۳۴،ط: دار المطالعہ، حاصل پور)
آنحضرت ؐ کا ارشاد ہے کہ خوشبوؤں میں زیادہ خوشبودار مشک ہے۔(صحیح مسلم ) حافظ ابن القیمؒ نے مشک کو طبِ نبوی میں شامل کیا ہے اور اسے اقوی المُـفرِحات یعنی تمام فرحت بخش چیزوں میں قوی تر قرار دیا ہے۔تاثیر کے لحاظ سے مقویِ حواسِ ظاہری و باطنی، (فرحت بخش) ضعفِ قلب و دماغ اور اکثر اعصابی امراض میں بے حد مفید ہے۔ اس کی پیاری خوشبو سے دل مسرور ہوجاتا ہے اور خوشبویات میں اینٹی الرجک ہونے سے اکثر لوگ اسی کو پسند کرتے ہیں۔ اس کی خوشبو سونگھنے سے نزلہ اور دماغ کو فائدہ ہے۔ 
خوشبو کے انہی طبی فوائد کی بناء پر Aromatherapy کے نام سے ایک مستقل شاخ وجود میں آچکی ہے، جس میں مختلف پودوں کے تیل سے خوشبوئیں بنائی جاتی ہیں، جنہیں بے چینی اور ذہنی دباؤ کو دور کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، یعنی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خوشبو کے استعمال کی سنت پر عصرِ حاضر کی سائنس بھی آپ کی عظمتوں کا اعتراف کرتی نظر آتی ہے۔