اسرار خودی میں علامہ اقبال ؒ نے خواجہ حافظ شیرازیؔ پر تنقید کی تھی جسے ادیبوں ، شاعروں اور دانشوروں کی ایک بڑی تعداد نے پسند نہیں کیا تھا۔ بعض عالموں نے علامہ کی تنقید کو حق بجانب قرار دیا تھا۔ تاہم علامہ نے کتاب کے دوسرے ایڈیشن میں ان اشعار کو حذف کردیا۔ اس بحث سے خواجہ حافظ ؔکے بارے میں یہ تاثر عام ہوا کہ وہ صرف شراب اور مستی کی بات کرتے ہیں۔ علامہ ؔکی تنقید میں ’’حافظ صہباگسار‘‘ اور’’ آن فقیہہ ملت میخوارگان‘‘کے الفاظ سے اس تاثر کا عام ہونا حیرت کی بات بھی نہیں۔
حق یہ ہے کہ خواجہ حافظؔ ان معنوںمیںرندِمیخوارنہ تھے جن معنوں میں آج ہم شرابی کو لیتے ہیں۔ وہ قرآن حکیم کے حافظ تھے اور انہیں علوم قرآنی سے شغف تھا۔ انہوں نے ریا کار صوفیوں اور دنیا پرست عالموں کی جو مذمت کی ہے؛ اس سے عیاں ہے کہ وہ اپنے زمانے کے ان حالات سے باخبر تھے جن سے معاشرہ گزر رہا تھا۔ ایک حساس فن کار کے لئے معاشرہ اکثر باعث آزار ہوتا ہے۔ غنی کشمیری کا شعر ہے ۔ ؎
بود در اضطراب ازاہل عالم برکہ کامل شد
طپیدن درمیان جملہ اعضا قسمت دل شد
یعنی دنیا میں جو بھی کامل ہوتا ہے، وہ اضطراب میں ہوتا ہے۔ جس طرح تمام اعضاء میں رئیس الاعضاء دل ہوتا ہے اور تمام اعضاء میں دھڑکن بھی اسی کے حصے میں آئی ہے۔ خواجہ حافظؔ بھی معاشرے میں دل کا مقام رکھتے تھے۔ حساس تھے اور معاشرے کے حالات سے مطمئن نہ تھے۔ انہیں حکمرانوں سے زیادہ مذہبی ریا کاروں سے گلہ تھا۔ وہ مذہبی ریا کاروں کے مقابلے میں ان لوگوں کو بہتر سمجھتے تھے جنہیں’’خراباتی‘‘کہتے ہیں۔ وہ خراباتی کو صوفی اور واعظ دونوں پر فوقیت دیتے تھے۔ دونوں سے ان کی بنتی نہ تھی۔ وہ ’’پیرمے فروش ‘‘ کی پہلی نصیحت پر عمل پیرا تھے؛ جس میں اس نے حافظ ؔکو نصیحت کی تھی کہ ناجنسوں کی صحبت سے پرہیز کیا کرو ۔ ؎
نخست موعظ پیرمے فروش انیست
کہ از معاشرنا جنس احتراز کنید
خواجہ حافظ شیرازیؔ پران کے زمانے میں بھی تنقید ہوتی تھی۔ اس وقت کے حکمران شاہ شجاع (المتوفیٰ ۷۸۶ ھ) نے ان پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کی غزلوں کے اشعار میں ربط نہیں ہوتا۔ ایک بیت وصال کے بارے میں ہوتی ہے؛ تو دوسری فراق کے متعلق ۔جس کے جواب میں حافظ ؔنے کہا تھا کہ ان خامیوں کے باوجود میری غزلیں زباں سے نکلتے ہی دنیا میں پھیل جاتی ہیں جبکہ دوسروں کا کلام شہر کے دروازے سے بھی باہر نہیں نکلتا۔
خواجہ حافظؔ کی وفات ۷۹۱ ھ میں ہوئی۔ اس وقت بھی تنازعہ کھڑا ہوا۔ لوگ مخالفت کرنے لگے کہ انہیں مسلمانوں کے قبرستان میں دفن نہ کیا جائے۔ امام نے ان کی جنازہ پڑھانے سے انکار کیا کیوں کہ ان کا دیوان کہیں سے دیکھو شراب ورندی کا ذکر ہے۔ بالآخر طے پایا کہ ان کے دیوان ہی سے فال نکالی جائے۔ دیوان کھولا گیا تو یہ شعر نکلا ۔ ؎
قدم دریغ مدار از جنازئہ حافظؔ
کہ غرچہ گنا ہست میرودبہ بہشت
’حافظ ؔ کے جنازے سے قدم مت روکو، گو وہ گنا ہگار ہے مگر جنت میں جائے گا۔‘
شعر دیکھ کر سب نے ان کی نماز جنازہ پڑھ لی اور وہ خاک مصلیٰ میں دفن کئے گئے ۔
خواجہ حافظؔ کا کلام ان کی زندگی میں ہی بے حد مقبول ہوچکا تھا ؛جس سے جل کر حاسد ین ان کے کلام پر تنقید کررہے تھے؛ جس کا جواب خواجہ نے یہ کہہ کردیا ہے کہ کلام کی دلوں میں قبولیت اور کلام کا حسن خداداد عطیہ ہے ؎
حسد چہ می بری اے سست نظم بر حافظؔ
قبول ِخاطر و حسن ِسخن خدا داد ست
’’ سست نظم ‘‘ کے الفاظ سے کمزور شعر کہنے والے حاسدوں پر طعن کیا ہے۔
خواجہ کی زندگی ہی میں ان کا کلام عوام و خواص میں مقبول ہوچکا تھا۔ حکمران ان کے کلام کے شایقین تھے۔ عراق ، عرب اور ہندوستاں کے سلاطین ان کے کلام سے لطف اندوز ہوتے تھے، بغداد ، دکن اور بنگال کے بادشاہوں نے انہیں دعوت نامے بھیجے۔ غرض ہر طرف ان کے کلام کا چرچا تھا۔
خواجہ کا کلام امیر تیمور کے کانوں تک بھی پہنچ چکا تھا۔ ۷۸۹ ھ میں امیر تمور شیراز میں داخل ہوا ۔اس وقت وہ خواجہ کے کلام سے اچھی طرح آگاہ تھا۔ اس نے خواجہ کے کلام کو پڑھا تھا۔ شیراز کے داروغہ نے جب سرکردہ لوگوں کی محبت میں شہر کے دروازے پر امیر تیمور کا استقبال کرتے ہوئے یہ شعر پڑھا ۔ ؎
رواق منظر چشم من آشیانہ تُست
کرم نماکہ فرود آکہ خانہ خانہ تُست
’جری آنکھ کے منظر کا سائبان آپ کا آشیانہ ہے ۔ کرم کیجئے نیچے آئیے،یہ گھر آپ ہی کا گھر ہے۔‘ شعر سن کر امیر تیمورنے داروغہ سے کہا کہ کیا یہ حافظ ؔکا شعر نہیں ہے ؟جس کے جواب میں داروغہ نے کہا: ہاں امیر ! یہ حافظ ہی کا ہے‘‘ اس واقعے کے چھ سو سال بعد جب جلاوطنی کے بعد ایرانی انقلاب کے پیشوا آیت اللہ خمینی ملک میں وار د ہوئے تو ایرانی عوام کے طرف سے جو سپاس نامہ پڑھا گیا اس کا سر عنواں حافظ کا یہی شعر تھا۔
دولت شاہ سمر قندی نے لکھا ہے کہ امیر تیمور جب شیراز میں داخل ہوا ،تو اس کی ملاقات خواجہ حافظؔ سے ہوئی ،خواجہ حافظ کا شعر ہے ۔ ؎
اگر آں ترک شیرازی بدست آرددل مارا
بخالِ ہندوش بخشم سمر قند و بخارا را
’اگر وہ شیرازی معشوق میرا دل تھام لے تو میں اس کے سیاہ تل کے عوض سمر قند اور بخارانجش دوںگا۔‘ امیر تیمورنے خواجہ سے کہا کہ میں نے ربع مسکوں کو تباہ کرکے سمر قند وبخارا آباد کئے ہیں اور آپ اپنے محبوب کو سیاہ تل کے عوض بخش رہے ہیں۔ یہ سن کر خواجہ ؔنے جو اس وقت پھٹے پرانے کپڑوں میں تھے، جواب دیا کہ انہیں فضول خرچیوں نے اس حال کو پہنچادیا ہے۔ یہ سن کر امیر تیمور محظوظ ہوئے۔ دولت شاہ سمر قندی نے سن غلط دیا ہے مگر واقعہ دوسرے تذکرہ نگاروں نے بھی بیان کیا ہے۔
امیر تیمورنے شیراز کے دوسرے علماء کی موجودگی میں خواجہ حافظ سے ہمکلام ہوتے وقت خواجہ کے اس شعر پر اعتراض کیا:
ساکنانِ حرم سر و عفافِ ملکوت
بامن رہ نشیں بادہ مستانہ زدند
ملکوت کے پاک اور رازوں کے حرم کے بسنے والوں نے مجھ مسافر کو مستانہ شراب پلادی۔ امیر تیمورنے خواجہ سے کہا کہ آپ نے یہ شعر کہا ہے جو کفر کے مترادف ہے۔ اس سے لگتا ہے کہ خدا حرم سرا کا مالک ہے۔ آپ نے خدا کی بھی توہین کی ہے۔ امیر کے اعتراض کے جواب میں خواجہ نے کہا کہ نہ میں نے کفر کیا ہے اور نہ خدا کی توہین کی ہے۔ میں نے پہلا مصرعہ’’ ساکنانِ حرم سرعفافِ ملکوت ‘‘ کہاہے ۔ سروعفاف اس کا ثبوت ہے کہ خدا کا حرم کوئی معمولی حرم نہیں ہے بلکہ سربستہ رازوں کا حرم ہے۔ میرے شعر میں عورت کا ذکر کہاں ہے، میں نے کب کہا ہے کہ خدا کے حرم میں نعوذ باللہ عورت موجود ہے۔ میں نے حرم خانے کا نہیں بلکہ صرف حرم کا لفظ استعمال کیا ہے یعنی ایسی پاک جگہ جہاں کوئی اجنبی پر نہیں مارسکتا۔ بات یہ ہے کہ بہار کی ایک صبح کو میں نے محسوس کیا کہ میں فضا میں پھولوں کی بھنی بھنی خوشبو سے مست ہوگیا ہوں۔ مجھے لگا جیسے کائنات میں شریک ہوں۔ فرشتے اور میں یک جاں ہوگئے ہیں۔ وجد و سرور کی حالت میں یہ شعر میری زباں پر خود بخود جاری ہوگیا۔
امیر تیمورنے پوچھا کہ آپ نے دوسرے مصرعہ میں کیوں کہا ہے کہ انہوں نے میرے ساتھ شراب نوشی کی جبکہ شراب حرام ہے۔ خواجہ نے جواب دیا کہ شراب نوشی سے یہاں مراد شراب پینا نہیں بلکہ معرفت حاصل کرنا ہے۔ مراد یہ ہے کہ فر شتوں نے مجھ سے کلام کیا اور کائنات کے سربستہ رازوں کی خبر دی یعنی میں نے ان سے کسب فیض کیا۔ انہوں نے مجھ جیسے راہ نشین کو فیض بخشا۔
امیر تیمور نے خواجہ کی زبان سے یہ دل نشیں تشریح سنی تو شیریں سخن شاعر کی داد دیتے ہوئے خواجہ سے کہاکہ تونے کتنی خوبصورت بات کہی۔ میرا دل آپ کے جواب سے مطمئن ہوا۔ اس کے بعد امیر تیمورنے خواجہؔ سے کہا کہ کیا یہ سچ ہے کہ آپ حافظ قرآن ہیں؟ خواجہ نے کہا کہ ہاں یہ سچ ہے کہ میں حافظ قرآن ہوں۔ امیر تیمور نے کہا کہ آپ سورہ اعراف کی آخری آیت سے شروع کرکے ایک ایک آیت پڑھ کر پہلی آیت تک پڑھیں۔ خواجہؔ نے الٹا پڑھنے سے معذوری ظاہر کی ،جس پر امیر تیمور نے کہا کہ میں قرآن کی آخری آیت سے شروع کرکے پہلی آیت تک پڑھ سکتا ہوں۔ اس نے خواجہؔ سے کہا کہ آپ میرا امتحان لیں ۔سورہ بقرہ کی آخری آیت سے الٹا پڑھنا شروع کیا۔ کچھ دیر بعد جزاک اللہ کی صدائیں بلند ہوئیں اور امیر تیمور کی قابلیت کا سکہ جم گیا۔
یہ امر قابل ذکر ہے کہ امیر تیمور نے سلطنتوں کو مٹا ڈالا ، شہر اور دیہات برباد کردئے، کٹے ہوئے سروں کے مینار بنوائے۔ سفا کی اور خونریزی کی تمام حدیں پارکیں۔ حالانکہ وہ بہت ذہین اور پڑھا لکھا تھا۔ قرآن حکیم کا حافظ تھا۔ علماء اور دانشوروں کا قدرداں تھا۔ مگر سفاکی اور خونریزی میں اس کا کوئی ثانی نہ تھا۔ قدرت نے اس کا دامن جو اہرات سے جڑا تھا مگر اس نے اسے خون میں لت پت کردیا۔
اوپر کہا گیا کہ خواجہ حافظ شیرازیؔ قرآن کے حافظ تھے اور امام زمخشریؒ کی تفسیر ’’کشاف‘‘ کا درس دیتے تھے۔ انہوں نے اس پر حواشی بھی تحریر کئے ہیں۔ تفسیر کے دوران حکماء کے اقوال سے بھی استدلال کرتے تھے۔ انہیں قرأت میں بھی مہارت تھی ۔ خوش الحان تھے اور جمعہ کی شب مسجد کے مقصورہ میں خوش لحنی کے ساتھ قرآن کی تلاوت کرتے تھے۔ کہتے ہیں کہ خواجہ حافظ قرآن کی چودہ قرأتوں کے ماہر تھے۔
خواجہ کو اس کا احساس تھا کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں جو مقبولیت عطا کی ہے، وہ قرآن حکیم ہی کی بدولت عطا ہوئی ہے۔ سحر کے وقت جاگنا اور خدا سے سلامتی طلب کرنا قرآن حکیم ہی کا ثمرہ ہے ؎
صبح خیزی و سلامت طلبی چوں حافظؔ
آنچہ کردم ہمہ از دولتِ قراں کردم
خواجہ ’’دعائے نیم شبی‘‘ اور ’’گریہ سحری‘‘ کو سرمایہ حیات سمجھتے تھے۔ ان کا اعتقاد تھا کہ آدھی رات کی دعاوں اور سحر کی آہ وزاری نے تاریکی میں ان کی رہنمائی کی ہے ۔ ؎
مراازیں ظلمات آنکہ رہنمائی کرد
دعائے نیم شبی بودوگریہ سحری
خواجہ کے دیوان میں شب بیداری؛ ’سحر خیزی‘ ،دعائے نیم شبی اور دعائے صبحگاہی کا ذکر بار بار آیا ہے، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں آں گراں بہا نعمتوں سے بہرہ مند کیا تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ خدا کے فیض کی روشنی سے اگر کسی دل کو کچھ ملتا ہے تو وہ اس کا دل ہوتا ہے جو راتوں کو سویرے جاگتا ہے۔ ؎
ہر آنچہ سیر سدا ازنورِفیض سبحانی
نصیبہ دلِ شخصے کہ شب سحر خیزاست
خواجہ کہتے ہی کہ سعادت کا جو بھی خزینہ اللہ نے انہیں دیا ہے، وہ رات کی دعائوں اور سحر کی اور اد و وظائف کی برکات کا پھل تھا۔ ؎
ہر گنج سعادت کہ خدا داد بحافظ
ازیمن دعائے شب و وردِسحری بود
وہ کہتے ہیں کہ قبولیت کی بارگاہ میں اگر مجھے رسائی ملی ہے تو آدھی رات کے ورد اور صبح کے وقت کے درس سے ملی ہے ۔ ؎
مرد بخواب کہ حافظ ببارگاہ قبول
زور دنیم شب و درس صبحگاہ رسید
خواجہ رات کو مانگی جانے والی دعائوں کی تاثیر پر گہرا یقین رکھتے تھے۔ یہ دعائیں انسان کو قربت الٰہی سے ہمکنار کرنے کے ساتھ ساتھ آفات و بلیات سے بھی محفوظ رکھتی ہیں۔ خواجہ اسی لئے اپنے دل سے کہتے ہیں۔ ؎
دلابسوزکہ سوزتو کارہابکند
دعائے نیم شبی دفعِ صد بلابکند
اے دل جل ! کہ تیرا جلنا بہت سے کام نکالتا ہے۔ دعائے نیم شبی سیکڑوں بلائوں کو دور کردیتی ہے۔ وہ دوسروں کو بھی تلقین کرتے ہیں کہ صبح کی شراب اور صبح کی میٹھی نیند میں کب تک مست رہوگے۔ آدھی رات کو خدا کے حضور عذر خواہی اور سحر کے وقت آہ وزاری کی کوشش کیا کرو۔ ؎
مے صبوح وشکر خواب صبحدم تاچند
بعد زنیم شبی کوش و نالہ سحری
خلاصہ تحریر یہ کہ خواجہ حافظ شیرازی کے بارے میں جو تاثر پچھلے سو سال میں عام ہوا ہے وہ درست نہیں ہے۔ ان کے دیوان میں جس شراب اور مستی کا ذکر کثرت سے آیا ہے، وہ شراب نہیں جو ہوٹلوں میں لوگ پیتے ہیں اور جسے شریعت نے حرام قرار دیا ہے۔ بلکہ عرفاء کی شرابِ معرفت ہے۔ ہم اسے غلط سمجھیں تو یہ ہمارے فہم کا قصور ہے۔ ع
سمجھے نہ ہم تو فہم کا اپنی قصور تھا۔
یہی وجہ ہے کہ حضرت امیر کبیر سید علی ہمدانی ؒ نے ایک رسالے ’’برادات دیوان حافظ‘‘ میں دیوان حافظؔ کی تقریباً پچاس اصطلاحات کی صوفیانہ تشریح کی ہے۔ یہ امر ملحوظ رہے کہ خواجہ حافظؔ کے دو ہم عصر شیوخ حضرت امیر کبیر (المتوفیٰ ۷۸۶ ھ) اور حضرت جہانگیر اشرف سمنانی (المتوفی ۸۰۸ ھ) نے بھی خواجہ حافظ کی تعریف کی ہے۔ موخرالذکر نے ان کیلئے ’’مجذوب شیرازی‘‘ کے الفاظ استعمال کئے ہیں اور اپنے ملفوظات میں ان کے اشعار بھی دئے ہیں۔ ان کے علاوہ کبار صوفیہ نے بھی حافظ کے کلام کو قدر کی نگاہوں سے دیکھا ہے۔ پچھلے ساڑھے چھ سو برسوں کے دوران حافظؔ کا کلام شاہی درباروں کیلئے سونے سے لکھا گیا۔ خانقاہوں میں حال کی مجلسوں میں گایا گیا اوردرسگاہوں میں تال کی مجلسوں کی زینت بنا ۔خواجہ حافظؔ نے اپنی خوش کلامی سے نہ صرف مشرق کے اہل نظر کو متاثر کیا ہے بلکہ انہوں نے اپنی شیریں بیانی اور خوبصورت تراکیب سے مغرب کے سخن وروں کو بھی مسحور کیا ہے۔ جس کی مثال جرمنی کے عظیم شاعر گوئٹے ؔکا کلام ہے۔ گوئتےؔ خواجہ حافظ ؔسے حددرجہ متاثر تھے اور انہوں انے اپنی تصنیف ’’دیوان ِمغرب‘‘ کی تصنیف سے محبت کے اس نغمہ خواں کو بہترین خرج ادا کیا ہے۔ ؎
ہر گز نمیرد آنکہ دلش زندہ شد بعشق
ثبت است بر جریدہ عالم دوام ما
(حدی پورہ رفیع آباد)