امام الانبیاء، سیّدالمرسلین، پیغمبر آخر واعظم،حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم انسان کامل، انبیاءؑ اور رسولوں کے امام اور اللہ تعالیٰ کے آخری پیغمبر ہیں جو دنیا میں اللہ تعالیٰ کا آخری پیغام لے کر آئے اور بنی نوع انسان کی رہنمائی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا منصب ٹھہرا ،نہ صرف یہ، بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا گیا اور اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ذکر بلند کردیا۔ ارشادباری تعالیٰ ہے: ’’کیا ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا سینہ نہیں کھول دیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا بوجھ ہم نے اتار دیا جس نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیٹھ بوجھل کر دی تھی اور ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ذکر بلند کر دیا۔‘‘(سورۃ الانشراح)
کرّۂ ارض پر ایک سیکنڈ بھی ایسا نہیں گزرتا،جب ہزاروں لاکھوں مؤذن اللہ کی توحید اور حضوراکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رسالت کا اعلان نہ کررہے ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خاتم الانبیاء اور سیّد المرسلین بنا کر مبعوث فرمایا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد نبوت و رسالت کا دروازہ ہمیشہ کے لیے بند ہو گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ کے آخری نبی اور قیامت تک پوری انسانیت کے ہادی و رہبر ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دینِ کامل عطا کیا گیا۔ اب دینِ اسلام ہمیشہ کے لیے مکمل ہو گیا۔ یہ ایک کامل و مکمل ضابطۂ حیات اور قرآن بنی نوع انسان کے لیے دائمی صحیفۂ ہدایت ہے، جس میں کسی ترمیم اور تبدیلی کی کوئی گنجائش نہیں۔
رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیغمبرانہ خصوصیات میں سب سے اہم اور نمایاں خصوصیت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا امام الانبیاء، سیّد المرسلین اور خاتم النبیین ہونا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دعوت، آپؐ کی شریعت، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا پیغام اور دینِ اسلام آفاقی اور عالمگیر حیثیت کا حامل ہے۔ آپ ؐ بنی نوع آدم اور پورے عالم انس و جن کے لیے دائمی نمونۂ عمل اور آخری نبی بنا کر مبعوث فرمائے گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر دینِ مبین کی تکمیل کر دی گئی۔پوری انسانیت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امّت اور آپؐ قیامت تک پوری انسانیت کے لیے ہادی و رہبر اور بشیر و نذیر بنا کر مبعوث فرمائے گئے۔اس ابدی حقیقت کی وضاحت مندرجہ ذیل آیاتِ قرآنی میں بہ تمام و کمال کر دی گئی۔ ارشادِ ربّانی ہے:’’ اور ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تمام انسانوں کے لیے خوش خبری سنانے والا اور آگاہ کرنے والا بنا کر بھیجا ہے۔ (سُورۂ سبا)
ارشادِ ربّانی ہے:’’کہہ دیجیے، اے لوگو، میں تم سب لوگوں کی طرف اللہ کا پیغام دے کر بھیجا گیا ہوں۔‘‘ (سورۃ الاعراف) ایک اور مقام پر ارشاد ہوا: ’’برکت والا ہے وہ (اللہ) جس نے حق و باطل میں امتیاز کرنے والی کتاب اپنے بندے (محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) پر نازل کی، تاکہ وہ دنیا جہاں کے لیے ہوشیار و آگاہ کرنے والا ہو۔‘‘ (سورۃ الفرقان)
ختمِ نبوت کے حوالے سے رسولِ اکرم حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مختلف احادیث میں یوں بیان فرمایا ہے۔’’میں کالے اور گورے (مشرق و مغرب) تمام انسانوں کی طرف مبعوث کیا گیا ہوں۔ (مسنداحمد)ایک موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:’’ میں (عمومیت کے ساتھ) تمام انسانوں کی طرف بھیجا گیا ہوں، حالاں کہ مجھ سے پہلے جو نبی مبعوث ہوئے، وہ خاص اپنی قوموں کی طرف بھیجے جاتے تھے۔‘‘
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشادِ گرامی حضرت جابر بن عبداللہؓ سے روایت ہے:’’پہلے ہر نبی خاص اپنی قوموں کی طرف مبعوث کیے جاتے تھے، اور میں تمام انسانوں کے لیے مبعوث ہوا ہوں۔‘‘ (صحیح بخاری)
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پہلے جتنے انبیائے کرامؑ تشریف لائے، ان کی بعثت و رسالت کسی خاص عہد یا کسی خاص قوم کے لیے تھی، کسی نبی اور رسول کے مخاطب تمام انسان اور پوری دنیا کے لوگ نہیں تھے، رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعثت اور تکمیلِ دین سے قبل نازل شدہ آسمانی کتب بھی مخصوص عہد کے لیے تھیں۔ تاہم رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعثت کے بعد سلسلۂ نبوت و رسالت ختمی مرتبت حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر تمام اوصافِ کمال کے ساتھ ختم کر دیا گیا۔
اب ہدایت و راہ نمائی کا ابدی سرچشمہ قرآنِ کریم اللہ کی نازل کردہ آخری کتاب، رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آخری نبی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عطا کردہ تعلیمات ، شریعتِ محمدیؐ قیامت تک انسانیت کی ہدایت و راہ نمائی کی ضامن، دین و دنیا میں فلاح اور آخرت میں نجات کی یقینی ضمانت ہیں۔ اب یہ حقیقت واضح ہو گئی کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے آخری نبی بنا کر پوری انسانیت کی ہدایت و رہبری کے لیے دنیا میں بھیجا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد نہ کوئی نبی آئے گا، نہ کوئی نیا دین آئے گا، نہ کوئی شریعت آئے گی، نہ وحی نازل ہو گی اور نہ اللہ کا پیغام نازل ہوگا۔
’’ختمِ نبوت‘‘اسلام کا بنیادی عقیدہ ہے۔ قرآن و سنّت، تعاملِ اُمّت، صحابہؓ و تابعین اور پوری اُمّت کا اس امر پر اجماع ہے کہ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ’’خاتم النّبیین‘‘ بناکر مبعوث فرمایا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر دین کی تکمیل کردی گئی۔آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ کے آخری نبی، قرآن ہدایت و راہ نُمائی کا آخری اور ابدی سرچشمہ اور یہ اُمّت آخری اُمّت ہے۔قرآن و سنّت میں اس حوالے سے بے شُمار دلائل موجود ہیں۔ اُمّت کا اس امر پر اجماع ہے کہ ’’عقیدۂ ختمِ نبوت‘‘ پر ایمان ایک ناگُزیر اور لازمی دینی تقاضا ہے، جس کا منکر کافر، مُرتد اور دائرۂ اسلام سے خارج ہے۔ قرآنِ کریم اور احادیثِ نبویؐ میں ختمِ نبوت کے حوالے سے بے شُمار دلائل موجود ہیں۔ چناںچہ ’’سُورۂ احزاب‘‘ میں پوری وضاحت اور صراحت کے ساتھ یہ اعلان کیا گیا کہ:’’محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں، لیکن وہ اللہ کے پیغمبر اور تمام نبیوں کے خاتم ہیں۔‘‘ (سلسلۂ نبوت و رسالت کو ختم کرنے والے ہیں)
رسولِ اکرم حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر سلسلۂ نبوت و رسالت کے اختتام کی ایک واضح دلیل یہ بھی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قیامت تک پوری انسانیت کے لیے نجات دہندہ اور ہادی و رہبر بناکر بھیجے گئے۔جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ہمہ گیر شریعت، ختمِ نبوت اور آخری نبوت و رسالت کا اظہار قرآنِ کریم کررہا ہے، دین کی تکمیل اور شریعتِ محمدیؐ کی ہمہ گیری اور منشورِ ہدایت ہونے کا اعلان اللہ تعالیٰ خُود فرما رہا ہے، تو پھر کسی اور نبی کے تصورکا کیا جواز باقی رہ جاتا ہے؟
قرآن و سنت ،اجماعِ امّت اور بنیادی اسلامی تعلیمات اس حقیقت پر گواہ ہیں کہ عقیدۂ ختم نبوت دین کا بنیادی شعار ،رسالتِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا امتیاز اور اسلام کے بنیادی عقائد میں سے ہے۔ جس پر ایمان دین کا بنیادی تقاضا ہے۔ اس عقیدے پر ایمان کے بغیر اسلام کا تصور بھی محال ہے۔