سرینگر //سرینگر میں مہلوک خاتون پرنسپل کے رشتہ داروں،لواحقین اور اساتذہ نے جمعہ کوسیول سیکریٹریٹ کے سامنے احتجاجی دھرنا دیا اورآلوچی باغ سے شمشان گھاٹ تک پیدل مارچ کیا۔ مہلوک پرنسپل کی رہائش گاہ آلوچی باغ سے سپندر کورکی میت کے ہمراہ لواحقین، رشتہ دار اور سینکڑوں سکھوں نے پیدل چل کر سیول سیکریٹریٹ کے باہر احتجاج کیا اور انصاف دینے کی مانگ کی۔ مقتولہ کے اہل خانہ نے سیکریٹریٹ کے باہر’قاتلوں کو انصاف اور سخت سزا‘ دینے کا مطالبہ کیا۔ احتجاج میں شامل سکھوں نے بتایا ہم ایک ساتھ یہاں جئیںگے اور مر یں گے ،لیکن اکثریتی طبقے کے معزز اشخاص کو اس بارے میں مساجد میں یہ پیغام دینا ہے کہ اس طرح کی کارروائیاں اسلام اور انسانیت کے خلاف ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ جس دن کے ترنگا لہرانے کی بات چل رہی ہے اس دن مذکورہ خاتون سکول میں نہیں تھی کیوں کہ ان کا کوئی رشتہ دار فوت ہوا تھا ۔احتجاج میں شامل کچھ لوگوں نے بتایا کہ ترنگا اب کی بار ہر ایک جگہ لہرایا گیا پھر لاکھوں لوگوں کو مارنا ہے۔ انہوں نے بتایا ہم اس گلستان سے نکلنے والے نہیں ہیں اور اگر نکلیں گے بھی تو یہ بر باد کر کے نکلیں گے ۔بعد میں سینئر پولیس افسران موقع پر پہنچے اورسوپندر کور کے لواحقین کو اس کی لاش کو آخری رسومات کیلئے بٹہ مالوشمشان گھاٹ لے جانے پر آمادہ کیا۔دریں اثناء وادی کے سکولوں میں اساتذہ اور دیگر عملے نے اپنے مہلوک ساتھیوں کے قتل کی مذمت کی اور انکی یاد میں دو منٹ کی خاموشی اختیار کی۔سکولوں کے عملے نے وادی کے بیشتر مقامات پر مہلوک ساتھیوں کو خراج عقیدت پیش کرنے کیلئے تعزیتی میٹنگیں منعقد کیں اور انکی روح کے لئے دعا کی۔