بارہمولہ //بارہمولہ پولیس نے شراکوارہ کریری میں ایک خاتون سرپنچ کے گھر پر گرینیڈحملے کامعمہ حل کرکے اس میں ملوث جنگجوئوں کے 4معاونین کو گرفتار کرکے ان کے قبضے سے کچھ اسلحہ اور منشیات برآمد کرنیکا دعویٰ کیا ہے۔ منگل کو ایس ایس پی بارہمولہ رئیس محمد بٹ نے پولیس لائیز بارہمولہ میں ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا ہے کہ 22 اگست کو پولیس اسٹیشن کریری کو ایک ٹیلی فون کال موصول ہوئی ، جس میںکہا گیا کہ شراکوارہ کریری میں ایک دھماکے کی آواز سنائی دی گئی جس کے بعد بارہمولہ پولیس ، 52 آر آر ، اور 176 بٹالین سی آر پی ایف کی مشترکہ پارٹی علاقے میں پہنچ گئی جس دوران یہ بات سامنے آئی کہ سرپنچ نریندر کور زوجہ دلجیت سنگھ کی حفاظت پر تعینات گارڈ روم کو نشانہ بنا کر نا معلوم افراد نے گرینیڈ پھینکا جس کے نتیجے میں کھڑکیوں اور شیشوں کے علاوہ وہاں موجود ایک ماروتی کار کو نقصان پہنچا۔ معاملے کی نسبت متعلقہ دفعات کے تحت کیس پولیس اسٹیشن کریری بارہمولہ میںدرج کر لیاگیا اور اس کی تحقیقات شروع کی گئی۔ پولیس نے بتایا کہ کیس کی تحقیقات کیلئے سی سی ٹی وی فوٹیج اور دیگر آلات کا استعمال کرکے کچھ مشتبہ افراد کو پوچھ تاچھ کیلئے طلب کر لیا گیا اور دوران تفتیش یہ بات سامنے آئی کہ محمد سلیم خان اور سجاد احمد میر گرینیڈ حملے میںملوث ہیں جس دوران ان کی گرفتاری عمل میںلائی گئی ۔پولیس نے بتایا کہ ان کی تفتیش کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ دونوں لشکر طیبہ کے بالائے زمین کارکنوں کے طور پر کام کر رہے تھے۔ پولیس نے مزید بتایا کہ دونوں ملزمان منشیات کے عادی ہیں اور وہ لشکر جنگجو ہلال شیخ اور عثمان (غیر ملکی) کے ساتھ رابطے میں تھے جن کی ہدایات پر انہوں نے بٹہ مالو سرینگر سے گرینیڈ حاصل کیا۔پولیس کے مطابق جن دو دیگر ساتھیوں بلال احمد شیخ اور نصیر احمد ڈار نے ان کی مدد کی، انہیں بھی گرفتار کیا گیا۔ پولیس نے بتایا کہ ملزمان سے دو دستی بم اور 100 گرام چرس بھی برآمد کیا گیا ۔