ہمارے ایک استاد بلکہ استادوں کے استاد چند دنوں بعد اپنی ڈیوٹی سے سبگدوش ہونے والے ہیں ۔ہماری طِفلگی کے زمانے کے مشہور و معروف استادوں میںایک اہم نام اُن کا بھی تھا۔ آج بھی لوگ اُن کی قدر کرتے ہیں۔ اُن کے زیر سایہ پلے بڑے نوجوان آج بڑی بڑی کرسیوں پر براجمان ہیں۔ ایسے جوانوں کا سامنا جب بھی اِس استاد کے ساتھ ہوتا ہے تو گردن جھکائے اُن سے سلام کلام کرتے ہیں۔ چند شاعری مجموئوں کے مصنف بھی ہیں۔ اچھا بول چال بھی رکھتے ہیں۔ سماجی کام کاج میں خاصا حصہ بھی لیتے ہیں۔ دین ِ اسلام کے ساتھ قلبی و فکری وابستگی ہے۔ اِن سے جب احقر نے پوچھا کہ’’ کیسا لگ رہا ہے ،اب ڈیوٹیوں سے سبگدوش ہونے پر؟ تو ایک لمبی سانس لے کر بولے کہ’’ ہلال! میں خود کو خوش قسمت سمجھ رہا ہوں ، کیوں کہ میں بہترین وقت کے اوآخر اوربُرے وقت کے اوائل میں ریٹائر ہونے جارہا ہوں۔ بہترین وقت اب چونکہ ختم ہو چکا ہے۔ یہ وہ زمانہ تھا جب استاد کو سچ میں والدین سے بڑھ کر دیکھا اور سمجھا جاتا تھا اور استاد بھی بچے کو شفقتِ پدری سے دیکھتا تھا ۔ رہا بُرا وقت تو اس کی مثال میرے ساتھ پیش آئے ایک واقع سے مل سکتی ہے۔ میں نے ایک بچے کو میری کلاس میں غیر حاضررہتے ہوئے پایا، تو اُسے جب نصیحت کی تو بچہ والد سمیت میرے گھر آدھمکا اور کہہ کر چلے گئے کہ تمہارا کیا حق تھا کہ میرے بچے کو نصیحت کریںکہ آئو کلاس لو، تم نے میرے بچے کی تذلیل کی ہے، اب ہم آپ کے خلاف پولیس تھانے میں رپورٹ درج کریں گے۔ تو اِ ن حالات کے بیچ سبگدوش ہونا کسی نعمت کبریٰ سے کم نہیں ہے‘‘۔
اس صورتحال کو پسِ منظر میں کئی سارے موضوعات پر خامہ فرسائی کی جا سکتی ہے۔ یہاں بس یہ کہنے پر اکتفا کرنا مقصود ہے کہ اب ذرا انسان سرکاری ڈیوٹی کو دنیا پر محمول کرے اور پھر دیکھے کہ حالات کتنے پُر خطر ہیں۔ اِن پُر آشوب حالات میں زندہ رہنا کسی عذابِ اکبر سے کم نہیںہے۔ اپنے ایمان کو بچائے رکھنا کارِ درد والا معاملہ بن چکا ہے۔ نیکی کی دعوت اور بدی سے کراہت دلوانے کا کام جرمِ عظیم بن چکاہے۔ چاروں طرف پھیلی ہوئی بے حیائی اور بد اخلاقی کے عالم کا آپ کو اَز خود مشاہد کرنا پڑتا ہے۔ بچے کو نصیحت اور بوڑھے کو تعلیم دینا جیسے اُن کے عزت نفس کو ٹھیس پہنچانے کے مترداف بن چکا ہے۔ دختر ہو یا ہمشیرہ، ماں ہو یا بیوی ، پسر ہو یا پوتا ، باپ ہو یا بھائی ، اب ہر کسی سے ڈر لگتا ہے۔ دختر یا ہمشیرہ کو نصیحت کریں تو اُنہیں ناگوار ہوجاتا ہے۔ پتہ نہیں کہیںکوئی خود کشی نہ کربیٹھے۔ ماں یا بیوی سے جب حقائق پر مبنی باتیں کریں تو اپنے لیے پانی سر سے اوپر محسوس ہوتا ہے اور پھر اپنی ڈھٹائی میں مزید آگے بڑھتی ہیں۔ پسر ہو یا پوتا، اچھی اچھی باتیںسنانے کا کام اُن کو دقیانوسی لگتی ہیں اورسُن کے بھی اَن سنا کردیتے ہیں۔ باپ ہو یا بھائی ، کسی کو کسی کی عزت کا کوئی خیال نہیں ہے۔
ہمسایہ دوسرے کمزور ہمسایہ کا حق ببانگ دہل ہڑپ کر رہا ہے، لیکن اُسے کوئی کچھ کہنے والا نہیں ہے۔ بازاروں میں من مانیاں عروج پر ہیںلیکن کسی کی ہمت نہیں کہ کچھ کرسکیں ۔ سرکاری دفاتر میں رشوت حاصل کرنا اب معمول بن چکا ہے اور ہر کوئی اپنا کام خوش اسلوبی سے نپٹانے کی فکر میں رشوت دے کر آگے بڑھتا ہے۔ بچے چوراہوں اور سڑکوں پر مشکوک و معترض حالات میں بے حیائی کے واقعات ایسے ترتیب دیتے ہیں جیسے کسی بالی وڈ فلم کی شوٹنگ چل رہی ہوتی ہے اور اُسی راستے سے اُس علاقے کا مصلح ایسے دامن پکڑ کر نکل جاتا ہے جیسے کچھ ہوا ہی نہیں۔ الغرض صورتحال یہ ہے کہ ہمارے سماج کی مجموعی قدریں پامال ہورہی ہیں اور ہرکوئی اس دیکھا دیکھی میں اَن دیکھا کر رہا ہے۔میرا گھر آباد ہے، مجھے دو قت کی روٹی مل رہی ہے۔ بس! اسے آگے کی بات مجھے سوچنی ہی نہیں۔ لیکن گندگی و غلاظت کے جو ڈھیر میرے گھر کے باہر جمع ہورہے ہیں، اُس کی ’’خوشبو‘‘ میرے گھر کے بالا خانے میں بہت جلد پہنچنے والی ہے۔
حیا نہیں ہے زمانے کی آنکھ میں باقی
خدا کرے کہ جوانی تری رہے بے داغ
��������