حقیقت یہ ہے کہ 17ویں صدی سے پہلے اہل مغرب کے یہاں حقوق انسانی اور حقوق شہریت کا کوئی تصور تک نہ تھا۔10 دسمبر1948ء کے منشور انسانی حقوق کے متعلق، جناب محمد صلاح الدین صاحب مرحوم ایڈیٹر جسارت نے لکھا ہے کہ ’’قومی سطح پر بنیادی حقوق کے تحفظ میں دستور کی ناکامی کے بعد اب یہ دیکھئے کہ اس سلسلہ میں بین الاقوامی سطح پر جو انتظامات کئے گئے ہیں، وہ اپنے مقصد میں کہاں تک کامیاب رہے ہیں۔
اقوام متحدہ کے جنرل اسمبلی نے10 دسمبر 1947ء کو انسانی حقوق سے متعلق جس عالمی منشور کا اعلان کیاتھا ،وہ گویا اس ضمن میں انسانی کوششوں کی معراج ہے۔ یہ منشور30دفعات پر مشتمل ہے ،گذشتہ قسط میں آپ پندرہ دفعات پڑھ چکے ہیں ،باقی حسب ذیل ہیں:
(16) (الف) ہر بالغ مرد اور عورت کہ بلاامتیاز نسل، شہریت یا عقیدہ شادی کرنے اور گھر بسانے کا حق حاصل ہوگا۔
(ب) شادی زن وشوہر کی آزادانہ مرضی و منظوری سے ہوگی۔
(ج) خاندان، معاشرہ کا بنیادی اور فطری یونٹ ہے جو ریاست اور معاشرہ کی طرف سے مکمل تحفظ کا مستحق ہے۔
(17) (الف) ہر فرد کو تنہا یا دوسروں کے ساتھ مل کر جائیداد رکھنے کا حق ہوگا۔
(ب) کسی کو بلاجواز اس کی ملکیت سے محروم نہیں کیاجائے گا۔
(18) ہرفرد کو فکر وخیال، ضمیر اور عقیدے کی آزادی حاصل ہوگی اور اس حق میں تبدیلی، عقیدہ، اظہار عقیدہ، تبلیغ عقیدہ اور عبادت کا حق بھی شامل ہے۔
(19) ہر فرد کو آزادی اظہار خیال کاحق حاصل ہے اوراس میں کسی مداخلت کے بغیر کوئی بھی رائے رکھنے ، کسی بھی ذریعہ سے اور سرحدوں کا لحاظ کئے بغیر خیالات ومعلومات حاصل کرنے اور پہنچانے کا حق بھی شامل ہے۔
(20) (الف) ہرفرد کو پرامن اجتماع وتنظیم کا حق حاصل ہے۔
(ب)کسی کو کسی خاص تنظیم سے وابستہ ہونے پر مجبور نہیں کیا جاسکتا۔
(21) (الف) ہر فرد کو اپنے ملک کی حکومت میں براہ راست یا منتخب نمائندوں کے ذریعہ شرکت کا حق ہے۔
(ب) ہرفرد کو اپنے ملک کی سرکاری ملازمت کے حصول کا مساوی حق حاصل ہے۔
(ج) حکومت کے اختیار کی اصل بنیاد عوام کی خواہش ومرضی ہوگی جس کا اظہار انتخابات کے ذریعے آزادانہ رائے شماری اور خفیہ رائے دہی کی صورت میں ہوگا۔
(22) ہرفرد کو اپنی باوقار زندگی اور تعمیر شخصیت کیلئے سماجی تحفظ کا حق ہوگا اور وہ قومی مساعی اور بین الاقوامی تعاون کے ذریعے اور ہر ریاست کے وسائل کے مطابق معاشی، معاشرتی اور ثقافتی حقوق کا مستحق ہوگا۔
(23) (الف) ہر فرد کو کام کرنے، اپنی پسند کا پیشہ منتخب کرنے، بہتر اور منصفانہ شرائط کار حاصل کرنے اور بیروزگاری سے تحفظ پانے کا حق ہوگا۔
(ب)ہرفرد کو بہتر اور منصفانہ معاوضہ حاصل کرنے کا حق ہے جو اس کی ذات اور اس کے خاندان کیلئے باعزت زندگی بسر کرنے کی ضمانت فراہم کرسکے اور ضروری ہو تو اس کے سماجی تحفظ کیلئے کچھ دوسرے ذرائع بھی مہیا کئے جائیں۔
(ج) ہر فرد کو اپنے مفادات کے تحفظ کیلئے ٹریڈیونین بنانے اور ان میںشامل ہونے کا حق حاصل ہوگا۔
(د) ہر فرد کو بلا امتیاز یکساں کام کی یکساں اجرت ملے گی۔
(24) ہر فرد کو راحت وآرام، تفریح، اوقات کار کے معقول تعین اورتنخواہ کے ساتھ چھٹیوں کا حق ہوگا۔
(25) (الف) ہرفرد کو اپنی اور اپنے اہل خاندان کی صحت وخوشحال کیلئے معقول معیار زندگی برقرار رکھنے کا حق حاصل ہے جس میں خوراک، لباس، رہائش، طبی امداد ضروری سروس، بیروزگاری، بیماری، معذوری، بیوگی، بڑھاپے اوراسی نوعیت کے دوسرے حالات میںتحفظ بھی شامل ہے۔
(ب) زچگی وشیرخوارگی کو خصوصی توجہ اور امداد کا مستحق سمجھاجائے گا۔ اور تمام بچوں کو خواہ وہ جائز ہوں یا ناجائز یکساں سماجی تحفظ حاصل ہوگا۔
(26) (الف) ہر فردکو حصول تعلیم کا حق حاصل ہے۔
(ب)تعلیم کا مقصد انسانی شخصیت کی مکمل تعمیر اور انسانی حقوق و آزادیوں کے احترام کو مستحکم بنانا ہوگا۔
(ج)والدین کو اپنے بچوں کیلئے نوعیت تعلیم کے انتخاب کا حق حاصل ہوگا۔
(27) (الف) ہر فرد کو معاشرہ کی ثقافتی زندگی میں آزادنہ حصہ لینے علوم وفنون سے لطف اندوز ہونے اور سائنسی ترقی کے ثمرات سے متمتع ہونے کا حق ہے۔
(ب) ہرفرد کو اپنی سائنسی، ادبی یا فنی تخلیقات کے اخلاقی و مادی ثمرات کے تحفظ کا حق حاصل ہے۔
(28) ہرفرد ایسے معاشرتی اور بین الاقوامی ماحول میں زندگی بسرکرنے کا مستحق ہے۔ جس میں منشور کے ان حقوق اور آزادیوں سے بہرہ ورہونے کی ضمانت ہو۔
(29) (الف) ہرفرد پر اس معاشرے کی طرف سے ذمہ داریاں بھی عائد ہوتی ہیں جس میں رہ کر ہی اس کی شخصیت کی آزادانہ اور مکمل نشوونما ممکن ہے۔
(ب) اپنے حقوق اور آزادیوں کے سلسلہ میں ہر شخص صرف قانون کی عائد کردہ ان پابندیوں کے دائرہ میں رہے گا جن کا مقصد دوسروں کے حقوق اور آزادیوں کے احترام کو یقینی بنانا ہے۔
(ج) ان حقوق اورآزادیوں کو اقوام متحدہ کے مقاصد اور اصولوں کے منافی استعمال نہیں کیا جاسکتا۔
(30) اس منشور کے کسی بھی حصے کی ایسی تعبیر نہیں کی جاسکے گی جس کا مقصد کسی بھی ریاست، گروپ یافرد کو کسی ایسی سرگرمی میں مصروف ہونے کا حق دلاتا ہو جس کے ذریعہ وہ ان متعین حقوق اور آزادیوں ہی کا صفایا کردے۔
اس منشور میں جن حقوق اورآزادیوں کا اعلان کیاگیا ہے انہیں بعد میں دو حصوں میں تقسیم کردیا گیا۔ ایک فہرست میں معاشی، سماجی اور ثقافتی حقوق کو یکجا کردیاگیا اوردوسری فہرست میں شہری اور ریاستی حقوق کو جنرل اسمبلی نے 1966ء میں ان دو عہدناموں Covenants کی منظوری دی اور رکن ریاستوں کی صوابدید پر چھوڑدیا کہ جو ملک رضاکارانہ طور پر ان حقوق کو تسلیم کرتا ہو وہ ان عہد ناموں پر دستخط کردے۔ (حوالہ بنیادی حقوق)۔ ان۰۳ دفعات پر مشتمل منشور پڑھنے اور اس کے ایک ایک لفظ پر غور کرنے سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ انسانیت کیلئے بہت اچھا کام ہوا ہے۔ آج192 ممالک اس کے رکن ہیں، ان میں کچھ تو اقوام متحدہ کی تشکیل کے ابتدائی وقت سے ہی رکن بن چکے تھے اور بہت سے ممالک مختلف ادوار میں اس کی رکنیت حاصل کرتے رہے، البتہ دنیا کی سب سے زیادہ مظلوم اور محروم کردہ قوم فلسطین کو باقاعدہ اس کی رکنیت تسلیم نہیں کی گئی، اس ادارہ میں شمولیت کی حیثیت صرف ایک تماش بین کی ہے ، ہاں وہ اقوام متحدہ کی مجالس میں بیٹھ ضرور سکتے ہیں مگر ووٹ دینے کا حق نہیں رکھتے۔
یہ بات بھی قارئین کے دلچسپی سے خالی نہ ہوگی کہ مذکورہ بالا منشور انسانی حقوق 10ڈسمبر1948ء کے اعلان سے قبل بھی ’’لیگ آف دی نیشنز‘‘ نامی تنظیم وجود میں آچکی تھی جس کی تاریخ 24 اکتوبر1945ء بتائی جاتی ہے ، اقوام متحدہ یا یونائیٹڈ نیشنز کا نام سب سے پہلے امریکی صدر فرینکلین روزویلٹ نے1941ء میں استعمال کیا تھا، بعد میں جب اس ادارہ کا قیام1945ء میں عمل میں آیا تو صرف 50 ممالک نے اس ادارہ کیلئے دستخط کئے تھے، البتہ پولینڈ کچھ برس بعد دستخط کرچکا۔ اس طرح اقوام متحدہ تنظیم بالآخر24 اکتوبر1945ء کو عملاً قائم ہوچکی تھی، اوراس کی ترقی یافتہ شکل 10ڈسمبر 1948ء میں ظاہر ہوئی۔ اس کے اراکین کی تعداد اپنے قیام سے لے کر ’’مونٹینگیرو‘‘ کی رکنیت 28 جون2006ء 192 رکن ممالک تک جاپہنچی۔(جاری)
سینئر کالم نگارو آزاد صحافی۔ فو ن نمبر:9849099228