حضرت شاہ ہمدان ؒ خدمات احسانات عنایات نوازشات

یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ حضرت شاہ ہمدانؒ کے روحانی ونسبی اکابرین میں ایسے جید علمائے دین اور پیشوایانِ اُمت کی صحبت وتربیت آپ ؒ کونصیب ہوئی جن کے اندر دعوتی ،سماجی ،تمدنی ، تہذیبی، ثقافتی اورروحانی انقلاب برپا کر نے کی صلاحیتیں بدرجہ ٔ اتم موجود تھیں۔ یہ انہی کا فیض وبرکت ہے جس کے طفیل امیر کبیر ؒ نے نہ صرف کشمیر حلقہ بگوشِ اسلام کیا بلکہ اسلامیان ِ وطن کو صراط مستقیم پرا ستوار کرنے کے لئے سینکڑوں ضخیم علمی کتابوں کابحرذخار ہمارے لئے اپنا ورثہ چھوڑا ۔حضرت شاہ ہمدان ؒ کے ماموں حضرت سید علائوالدولہ سمنانیؒ کے بارے میں روایت ہے کہ انہوں نے سینکڑوں کتابیں تصنیف کیں۔حضرت سید علائوالدولہ سمنانیؒ کے بعد حضرت شاہ ہمدانؒ اس سلسلہ الذہب کے نمایاں کڑی تھے جن کے بارے میں مورخین کا دعویٰ ہے کہ اس نابغہ روزگار شخصیت نے کم از کم دو سو اکتھر (۲۷۱) تصانیف عالم اسلام کو پیش کیں جن کاایک ایک لفظ علم ومعرفت کا بحر قلزم ہے۔حضرت سید قاسم شاہ بخاری ؒ جن کے تبحر علمی کا ایک زمانہ معترف ہے ، حضرت شاہ ہمدانؒ کے منظوم کلام موسوم بہ ’’چہل اسرار‘‘ کے بارے میں فرماتے کہ میں ہرکتاب کی تشریح کرنے کی کوشش کرسکتا ہوں، سوائے ’’چہل اسرار‘‘ کے کیونکہ اس میں روحانی دقیق نقاط ہیں جن کا حل کرنا اور سمجھنا صرف ان عارفین کاکام ہے جوالہامی رموزات پر دسترس رکھتے ہوں۔ حضرت شاہ ہمدانؒ نے تمام دینی وروحانی موضوعات پر اپنی بیش قیمت علمی امانتیں ہمارے سپر د کر دی ہیں۔ان کی یہ خامہ فرسائیاں دیکھ کر بڑے بڑے دانشورانِ ملت عش عش کر رہے ہیں کہ امیر کبیر ؒ کوسیر ربع مسکون،تبلیغ و دعوتِ اسلام اور بلند وبالا روحانی مدارج طے کر نے کی ہمہ وقت مشغولیت کے باوجود ان علمی خدمات وکمالات کیلئے کہاں سے اتنا وقت ملتا تھا؟ یہ دراصل اللہ تعالیٰ کی قدرتِ کاملہ کا مظہرہے کہ ان جیسے خاص الخاص بندگان کو ایسے غیر معمولی اوصاف سے نوازتا ہے کہ یہ اپنی بے پناہ صلاحیت روحانی سے ایسے قابل قدرکارنامے انجام دیتے ہیں جو عام انسان کے فہم و فراست سے باہر ہوتے ہیں۔ 
حضرت شاہ ہمدانؒ کو علوم القرآن پر اتنی گہری نظر تھی کہ قرآن کے ناسخ ومنسوخ جیسے دقیق مسئلہ پر بھی انہوں نے بآسانی اپنا وسیع الفکر اور کثیرالمعنی قلم اٹھا کر علمی گتھیاںسلجھائیں ۔ واضح رہے علم ناسخ ومنسوخ کے بارے میں لاعلمیت بڑے پیچیدہ اختلافات کی جڑ بنتی  رہی ہے ۔اسی لئے حضرت امیر المومنین علی المرتضیٰ ؓ نے فرمایاہے کہ اُس عالم ومبلغ کو منبر پر بیٹھنے کی اجازت ہی نہیں ہونی چاہئے جس کے پاس  ِناسخ ومنسوخ کا علم نہ ہو۔‘‘ قرآن مجید پر وسیع الجہت کام کرتے ہوئے آنجنابؒ نے احکام القرآن پر اپنی ایک کتاب مرتب فرمائی اور  قرآنیات کے حوالے سے یہ حضرت شاہ ہمدانؒ کی ایک اعلیٰ پایہ علمی خدمت ہے۔ آپ ؒ نے احادیث کے موضوع پر المودتی القربیٰ ،روضۃ الفردوس، اربعین امیریہ، اربعین فی فضائل الا امیر المومنین،سبعین فی فضائل امیر المومنین،اربعین فی فضائل خلفائے اربعۃرقم فرمائیں۔حضرت شاہ ہمدانؒ نے سیرت مبارک رسول برحق صلی اللہ علیہ وسلم بالخصوص شمائل نبویہ صلعم پر اپنے گلہائے عقیدت نچھاور کئے ہیں ۔ اس کے علاوہ اسرارِ وحی، انسانِ کامل، روح اعظم کے موضوعات پر عربی زبان میں اپنے قلم کو جنبش دی۔اوراداور اذکار کے حوالے سے عربی میں اورادِ فتحیہ ،اورادِ عصریہ، رسالہ ذکریہ، اوراورادِ ادعیہ قابل ذکرہیں، ان میں سے اوراد فتحیہ اوراوراد ِعصریہ اکثر اہل کشمیر کو وردِ زبان ہیں۔ اورادِ فتحیہ خالصتاً نغمہ  ٔتوحیداور روحانی بالیدگی کا سرنامہ کہلاسکتا ہے۔اورادِفتحیہ بعداز نماز فجر اوراورادِ عصریہ بعد نماز عصر عقیدت مندوںکے لئے تریاق صفت روحانی وظیفہ ہے۔ تربیت مریدان و تزکیہ سالکان کیلئے آداب المریدین ،سیر الطالبین اورمنازل السالکین تین درجے کے لوگوں کیلئے مرتب فرمائے ہیں ۔اول وہ جماعت جسے کچھ حاصل کرنے کا ارادہ ہو، اس کے لئے کیسے آدابِ طلب ہونے چاہئیں،دوم ارادے کے بعد جب اُسے کسی چیز کی تشنگی محسوس ہو تو طلب کے راستوں میں احتیاط، اجتنابات اورمرغوبات کے رموز کا علم ہونا چاہئے ،پھر منازلِ روحانی حاصل کرکے ایک مومن کی لازمی خصوصیات مثلاً نیستی،نرمی ،حسن خلق اور عفوودرگذر ،خدمتِ خلق ،شب بیداری ،آہِ سحر گاہی ،دوسروں کیلئے درد وسوز جگر ان روحانی منازل کا ثمرہ ہوتے ہیں۔ اگر ایسے اخلاقِ فاضلہ حاصل نہ ہوئے ہوں تو سمجھئے کہ سالک اپنی کاوش میں ناکام ہوا ۔ افسوس کہ آج ہم جن خرافات کو پیر مریدی کا نام دیتے ہیں ،وہ حضرت شاہ ہمدانؒ کے ان مبنی بر قرآن وحدیث ارشادات وفرمودات سے ہزاروں قوس دور ہیں۔حضرت شاہ ہمدانؒ نے ان مردانِ خدا کے حلیات ،کیفیات و حقیقتوں پر مبنی تحریرات سے لوگوں کواندھیروں سے روشنی کی طرف لایا۔فقر کے معنی پر رسا لۂ فقریہ، جسمانی وروحانی سیر پر رسا لۂ فتوتیہ یعنی مرد ِخدا اس کو کہتے ہیں جو جسم کے لحاظ سے زمین پر ہو اور افکار وبصیرت کے لحاظ سے شاہباز کی طرح بلند آسمانوں میں سیر کرتا ہوا نظر آئے ۔آں جناب ؒ نے رسا  لۂ درویشیہ میں یہ نشاندہی کی ہے کہ ایک درویش صفت مومن کے اندر کیسے اوصاف ہونے چاہئیں ،اگر یہ نہ ہوںتو یہ درویشی ، جبہّ وتسبیح عیاری اور مکاری کے سوا کچھ بھی نہیں ۔ ایک دن ایک مکار کو تسبیح گھماتے ہوئے دیکھا تو فرمایا کیوں بھیک مانگتے ہو ؟جواب دیا کیا میں نے کسی سے کچھ مانگا ؟حضرت شاہ ہمدانؒ نے فرمایا ایک زبان سے نہیں بلکہ تم تسبیح کے سو دانوں کے زبان سے خاموش انداز میں لوگوں سے بھیک مانگتے ہو، تمہیں شرم بھی نہیں آتی ! حضرت شاہ ہمدان ؒ نے ایک عظیم مربی و مّزکی کی حیثیت سے حالاتِ فقراء اور وصفات ِ فقراء پر بھی رسالہ جات تحریر فرمائے ۔ حقیقت میں شاہ ہمدانؒ درویش کامل تھے جیسا کہ حضرت علامہ اقبال ؒ فرماتے ہیں   ؎   
مرشدآں کشور مینو نظیر 
میر و درویش وسلاطین راامیر 
حضرت شاہ ہمدان ؒصرف ظاہراً کوئی شہنشاہ نہ تھے مگر باطناً وہ ایسے قائد ِدرویشاں ، سالار ِ مومناں اورسلطان ا لقلوب تھے جو ظاہر میں درویش ِ خدا مست اورباطن میں بادشاہ کی طرح اپنی ایک روحانی سلطنت رکھتے تھے۔ اس لئے اس امیر الامرء سے بعض دنیوی بادشاہت رکھنے والے کم ظرف خائف رہتے تھے کہ کہیں عوام کے دلوں پر راج کر نے والی یہ پسندیدہ تاباں شخصیت لوگوں میں انقلاب لاکر ہماری حکومت کا تختہ نہ الٹ دیں ۔ یہ تنگ نظر اور کج فہم کیا جانتے کہ ان عظیم المرتبت ہستیوں میں حکومت وسلطنت کی کوئی آرزو نہیں ہوتی  بلکہ یہ دل کے بادشاہ ہوتے ۔ بہر حال حضرت شاہ ہمدانؒ نے اخلاقیات نبویہؐ کو سامنے رکھتے ہوئے مکارم اخلاق ،منہاج العارفین تلقینیہ ،دہ قاعدہ ، امیریہ وغیرہ نصائح پر مبنی رسالوں کو مرتب فرمایا ۔ دراصل یہ افکار تازہ حضرت شیخ کبریٰؒ کی تعلیمات کی خوشہ چینی ہیں جن کا حوالہ حضرت علامہ خاکی ؒ نے ’’وردالمریدین ‘‘میںدیا ہے ۔ انجمن حمایت الاسلام نے ان رسائل میں سے رسالہ حل مشکل ،مکتوبات، چہل اسرار ، اور فارسی وکشمیری زبان میں منہاج العارفین ،دہ قائدہ امیریہ، وغیرہ شایع کرنے کی سعادت حاصل کی ہے۔حضرت شاہ ہمدان ؒنے عربی اورفارسی میں صوفیاء میں مروج اصطلاحات پر مبنی رسالہ رقم کئے ۔ حضرت والا ؒ قلم کے دھنی افراد کو تعلیم اور ہدایت دیتے ہیں کہ کسی علمی یاروحانی موضوع پر قلم اٹھانے سے پہلے اس موضوع کے تحت اصطلاحات اور ان کی توضیحات پر گہری نظر ہونی چاہئے ورنہ تحریر میں افراط وتفریط کا سقم پیدا ہونے کا اندیشہ رہتا ہے۔اس لئے علمائے دین نے تفسیر حدیث ،فقہ ،ادب ،نثر ونظم ،تصوف وغیرہ علوم میں الگ الگ اصطلاحات بیان کی ہیں جن کا اپنے اپنے شعبہ میں الگ الگ معانی ہیں ۔ ان کو بعض اوقات ایک ساتھ ملانے سے بات یا خیال کی صحیح تشریح اور ترجمانی نہیں ہوتی ۔
حضرت شاہ ہمدانؒ عالم بے بدل اور مبلغ بااثر ہونے کے علاوہ علم طب و جراحت پر کماحقہ دسترس رکھتے تھے ۔حفظانِ صحت ، آداب تشریح الابدان ،علم اعمل وافعال اعضاء جس میں جگر گردہ نظام ہاضمہ خون اوردما غ کی حرکات ، امراض اور ان کے اسباب پر وسیع نظر رکھتے ہوئے ان کو ہمارے لئے باعث ِاستفادہ فرمایا ۔ان رسالہ جات کے گہرے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ حضرت شاہ ہمدانؒنے باقاعدہ نامور اساتذۂ طب سے مہارت وتربیت حاصل کی ہوئی ہے۔ یہاں یہ بات ضمنی طور رقم کرنا چاہتا ہوں کہ علامہ تھانویؒ ایک بار راستے میں ایک کباڑی سے پرانی بوسیدہ کتابوں کے ڈھیر میں سے جہاز رانی کے موضوع پر ایک کتاب حاصل کی ،مطالعہ کرکے ایک بار اس پر تقریر فرمائی، مجمع میں ایک جہاز ران اُٹھ کھڑا ہوا، عرض کی جناب والا نے کتنے ملکوں میں جہاز چلاتے ہوئے سفر کیا ہے ؟ اس ماہر کو یقین ہوا کہ شاید عالم بننے سے پہلے یہ حضرت جہاز ران تھے۔یقینا شاہ ہمدانؒ کی شعبہ طب میں بھی بصیرت ودرک دیکھتے ہوئے لگتا ہے کہ آپ کی شخصیت عجائبات عالم میں سے تھی۔ حضرت داتا گنج بخش ؒنے لکھا ہے کہ ’’رسالۂ قشیرہ ‘‘کے مصنف حضرت علامہ قشیریؒشخصیات عجائب میں سے ہیں، اسی طرح’’تشریح الابدان‘‘ میں حضرت شاہ ہمدان ؒ نے انسانی جسم کی تمام ہڈیوں کا خاکہ پیش کیا ہے، اس کے علاوہ علم نباتات، فلکیات، خطاطی،نباتات ، عروض، حیوانات ، علم کیمیا ء کے علاوہ قیافیہ شناسی پر کتابیں لکھی ہیںاور دکھایا ہے کہ انسان کی بناوٹ ،کان ، ابروئے چشم، آنکھ ، ناک، منہ، رخسار، آواز ، گردن، شکم ، پیٹھ، پنڈلی، کندھے، ہتھیلی،کی سا اور احسانات خت سے کسی مرد وزن کی عادات وخصائل پر روشنی ڈالی جاسکتی ہے ۔ روایت ہے کہ علم جراحی کے موضوع پر کتاب لکھتے ہوئے خود ایک سفر میں اپنے مرید کو APENDIX کی جراحی کی۔ اس کے علاوہ حضرت شیخ محی الدین ابن عربی ؒ کے ’’فصوص الحکم‘‘ کی فارسی تشریح وخلاصہ بصورت حل الفصوص ،رسالہ عقلیہ، ماخوذ از احیا ء العلوم ، رسالہ خواطریہ کی ترتیب ماخوذ از فتوحات مکیہ اورشیخ نجم الدین احمد الکبریٰ ؒکی فواتح الجمال ،اختیارات’’ منطق الطیر‘‘ سے حضرت شیخ فرید الدین عطار ؒ کی منطق الطیر کا خلاصہ پیش کرکے اس کتاب کو علمی وروحانی نقاط پیش کئے ۔اسرار النقط کی تصنیف کو ایک انوکھے انداز میں پیش کرتے ہوئے تمام علماء کو حیرت میں ڈال دیا بلکہ اس کتاب کی وساطت سے عارفانہ افکار پیش کئے۔ اس کے علاوہ رسالہ التوبہ عربی میں مراۃ التائبین مناجات ،انسان نامہ ، شرح قصیدہ خمریہ ،الرسالہ مکانیہ والزمانیہ، رسالہ معرفۃ النفس ، رسالہ الشرقیہ، رسالہ غیبیہ، دستورالعمل، معرفۃ النفس، کیفیت جواب ، رسالہ وصیت نامہ، رسالہ نوریہ، رسالہ کشف الحقائق ،فوائد العرفانیہ، انوارالاذکار فی ذوی القلوب ، اربعون لآلی، مناقب سادات ، رسالہ الذاتیہ، اسرار القلبیہ، روح القدس، رسالہ علماء الدین ، طبقات باطنیہ کے علاوہ سب سے بڑی دوامی شہرت ’’ ذخیرۃ الملوک‘‘ کو ملی ہے جو دراصل حضرت امیر کبیرؒ نے امرائے سلطنت کیلئے لکھی تھی تاکہ انہیں اسلوبِ حکومت، تعلق رعایا ،عدل گستری عوام کی وساطت سے خلافت ِحقیقی کے رموزات سمجھنے میں ایک مشعل ِراہ ہاتھ آئے ۔اس کتاب کے مختلف زبانوں میںتراجم کئے گئے اوراس پر بہت ساری تحقیق کرکے اس میں موجود بے شمار نکات کو محققین، سکالروں اور دانشوروںنے منظر عام پرلایا ہے۔یہ علمی کتا ب ہر مکتب ِفکر کیلئے قابل مطالعہ کتا ب ہے۔ مشائخین وقت نے اس کتاب کو تصوف کے لحاظ سے ’’عوارف المعارف‘‘ کے انداز میں قبول کیا ۔ امیر کبیر ؒ کے بہت سے ایسے علمی وفکری رسالے اور کتب تاریخ میں ہی درج نہیں بلکہ ان کے مخطوطات دنیا کے مختلف کتب خانوں بشمول تاجکستان ، تاشقند ، تہران ،کشمیر ،ہندوستان وپاکستان میں محفوظ ہیں ۔ کشمیر یونیورسٹی کی مر کزی لائبریری کے علاوہ کشمیر کے اہل علم خانوادوں کے ذاتی کتب خانوں میں بھی آج بھی یہ علمی سرمایہ مقفل ہے ۔راقم نے مرحوم سید غلام احمد منطقی قادری کے ذاتی کتب خانے جس میں آج بھی بائیس ہزار کتابیں موجود ہیں، شاہ ہمدان ؒ کے تحریر کردہ رسالوں پر مشتمل مجموعہ رسائل میں سے پنتالیس کتابوں کا فوٹو سٹیٹ حاصل کرکے اپنے پاس محفوظ رکھے، جن میں چند رسالہ جات مثلاً حلِ مشکل ، مکتوبات ،دہ قاعدہ امیر ،چہل اسرار شائع کرکے انہیںعوام اور شائقین تک پہنچانے کی ایک ادنیٰ کوشش کی لیکن مجھے اس پہلوتہی کا احسا س دامن گیر ہے کہ حقیقی انداز میں حضرت شاہ ہمدانؒ کی تصنیفات ونگارشات عام کرنے میں کشمیر کے علمائے کرام ،دانش وروں، متعلقہ حکومتی محکموں اوردیگر لوگ ان کے تراجم شائع کرنے میں ناکام رہے ہیں ۔ افسوس کہ ہم نے صرف ماہانہ مجالس ،سالانہ عرس اور کبھی کبھارسرکاری میڈیا پر دس منٹ کی تقریر تک ہی امیر کبیرؒ کی وسیع الاطراف شخصیت کی تحدید کر کے اس کی ہمہ گیریت کو عوام الناس کی نظروں سے چھپا کے رکھا ہوا ہے۔ شاید مادیت کے غلبہ نے ہمیں اپنے ملّی وقومی محسنین کے ساتھ ایسا ہی بُرا برتائو کرنے پر آمادہ کیا ہو اہے ۔ ہمیں معلوم ہونا چاہئے کہ شاہ ہمدانؒ ہمارے وہ بطل جلیل ، رجل ِعظیم اورمحسن کشمیرہیں جن کی خداداد صلاحیتوں ، انمول خدمات ، جذبہ ٔایثار اور بے حد وحساب اخلاص مندی کے نتیجے میں ہی ہم بت پرستی اور شرک وکفر کے ا ندھیاروں سے نکل کر شاہراہِ اسلام پر گامزن ہوئے ، دین ِ حق کے ہمہ جہت فیوضات سے آراستہ ہوئے، علم تہذیب تمدن صنعت وحرفت سے مالا مال ہوئے مگر افسوس کہ ہم اپنی اپنی جگہ قدرناشناس نکلے کہ سیدالسادات سالارِ عجمؒ کے علمی چراغاں کی ضیا پاشیوں سے اپنے فکر وعمل کی دنیا روشن کر نے سے غافل ہیں ۔ اس امر میں کوئی مبالغہ آمیز ی نہیں کہ ارض کشمیر حضرت شاہ ہمدانؒ کی خدمات ونوازشات کے زیر بار احسان ہے ۔ اگر آں جناب ؒ نے ہم پر یہ بے لوث نوازشات و عنایات مختلف محاذوں پر سرگرم عمل ہوکر نہ کی ہوتیں ، خاص کر ہمارا دائمی الحاق دین اسلام سے نہ کیا ہوتاتوآج کشمیر کی حیثیت کیا کچھ ہوتی، وہ بتانے کی مجھے ضرورت نہیں ۔ اس لئے ہم پر انفرادی اور اجتماعی ذمہ داری ہے کہ ہم اپنے اسلامی تشخص کے علاوہ ان تمام نوازشات و عنایات کی حفاظت اور ان کی بحالی میں تمام فروعی اختلافات سے بالا تر ہوکر ایک دوسرے کے شانہ بشانہ حضرت شاہ ہمدان کے خوابوں کے کشمیر کی تعمیر میں آگے آئیں۔ یہی حضرت شاہ ہمدان ؒ کے ساتھ والہانہ عقیدت کا بہترین اظہار ہے اور اسی کے توسل سے ہم امیر کبیر ؒ کے احسانات ونوازشات کا تھوڑا بہت بد لہ چکا سکتے ہیں۔ 
رابطہ:صدر انجمن حمایت الاسلام 
email himayatulislam [email protected]
cell no.9419076985