’’رِبَا‘‘ یعنی سود۔یہ لفظ عربی زبان میں دو طریقوں پر لکھا جاتا ہے۔’’الرِّبَا‘‘اور ’’الرِّبٰو‘‘۔دونوں صورتوں میں اس لفظ کا اطلاق سود پر ہی ہوتا ہے۔اللہ تعلی کا ارشاد ہے’’وہ لوگ جو سود(رِبَا) کھاتے ہیں ‘کھڑے نہیں ہونگے (حشرمیں) مگر جیسے وہ شخص کھڑاہوتا ہے جسے شیطان نے چھوکر خبطی (مخبوط الحواس) بنا دیا ہو۔‘‘
لغت میں ’’رِبَا‘‘ کے معنی بڑھنا اور زیادہ ہونے کے ملتے ہیں ؎۱۔شریعت میں البتہ یہ لفظ بطورِ اصطلاح مستعمل ہے۔ابو نعمان سیف اللہ خالد حفظہ اللہ رقمطراز ہیں ’’ربا کا لفظی معنی بڑھنا‘زیادہ ہونا ہے۔اور شریعت کی اصطلاح میں قرض دے کر اصل مال سے جو زیادہ لیاجاتا ہے ‘اُسے ربا کہتے ہیں۔یعنی کسی قرض پر بغیرِ کسی مالی معاوضہ کے محض مہلت بڑھا دینے کی بنا پر زیادتی حاصل کی جائے‘‘(تفسیر دعوت القرآن؍ جلد اول ؍ 374)حجرابنِ اسقلانیؒ نے ’’فتح الباری‘‘میں سود کی وضاحت کرتے ہوئے لکھا ہے’’خرید وفروخت میں ایک جنس کے تبادلہ کے وقت زیادہ مقدار حاصل کرنا‘‘ ۲؎۔اسی طرح سود کی تعریف کے ضمن میں ایک قول (جوقاموس الفقھی میں درج ہے )یہ ہے کہ ’’سود ایسا زائد مال ہے جو شرعی معیار کے مطابق کسی عوض سے خالی ہواور دو بیع کرنے والوں میں سے کسی ایک کے لئے معاوضہ میں مشروط ہو‘‘ ۳؎۔
سوداہلِ دانش کی نظر میں :۔دنیاکے مختلف حکماء اور اہلِ دانش نے ہر دور اور ہر زمانے میں سودی نظام کے خلاف صدائے احتجاج بلند کیا ہے۔جن میں بہت سے غیر مسلم مفکر اور علماء بھی شامل ہیں۔مثال کے طور پر یونان(Greece)کا مشہور فلسفی ارسطو‘جسے فلسفہ کا معلمِ اول کہا جاتا ہے‘کہتا ہے کہ سود کی آمدنی قابلِ نفرت آمدنی ہے۔چنانچہ سولھویں صدی عیسوی میں عیسائی چرچ(کلیسا)کے خلاف جرمنی سے ایک تحریک اُٹھی جو رفارمیشن (Reformation)کے نام سے مشہور ہے۔اس تحریک نے عیسائیوں کے درمیان دو حلقے قائم کئے ’’Catholic‘‘ اور’’Protestants‘‘۔اس تحریک کا بانی مارٹن لیوتھر( Luthar Martin) سودی نظام سے متعلق جرمن قوم پر ماتم کرتے ہوئے کہتا ہے کہ جرمن قوم مصیبت میں پڑچکی ہے کیونکہ اس قوم میں سود کا رواج ہوچکا ہے۔سود کسی بھی صورت میں نفع بخش نہیںہے بلکہ ماہرینِ اقتصادیات کے مطابق بے روزگاری کی بڑھتی شرح کا اصل سبب سودی نظام ہے۔اس حوالے سے آپ محمود احمد کی کتاب ’’Man and Money‘‘کا مطالعہ کرسکتے ہیں۔
دینِ اسلام میں سود کی حرمت:۔سورہ بقرہ کے اڑتیسویں رکوع کی پہلی آیت کو چھوڑکرقریب قریب باقی تمام آیات سود کی حرمت سے متعلق ہیں۔رکوع کے درمیان البتہ ایک آیت(آیت نمبر۔277)آئی ہے جس میں ایمان والوں کو اعمالِ صالح کرنے ‘ نماز قائم کرنے اور زکو ٰۃ ادا کرنے کی ترغیب دلائی گئی ہے۔ابو نعمان سیف اللہ خالد کہتے ہیں کہ ’’سود کی آیتوں کے درمیان اس آیت کو لانے کا مقصد یہ بیان کرنا ہے کہ سودی کاروبار سے بچائو کا اہم سبب ایمان باللہ اور اس کے حقوق کی ادائیگی ہے‘‘ ۴؎۔چنانچہ ابتداء میں جس آیت کا ذکر ہوچکا وہ اصل میں اسی رکوع کی ایک آیت کا جزہے ۔اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:’’وہ لوگ جو سود کھاتے ہیں کھڑے نہیں ہو ںگے(حشر میں) مگر جیسے وہ شخص کھڑا ہوتا ہے جسے شیطان نے چھوکر خبطی (مخبوط الحواس)بنادیاہو۔یہ اس لئے کہ وہ کہتے ہیں کہ بیع(تجارت) بھی توسودہی کی طرح ہے۔حالانکہ اللہ نے بیع کو حلال اور سود کو حرام کیا ے۔پھر جس کے پاس اُس کے ربّ کی طرف سے کوئی نصیحت آئے پس وہ باز آجائے‘تو جو پہلے ہو چکا وہ اُسی کا ہے۔ اُس کا معاملہ اللہ کے حوالے ہے۔اور جو دوبارہ ایسا کریں وہ آگ والے ہیںوہ اس میں ہمیشہ رہنے والے ہیں۔اللہ سود کو مٹاتاہے اور صدقات کو بڑھاتاہے۔اور اللہ کسی ایسے شخص سے محبت نہیں رکھتا جوسخت ناشکرا‘سخت گناہ گارہو۔بے شک جولوگ ایمان لائے اور انہوںنے نیک عمل کئے اور نماز قائم کرتے رہے اور زکوٰۃ اداکرتے رہے‘اُن کا اجر اُن کے رب کے پاس ہے اور اُن پرکوئی خوف ہے اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔اے لوگو!جو ایمان لائے ہواللہ کا تقویٰ اختیار کرو اور سود میں سے جوباقی رہ گیا ہے اُسے چھوڑدو‘اگرتم مومن ہو۔پھر اگر تم نے ایسا نہ کیاتو اللہ اور اُس کے رسولؐ کی طرف سے تمہارے خلاف اعلانِ جنگ ہے۔اور اگرتوبہ کرلو تو تمہارے لئے تمہارے اصل مال ہیں۔نہ تم ظلم کرونہ تمہارے ساتھ ظلم کیا جائے گا۔اور اگر کوئی تنگ دست ہو توآسانی(فراخی)تک مہلت دینا لازم ہے اور یہ بات کہ صدقہ کردو تمہارے لئے بہتر ہے اور اگر تم جانتے ہو۔اور اس دن سے ڈرو جس دن تم لوٹادئے جائو گے اللہ کی طرف‘پھر ہرشخص کو پورا دیا جائے گا جو اس نے کمایااور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔(سورہ البقرہ۔275-281)
سورہ البقرہ کا یہ رکوع پورے قرآنِ مجید میں سود کی حرمت اور سود کے متعلقات کے ضمن میں ایک جامع رکوع ہے۔حضرت عبداللہ ابنِ عباسؓ کا بیان ہے کہ رسول اللہؐ پر جو آخری آیت نازل ہوئی وہ سود کی آیت تھی(بخاری۔4544)۔دوسری ایک روایت میں البتہ یہی بیان انہوں نے آیت’’وَتَقُوْایَوْمًاتُرْجِعُوْنَ فِیْہَ اِلَی اللّٰہِ‘‘پر دیا ہے ۵؎۔اور یہ آیت بھی اسی رکوع میں شامل ہے۔
سودخوروں کا انجام:۔ حضرت عبداللہ ابن عباسؓ کا قول ہے کہ سود خور حشر میں مجنون اُٹھے گا۔یعنی اس پر جنون سوار ہوگا۔اُنؓ کا یہ قول اس آیت پر مبنی ہے’’وہ لوگ جو سود کھاتے ہیںکھڑے نہیں ہوں گے(حشرمیں)مگر جیسے وہ شخص کھڑا ہوتا ہے جسے شیطان نے چھوکر (المسّ) خبطی بنا دیا ہو‘‘لفظ’’المسّ‘‘کے مختلف معنی بیان کئے گئے ہیں۔مشہور مفسر ابو زکریایحیٰی بن زیاد الفراء(822-761) نے’’ المسّ ‘‘کے معنی جنون اور دیوانگی کے لئے ہے۔مولاناعبدالحفیظ بلیاویؔ نے ’’مصباح اللغات‘‘میں اس لفظ کا معنی ’’چھونا‘‘بیان کیا ہے۔چنانچہ حضرت مریمؑ کے قصے میں یہ لفظ متعددبار آیا ہے اور قریب قریب ہر بار چھونے ہی کے معنی میں آیاہے۔جیسے سورہ اٰلِ عمران کے الفاظ ہیں’’قَالَتْ رَبِّ انّٰی یَکُوْنَ لِیْ وَلَدٌ وَلَمْ یَمْسَسْنِیْ بَشَرٌ‘‘حضرت مریم ؑ نے کہا اے میرے ربّ!میرے ہاںلڑ کا کیسے ہوگا‘حالانکہ کسی بشر نے مجھے چُھوا نہیں ہے‘‘۔پھر یہی کلمات سورہ مریم میں بھی آئے ہیں ۔لفظ ’’المسّ‘‘کا ایک معنی پہنچنا بھی ہے ‘جیسے تکلیف پہنچنا‘ایذا پہنچنا وغیرہ۔سورہ اٰلِ عمران کی آیت نمبر ۱۲۰ میں یہ لفظ اسی معنی آیاہے۔مختصر یہ کہ سود خورآخرت میں اس حال پر اُٹھیں گے گویا شیطان نے انہیں تکلیف پہنچائی ہوجس کے باعث اُن کی عقل ناکارہ ہو چکی ہوگی اور اُن کی حرکتیں اور اُن کا ہر عمل دیوانوں اور پاگلوں جیسا ہوگا۔یہ گویا اُن کی گمراہیوں اور اُن کی مکاریوں کا نتیجہ ہوگا ‘جن کی بنیاد پر دنیا میںوہ بڑے بڑے کارخانے اور Shopping Malls وغیرہ چلاتے تھے۔
بیع اور رِبا میں فرق:۔سود خوروں کے اس انجامِ بد کی ایک وجہ اللہ تعلی نے یہ بیان کی ہے کہ یہ لوگ تجارت (بیع)کو بھی ربا(سود) کے مثل ٹھہراتے تھے یا ٹھہراتے ہیں ۔’’یہ اس لئے کہ وہ کہتے ہیں کہ بیع بھی تو سود ہی کی طرح ہے‘‘اس آیت کا نزول باقی تمام آیات کی طرح دورِ نبوت میں ہوا جس پر قریب قریب ساڑھے چودہ سو سال گزر چکے ہیں ‘لیکن صدہا زمانی تغیرات اور تبدیلیوں کے باوجود آج بھی سود خوروں کی زبان سے اکثر یہ بات سننے کو ملتی ہے کہ تجارت میں بھی تو دس روپیوں کی کوئی چیز بارہ روپیوں میں فروخت کی جاتی ہے‘پھر سود کیوں کر غلط ہوا۔حالانکہ تجارت اور سود میں زمین وآسمان کا فرق ہے۔سب سے بڑا فرق جو خود اللہ تعلی نے اپنے بندوں پر اپنا حق جتاتے ہوئے بیان کیا ہے یہ ہے کہ تجارت کو حلال جبکہ سود کو حرام کیا گیاہے۔’’وَاَحْلَّ اللّٰہُ الْبَیْعُ وَحَرَّمَ الرِّبٰوا‘‘ایک مومنِ صادق کے لئے اللہ کے حکم سے بڑھ کراور کچھ نہیں‘لیکن جن لوگوں کے دلوں میں کچی ہوتی ہے وہ قرآن کے جواب پر مطمئین نہیں ہوتے تو اُن لوگوں کے لئے وہ عقلی جوابات ہیں جن کا ذکر مذکورہ آیت کے ذیل میں قریب قریب تمام مفسرین نے کیا ہے ۔اور سود اور تجارت میں موجود فرق کو واضح کیا ہے۔حافظ عمران ایوب لاہوری ؔنے کتاب البیوع ۶؎میں سود اور تجارت کے مابین فرق کو بالترتیب یوں رقم کیا ہے:۔(۱) سود میں نفع کا حصول یقینی ہوتا ہے جبکہ تجارت میں نفع بھی ہوسکتا ہے اور نقصان بھی (۲) سود میں صرف رقم کا رقم سے تبادلہ ہوتا ہے اور مخصوص مہلت کے عوض نفع حاصل کیا جاتا ہے جبکہ تجارت میں رقم کے بدلے کوئی جنس خریدی بیچی جاتی ہے جس کے لئے محنت مشقت کی جاتی ہے اور پھر اسی کوشش وکاوش کے نتیجے میں نفع حاصل کیا جاتا ہے(۳) سودی معاہدات طویل سے طویل تر ہوتے چلے جاتے ہیں جبکہ تجارتی معاہدات عمومًا مختصر مدت میں ہی ختم ہوجاتے ہیں۔
اس کے علاوہ قابلِ غوربات یہ ہے کہ تجارت میں جو منافع حاصل ہوتا ہے اُس کے لئے عربی زبان میں ’’رِبَح‘‘کا لفظ مستعمل ہے نہ کہ ’’رِبَا‘‘کا۔اگرچہ دونوں کے معنی اور تلفظ میں کچھ زیادہ فرق نہیں ہے۔اور انگریزی زبان میں ربح کے لئے Profitجبکہ ربا کے لئے Interest کے الفاظ بولے جاتے ہیں ۔مختصریہ کہ جس چیز پر ربح /منافعProfit/کا اطلاق ہو وہ جائز اور حلال ہے ۔اور جس چیز پر ربا / سودInterest/کااطلاق ہو وہ ناجائز اور حرام ہے۔
موعظۃمن ربّ:۔انسان کے لئے دنیا میں ہمیشہ دو OPTIONSموجود رہتے ہیں۔ایک یہ کہ وہ اللہ کے واضح کردہ احکامات کوایک کان سے سن کر دوسرے کان سے چھوڑ کر متاعِ دنیا کے حصول میں الجھ جائے اور دنیاوی لذائذ اور آشائشوں کو پانے کی ہر ممکن کوشش کرے جہاں ممکن ہے کہ وہ حلال اور حرام کے فرق کو یک لخت فراموش کربیٹھے۔دوسرے یہ کہ انسان احکام الہٰی کے مطابق زندگی بسر کرے اور خالص حلال ذرائع سے زندگی کا سامان بہم پہنچائے۔سودی لین دین سے اگر چہ انفرادی سطح پر دنیاوی آسائشوںکا حصول کسی قدر آسان ہوجاتا ہے لیکن اس میں اللہ کے احکامات کی سری خلاف ورزی ہوتی ہے۔اسی لئے آپ دیکھتے ہیں کہ فتح مکّہ کے دن حضورؐ نے دوٹوک الفاظ میں اعلان کیاکہ زمانہ جاہلیت کا سود میرے پائوں کے نیچے پامال ہے۔اور میں سب سے پہلے اپنے چچا عبا سؓ کا سود معاف کرتا ہوں۔ظاہر سی بات ہے کہ یہ اعلان حضورؐ نے سود کی حرمت نازل ہونے کے بعد کیا ۔چنانچہ احکامِ الہٰی کے آگے ہر مسلمان پر فرض ہے کہ وہ سرِتسلیم خم کرے۔اللہ تعلی کا ارشاد ہے’’پھر جس کے پاس اُس کے رب کی طرف سے کوئی نصیحت آئے پس وہ باز آجائے‘تو جو پہلے ہوچکا وہ اُسی کا ہے اُس کا معاملہ اللہ کے حوالے ہے۔تو جو دوبارہ ایسا کریں (یعنی سود کھائیں اللہ کا حکم سننے کے بعد بھی)وہ آگ والے ہیں وہ اس میں ہمیشہ رہنے والے ہیں‘‘اللہ تعلی کا حکم آنے کے بعد جوشخص سود سے باز آجائے اور توبہ کرے اور آئندہ کے لئے سودی لین دین سے دور رہے تو اُس کے پچھلے تمام گناہ معاف ہیں (عفااللّٰہ عمّاسلف)۷؎۔
اللہ سود کو مٹاتا ہے اور صدقات کو بڑھاتا ہے :۔سود کی ایک خرابی یہ بھی ہے کہ اللہ تعلی اِسے مٹاتا ہے جبکہ صدقات کو اس کے مقابلے میں بڑھاتاہے۔’’اللہ سود کو مٹاتا ہے اور صدقات کو بڑھاتا ہے اور اللہ کسی ایسے شخص سے محبت نہیں رکھتا جو سخت ناشکرا‘سخت گناہ گار ہو‘‘حضرت عبداللہ ابنِ مسعود ؓ روایت کرتے ہیں کہ اللہ کے رسول ؐ نے فرمایا جو شخص سود کے ذریعے مال میں اضافہ کرے گا اُس کا انجام مال کی قلت ہوگا(مسند احمد۔395)۔مولانا دائود رازؒ لکھتے ہیں’’سودی مال بظاہر بڑھتا نظر آتا ہے مگر انجام کے لحاظ سے وہ ایک دن تلف ہوجاتاہے۔ہاں صدقہ خیرات ثواب کے لحاظ سے بڑھنے والی چیزیں ہیں۔سود خور قوموں کو بظاہر عروج ملتا ہے مگر انجام کے لحاظ سے اِن کی نسلیں ترقی نہیں کرتی ہیں‘‘(شرح صحیح البخاری؍جلد 6؍صفحہ۔111)
موجودہ معاشی نظام کی بنیاد ہی سود پر ہے۔بلکہ سود معاشیات کی روح بن گیا ہے کہ ا س کے بغیر شائد ہماری اقتصادیات اور ہمارا کاروباری نظام (Business)ایک بھی د ن قائم نہیں رہ سکتا ہے۔گویا کہ سود نے بُری طرح سے ہماری معاشیات کا احاطہ کیا ہے۔یہی وجہ ہے کہ اکثر وبیشتر لوگ سود کو ترک کرنے کے تصور سے ہی اندیشہ ہائے دور دراز کا شکار ہوجاتے ہیں۔لیکن اُن کو یاد رکھنا چاہئیے کہ دنیاوی فوائد سے بارہا اُخروی فائدے بہتر ہیں۔اور یہ بھی کہ اللہ سود خور قوموں کو عروج نہیں بخشتا‘بلکہ اُن پر زوال مسلط کرتا ہے جس کی مختلف شکلیں ہیں ‘ اخلاقی زوال ‘ایمانی زوال اور معاشی زوال وغیرہ۔چنانچہ حضرت ابنِ مسعود ؓ روایت کرتے ہیں کہ اللہ کے رسول ؐ نے فرمایا کہ جس قوم میں زنا اور سود عام ہوجاتاہے وہ قوم اپنے نفسوں پر اللہ کا عذاب حلال کرتی ہے۸؎۔
بہر حال سود کی جتنی بھی صورتیں اور شکلیں ہیں (مثال کے طور پر رِباالفضل‘بیع عینہ‘تورق وغیرہ)سب ناجائز اور حرام ہیں۔
(مضمون جاری ہے ،اگلی قسط انشاء اگلے جمعتہ المبارک کو شائع کی جائے گی)
رابطہ۔سیرجاگیرسوپور،کشمیر
موبائل نمبر۔8825090545