راجوری //حدمتارکہ پر دونوں ممالک کے مابین ہوئے سیزفائر معاہدے کو 8ماہ مکمل ہوگئے ہیں جبکہ اس دوران سرحدی علاقوں میں حالات پُر امن رہے لیکن سرحدی ضلع راجوری اور پونچھ میں ملی ٹینسی معاملات میں اضافہ ہو ا ہے ۔رواں برس فروری ماہ کے آخری ہفتے دونوں ممالک کے مابین سرحدوں پر گولہ بھاری کی روک پر اتفاق کیا گیا تھا جس کے بعد دونوں ملکوں کی افوا ج کے درمیان گولہ باری کا تبادلہ نہیں ہوا ہے لیکن حدمتارکہ پر بندوق کی خاموشی کے دوران اندرونی علاقوں میں ملی ٹینٹوں کی سرگرمیوں میں اضافہ ہو ا ہے ۔ہندوستا ن اور پاکستان کی افواج کے درمیان رواں برس 25اور 26فروری کو ڈی جی ایم او سطح کی بات چیت کے دوران سیز فائر معاہدے پراتفاق کیا گیا جس کے بعد گزشتہ آٹھ ماہ سے سرحدی علاقوں میں فائرنگ کا کوئی معاملہ سامنے نہیں آیا ہے ۔سرکاری ذرائع نے بتایا کہ راجوری اور پونچھ اضلاع کے سرحدی علاقوں میں دونوں ممالک کی افواج کے مابین فائرنگ کا کوئی واقعہ رونما نہیں ہوا ہے جبکہ گزشتہ آٹھ ماہ سے بندوق مکمل خاموش ہے ۔انہوں نے مزید کہا کہ حساس حد متارکہ جن میں کرشنا گھاٹی ،بالاکوٹ ،پونچھ ،نوشہرہ اور کیری ودیگر سرحدی علاقو ں میں امن و امان کی صورتحال بر قرار رہی ۔فوج کے لیفٹیننٹ کرنل دویندر انند نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ گزشتہ 8ماہ سے فائرنگ کا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا تاہم سیز فائر کے دوران اندرونی علاقوں میں ملی ٹینسی واقعات میں اضافہ ہوا ہے ۔انہوں نے بتایا کہ اس دور میں کل 9انکا ئونٹر ہوئے جن میں 8جولائی کو سندر بنی میں انکائونٹر کے دوران دوفوجی اور تین ملی ٹینٹ ہلاک ہوئے تھے ۔نوشہرہ کے کلال علاقہ میں ہوئے انکائونٹر کے دوران ایک ملی ٹینٹ ہلاک ہوا تھا ۔دیگر سات انکائونٹروں کے دوران دو پو نچھ کے سرحدی علاقوں جبکہ دو راجوری اور دو پونچھ کے اندرونی علاقوں میں ہوئے ۔