جیلوں میں بند سیاسی قیدیوں کے ساتھ غیر انسانی سلوک

سپریم کورٹ نے حال ہی میں ایک معاملے پر سماعت کرتے ہوئے اپنے اس حکم کا اعادہ کیا کہ ہماری جیلوں میں ضرورت سے زیادہ قیدی ہیں۔ کرونا کی اس عالمی وبا کے دوران جیلوں میں بھیڑ بھاڑ کم کرنے کی ضرورت ہے اور جن قیدیوں کو پانچ سے چھ سال تک کی سزا ہو سکتی ہے ان کو ضمانت پر یا پے رول پر رہا کر دیا جانا چاہیے۔ اس عدالتی حکم کے بعد تہاڑ جیل کے بہت سے قیدیوں کو رہا کر دیا گیا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق قیدیوں کی رہائی کا سلسلہ ہنوز جاری ہے۔ تاہم سی اے اے اور این آر سی مخالف احتجاج اور دہلی فسادات کے سلسلے میں جن لوگوں کو قید کیا گیا ہے انھیں عدالتیں رہا کرنے سے گریز کر رہی ہیں۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ پولیس نے ان لوگوں پر غیر قانونی کارروائیوں کی روک تھام سے متعلق قانون یو اے پی اے، قومی سلامتی ایکٹ این ایس اے اور ملک سے غداری کی دفعات لگا دی ہیں جس کی وجہ سے عدالتیں ان کو ضمانت دینے سے گریز کر رہی ہیں۔ ان حالات میں جیلوں میں بند زیر سماعت قیدیوں کو کرونا کے خطرات کا سامنا ہے۔ گزشتہ دنوں یہ خبر آئی تھی جے این یو کے 32 سالہ سابق طالب علم عمر خالد کو کرونا ہو گیا ہے۔ جب انھوں نے اپنے والد کو اس کی اطلاع دی اور بتایا کہ جیل انتظامیہ تقاضہ کرنے کے باوجود ٹیسٹ نہیں کروا رہی ہے تو انھو ںنے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا اور عدالت کے حکم پر ان کا ٹیسٹ کرایا گیا جو کہ مثبت آیا۔ عمر خالد کے والد، معروف ملی شخصیت اور ’ویلفیئر پارٹی آف انڈیا‘ کے صدر ڈاکٹر سید قاسم رسول الیاس کے مطابق عدالت کے حکم پر جیل انتظامیہ نے 26 اپریل 2021 کو گرو تیغ بہادر اسپتال میں عمر خالد کا ٹیسٹ کرایا تو وہ پازیٹیو پائے گئے۔ عدالت نے حکم دیا کہ ان کے علاج اور غذا پر توجہ دی جائے اور انھیں آئسولیشن میں رکھا جائے۔ اس کے بعد عمر خالد کو ان کے ہی کمرے میں آئسولیٹ کر دیا گیا۔ ڈاکٹر الیاس کے مطالبے پر ان کا یومیہ ٹیسٹ کیا جاتا اور ٹیسٹ رپورٹ اور ڈاکٹر کی رائے شام کے وقت انھیں بتائی جاتی۔ تیرہ روز کے بعد جب پھر ٹیسٹ کرایا گیا تو رپورٹ منفی آئی۔ اس طرح پندرہ دنوں تک انھیں آئسولیشن میں رکھا گیا۔ ان کا کہنا ہے کہ شہریت ترمیمی قانون کے خلاف احتجاج میں شامل ہونے والے ایک اور سماجی کارکن خالد سیفی اور دیگر قیدی بھی کرونا پازیٹیو ہو گئے ہیں لیکن چونکہ ان لوگوں کی حمایت میں آواز اٹھانے والے لوگ نہیں ہیں اس لیے ان پر کوئی توجہ نہیں دی جا رہی۔ 
خیال رہے کہ عمر خالد کو فروری 2020 میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دورہ ٔ ہند کے موقع پر مبینہ طور پر اشتعال انگیز تقریر کرنے اور دہلی میں فساد بھڑکانے کے الزام میں 14 ستمبر 2020 کو گرفتار کیا گیا تھا۔ دہلی فسادات میں 53 افراد ہلاک ہوئے تھے جن میں 40 مسلمان تھے۔ اس کے علاوہ کم از کم 400 افراد زخمی ہوئے تھے۔ اس معاملے میں درجنوں مسلمانوں اور انسانی حقوق کارکنو ںکو بھی گرفتار کیا گیا ہے۔ لیکن بی جے پی کے ان رہنماؤں کے خلاف پولیس نے کوئی کارروائی نہیں کی جنھوں نے پولیس کی موجودگی میں اشتعال انگیز تقریریں کی تھیں اور بیانات دیے تھے۔ بی جے پی رہنما اپنے اوپر عاید کیے جانے والے الزامات کی تردید کرتے ہیں۔ پولیس کا الزام ہے کہ عمر خالد نے دہلی میں فساد کرانے کی سازش کی اور اس سلسلے میں شاہین باغ میں چلنے والے سی اے اے مخالف احتجاج میں حصہ لیا تھا۔ پولیس نے ان کے خلاف 17ہزار صفحات پر مشتمل فرد جرم عدالت میں داخل کی۔ ان پر دو مقدمات قائم کیے گئے جن میں سے ایک میں انھیں ضمانت مل گئی ہے دوسرے میں نہیںجس کی وجہ سے وہ اب بھی جیل میں ہیں۔سیاسی مبصرین اور انسانی حقوق کے کارکنوں کے مطابق جیلوں میں بند سیاسی قیدیوں کی زندگی کو شدید خطرات لاحق ہیں۔ لیکن نہ تو جیل انتظامیہ کوئی توجہ دیتی ہے اور نہ ہی عدالتیں۔ حالانکہ جیل انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ہمیں جب بھی کسی قیدی کے بیمار ہونے کی اطلاع ملتی ہے تو اس کا علاج کرایا جاتا ہے اور ضرورت پڑنے پر اسے اسپتال میں بھی داخل کرایا جاتا ہے۔ رپورٹوں کے مطابق اس وقت انسانی حقوق کے سیکڑوں کارکن، اسٹوڈنٹس، صحافی اور ماہرین تعلیم جیلوں میں بند ہیں۔ تجزیہ کار کہتے ہیں کہ حکومت نے ان لوگوں کو سیاسی وجوہ سے جیل میں ڈالا ہے لیکن ان کے ساتھ مجرموں جیسا سلوک کیا جاتا ہے۔ انسانی حقوق کے ایک سرگرم کارکن ہرش مندر کے مطابق موجودہ حکومت زیر سماعت اور سیاسی قیدیوں کے ساتھ دہشت گردوں جیسا سلوک کرتی ہے۔ ان تمام لوگوں کو ان کے تحفظ کے پیش نظر رہا کیا جانا چاہیے۔ لیکن اس کے بجائے مزید گرفتاریاں کی جا رہی ہیں۔ 
جے این یو کی ایک سابق اسٹوڈنٹ 32 سالہ نتاشا نروال کا معاملہ اور بھی سنگین ہے۔ انھیں بھی دہلی فساد کے سلسلے میں گرفتار کیا گیا تھا۔ پہلی گرفتاری پر انھیں اگلے روز ہی عدالت نے ضمانت دے دی تھی لیکن پولیس نے اس کے ایک روز بعد ان پر کئی سنگین دفعات لگا کر پھر گرفتار کر لیا۔ نتاشا نروال جے این یو کی طالبات کی ایک تنظیم ’پنجرہ توڑ گروپ‘ سے وابستہ ہیں۔ اس گروپ نے شمال مشرقی دہلی کے جعفرآباد میں چلنے والے سی اے اے مخالف احتجاج کی حمایت کی تھی۔ دہلی کی ایک عدالت نے ان کی ضمانت کی درخواستیں کئی بار مسترد کیں۔ سماعتوں کے دوران پولیس ضمانت کی مخالفت کیا کرتی تھی۔ ان کے والد مہاویر سنگھ نروال نے گزشتہ سال نومبر میں کہا تھا کہ اگر میری بیٹی کو زیادہ دنوں تک جیل میں رکھا گیا تو وہ مجھے نہیں دیکھ پائے گی۔ ان کی بات درست ثابت ہوئی۔ نو مئی کو ان کا دہلی میں انتقال ہو گیا۔ سابق پروفیسر 71 سالہ مہاویر سنگھ نروال کو کرونا ہو گیا تھا۔ وہ ایک سائنس داں تھے۔ ان کے انتقال کے ایک روز بعد دہلی کی ایک عدالت نے ان کی آخری رسومات ادا کرنے کے لیے نتاشا کو تین ہفتوں کے لیے ضمانت دے دی۔ نتاشا کو بھی یو اے پی اے کے تحت گرفتار کیا گیا تھا۔ اس دفعہ کے تحت فرد جرم داخل کیے بغیر 180 دنوں تک جیل میں رکھا جا سکتا ہے۔ نتاشا نروال نے پی پی ای کٹ پہن کر اپنے والد کی آخری رسومات انجام دیں۔ حالانکہ عدالتیں بھی دہلی فسادات کے سلسلے میں گرفتار لوگوں کے خلاف داحل فرد جرم کو کوئی اہمیت نہیں دے رہی ہیں لیکن پھر بھی وہ ان کو ضمانت دینے سے بھی کترا رہی ہیں۔ جب عمر خالد کے خلاف پولیس نے چارج شیٹ داخل کی تو عدالت نے اسے افسانہ قرار دیا اور گواہوں کو بھی فرضی بتایا۔ لیکن چونکہ ان پر یو اے پی اے لگا دیا گیا ہے اس لیے انھیں ضمانت ملنے میں دشواری ہو رہی ہے۔
اخبارات میں شائع ہونے والی رپورٹوں کے مطابق جیل میں بند سیاسی قیدیوں کے ساتھ اچھا سلوک نہیں کیا جاتا۔ دہلی یونیورسٹی کے ایک 55 سالہ پروفیسر ہینی بابو نے اپنی ایک آنکھ میں شدید انفکشن کی شکایت کی جس کی وجہ سے ان کی بینائی چلی گئی۔ ان کی اہلیہ جینی رووینا نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ این آئی اے نے انھیں گزشتہ سال جولائی میں بھیما کورے گاؤں تشدد کے معاملے میں گرفتار کیا تھا۔ پروفیسر ہینی بابو ذات پات کے نظام کے سخت خلاف ہیں۔ یاد رہے کہ یکم جنوری 2018 کو مہاراشٹرا کے بھیما کورے گاؤں میں دلتوں کے ایک پروگرام میں تشدد برپا ہوا تھا جس میں ایک 28 سالہ شخص ہلاک اور پانچ زخمی ہوئے تھے۔ یہ پروگرام یکم جنوری 1818 کے اس واقعہ کی یاد میں ہر سال منعقد کیا جاتا ہے جس میں دلتوں نے اونچی ذات کے پیشوا باجی راؤ کی فوج کو انگریزی فوج کی مدد سے شکست دی تھی۔ دستور ساز کمیٹی کے سربراہ ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر نے 1928 میں پہلی بار ا س واقعہ کی یاد میں پروگرام کا انعقاد کیا تھا۔ اس سالانہ پروگرام کا نام ’یلغار پریشد‘ رکھا گیا ہے۔ 2018 کا پروگرام سابق ججز جسٹس بی جی کولسے پاٹل اور جسٹس پی بی ساونت نے منعقد کیا تھا۔پولیس نے اس تشدد کے سلسلے میں متعدد سماجی کارکنوں اور یونیورسٹیز کے اساتذہ کو اربن نکسل (شہری نکسل) قرار دے کر گرفتار کیا ہے۔ جن میں گوتم نولکھا، فادر اسٹن سوامی، سدھا بھاردواج، آنند تیل تمبڈے اور ورورا راؤ قابل ذکر ہیں۔ ان میں سے بیشتر معمر ہیں۔ لیکن چونکہ ان لوگوں کے خلاف سنگین دفعات لگائی گئی ہیں اس لیے انھیں ضمانت نہیں دی جا رہی ہے۔ 84 سالہ فادر اسٹن سوامی پارکنسن کے مریض ہیں وہ ہاتھ کانپنے کی وجہ سے کچھ کھا پی نہیں پاتے۔ انھوں نے پینے کے لیے عدالت سے اسٹرا کا مطالبہ کیا لیکن این آئی اے نے اس کی مخالفت کی اور عدالت نے انھیں اسٹرا دینے سے انکار کر دیا۔ این آئی اے نے عدالت میں ان کی ضمانت کی درخواست کی بھی مخالفت کی۔ مبصرین کے مطابق ایک معمر شخص کو اسٹرا دینے سے انکار کرنا ایک غیر انسانی معاملہ ہے۔ بھیما کورے گاؤں کیس میں گرفتار 70 سالہ انسانی حقوق کارکن گوتم نولکھا کو چشمہ فراہم کرنے کی این آئی نے مخالفت کی تھی جس پر آٹھ دسمبر 2020 کو بامبے ہائی کورٹ نے کہا کہ انسانیت کی سب سے زیادہ اہمیت ہے۔ تاہم اس نے چشمہ کے سلسلے میں کوئی فیصلہ دینے سے انکار کر دیا۔ نولکھا کی اہلیہ صہبا حسین کے مطابق 27 نومبر 2020 کو جیل میں نولکھا کا چشمہ چوری ہو گیا تھا جس پر انھوں نے ایک جوڑی چشمہ پارسل کیا لیکن پانچ دسمبر کو جیل انتظامیہ نے پارسل قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ انسانی حقوق کی ایک تنظیم ’یونائٹڈ اگینسٹ ہیٹ‘ نے جیلوں میں بند سیاسی قیدیوں کی رہائی پر زور ڈالنے کے لیے 11 مئی کو ایک آن لائن مہم شروع کی ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ کرونا وبا کے پیش نظر ان سماجی کارکنوں کو فوراً رہا کیا جائے۔ 
9818195929
�����