ملک کی پانچ ریاستوں اتر پردیش، اتراکھنڈ، پنجاب، گوا اور منی پور کی اسمبلیوں کے انتخا بی نتائج منظر عام پر آتے ہی پچھلے دو مہینوں سے چلے آرہے اسمبلی انتخابی میلہ اختتام کو پہنچا اور نتیجہ وہی نکلا جس کی ہر فرد کو اُمید نہ تھی۔مرکزی حکمران جماعت نے پانچ میں سے چار ریاستوں میں زبردست کامیابی حاصل کی جبکہ پنجاب میں کیجروال نے اپنا جھاڑو پھیر دیا۔یہ انتخابات 10 فروری تا7؍مارچ 2022سات مرحلوں میں مکمل کئے گئے۔ 10؍ مارچ کو ان اسمبلی انتخابات کے نتائج کا اعلان کردیا گیا۔ان انتخابات کو 2024 میں ہونے والے عام انتخابات کا سیمی فائنل کہا جا رہا تھا۔ یہ پانچوں ریاستیں اپنی اپنی خاص اہمیت رکھتی ہیں ۔ لیکن سب کی نظریں اتر پردیش کے نتائج پر ٹِکی ہوئی تھیں۔جس پر ناقدین کا یہی کہنا تھا کہ یوپی کی عوام اپنے سیاسی شعور کا ثبوت دیتے ہوئے اُن طاقتوں سے اقتدار چھین لیں گی ، جنہوں نے گز شتہ پانچ سال کے دوران یوپی میں سوائے فرقہ وارانہ منافرت پھیلانے کے اور کوئی کام نہیں کیا ہے۔ ریاست کے رائے دہندے مہنگائی اور بے روزگاری سے نجات پانے کے لئے برسرِاقتدار حکومت کو بدل ڈالیں گے۔ کورونا کے دوران ان کو جن ناقابلِ بیان اذیتوں سے دوچار ہونا پڑا، اس کا بدلہ اس الیکشن میں لیا جائے گا اورملک کے کسان جو ریاستی اور مرکزی دونوں حکومتوں سے سخت ناراض تھے، جم کر اُن کے خلاف مہم چلائیں گے اور پھر ایک مرتبہ یوپی میں موجود سرکار کو دوبارہ اقتدار میں نہیں آنے دیں گے۔ لیکن اُن کی اِن ساری توقعات پر پانی پھر گیا ۔جو جیتا وہی سکندر کے مصداق بی جے پی نے اُتر پردیش میں دوبارہ بھاری اکثریت سے کا میابی حاصل کرلی۔ یوگی آدتیہ ناتھ کے لئے دوبارہ چیف منسٹر کی گدّی ہموار ہوگئی۔ مخالف حکومت لہرکے باوجود یوپی میں بی جے پی سرکار دوبارہ اقتدار پر آگئی ہے۔ بی جے پی کی انتخابی ریلیوں میں عوام کی بہت کم تعداد میں شرکت ،بی جے پی کے ایم ایل یز کو اپنے حلقوں میں نہ آ نے دینااور پھر سماج کے مختلف طبقوں خاص طور پر دلتوں اور خواتین کی بی جے پی سے ناراضگی کے باوجود بی جے پی کی دوبارہ بڑے پیمانے پرکا میابی پریہ خدشےظاہر کئے جارہے ہیں کہ کہیں نہ کہیں نتائج کو اپنے حق میں کرنے کے لئے کوئی نہ کوئی پلاننگ ضرور کی گئی ہے۔ نتائج سے دو دن پہلے وارنسی اور دیگر مقامات پر الیکڑونک ووٹنگ مشینوں کی غیر قانونی منتقلی جیسے واقعات منظر عام پر آنے سےیہ خدشہ تقویت پانے کا اشارہ دے گیا کہ بی جے پی نے اپنی جیت کو یقینی بنانے کے لئے کہیں نہ کہیں سرکاری عہدیداروں کو پابند کیا تھا۔ اسی طرح میڈیا کے ذریعہ بھی جس انداز میں بی جے پی کی کامیابی کو وقت سے پہلے بڑے زور و شور سے بیان کیا جا رہا تھا۔ اس سے یہ بات پائے ثبوت کو پہنچ گئی تھی کہ اپنے روایتی پروپیگنڈے کا سہارا لیتے ہوئے بی جے پی میدان مارنے میں کامیابی حاصل کرگئی ہے۔ خاص طور پر اُس خاموش عناصر کا رول بہت اہم رہا، جو بی جے پی کے لئے کام کرتے ہیں۔ آر ایس ایس کے والینٹر جو سنگھ کی مختلف محاذی تنظیموں کا حصہ ہیں ، نے بڑے منظم انداز میں ہندتوا کی کا میابی کے لئے اپنا کام سرانجام دیا ہے۔ یہ عناصر اکثریتی عنا صر کو یہ تاثر دینے میں کا میاب ہو گئے کہ مہنگائی، بے روزگاری، ریاست کی ترقی وغیرہ یہ سب چیزیں بعد میں حاصل کی جاسکتی ہیں، اصل جیت ہندوتوا کی ہے۔گویا ایک مرتبہ ملک میں ہندو راشٹر قائم ہوجائے گا تو پھر ہندوؤں کے لئے ہمیشہ عیش ہی عیش ہے۔ یہ وہ پروپگنڈا ہے جس کو پھیلانے میں بی جے پی کا میاب ہو گئی، ورنہ یو پی سرکار کے کھاتے میں کوئی ایسی قابل قدرچیز نہیں تھی جو انہیں دوبارہ مسندِ اقتدار پر لانے کا باعث بنتی۔ بی جے پی کے پاس پانچ سال کے دوران کئے گئے کاموں میں عوام کو دکھانے کے لئےکوئی قابل فخر کام تھا ہی نہیں، جس کے بدلے وہ واقعی ووٹ کی حقدار ہو سکتی۔ اس لئے عام ہندوؤں کو گھما پھرا کرہندوتوا کا چسکہ لگایا گیا،جس کے نتیجے میں عام ہندو متاثر ہوکر بی جے پی کے حق میں اپنا ووٹ استعمال کر گئے۔ یہ کہنا سچ ہو گا کہ بی جے پی نے اپنے روایتی پرچار کا چمتکار دکھا کر کا میابی حاصل کرلی۔
اتر پردیش میں بی جے پی کی دوبارہ کا میابی ملک کے سیاسی منظر کو کس حد تک بدلے گی یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا۔ لیکن سوچنے والی بات یہ ہے کہ اُتر پردیش کی عوام نے اب کس اُمید کی بنیاد پر دوبارہ بی جے پی کو مسندِ اقتدار پر بِٹھا گئی،اور انہوں نے کس موقف کے جنون میں پھر ایک مرتبہ اقتدار اُن لوگوں کے ہاتھوںمیں سونپ دی، جن کے پاس ملک اور قوم کی ترقی کا کوئی مثبت ایجنڈا ابھی تک سامنے نہیں آچکا ہے۔ظاہر ہے کہ الیکشن سے پہلے بی جے پی کی مقبولیت مسلسل گھٹتی ہوئی نظر آرہی تھی۔ کوویڈ۔19کے دوران یوگی جی کی حکومت کی نا اہلی پوری طرح سے ریاست کی عوام کے سامنے آ چکی تھی۔ دوائیں وقت پر نہ ملنے سے ہزاروں افراد لقمہ اجل ہو چکے تھے۔ آکسیجن کی کمی نے کئی شِیر خوار بچوں کی جانیں لے لیں تھیں۔ شمشان گھاٹوں میں مُردوں کو جلانے کے لئے قطاریں لگ رہی تھیں ، لاک ڈاون کے دوران ہزاروںمزدور پیدل چلتے ہوئے دنیا سے رخصت ہو گئے تھے ۔ یہ ساری مشکلات جھیل کر بھی یوپی کے رائے دہندوں نے بی جے پی کے حق میں اپنے ووٹ استعمال کیا ہے تو یہ بات نہ صرف حیران کن ہے بلکہ رائے دہندوں کی یہ سوچ ملک میں جمہوریت اور سیکولرازم کی برقراری کے لئے بھی سوالات کھڑے کر دیتی ہے۔ آیا کہ ملک کے شہری صرف زہر گھولنے والوں کا ساتھ دے رہے ہیں یا پھر ملک کی ترقی کے لئے کام کرنے کا جذ بہ رکھنے والوں پر اعتماد کر تے ہوئے انہیں مضبوط کر یں گے۔ بی جے پی اپنے مخصوص ایجنڈے کے سہارے عوام کو مخمصے میں ڈال کر اُن کے ووٹ تو حاصل کررہی ہے،مگر مرکز سے لے کر یوپی تک ، بی جے پی نے عوام سے جو وعدے کئے تھے کیا وہ پورے ہورہے ہیں؟ یو پی سرکار نےآج تک سماج کے مختلف طبقات کے درمیان دراڑ ڈالنے کی جو کوششیں کیں،وہ کسی سے پوشیدہ نہیںبلکہ اُس کی مثال اور نظیر سابق سرکاروںمیں نہیں ملتیں،جبکہ الیکشن کے اعلان کے ساتھ ہی یوگی جی واضح طور پر کہا تھا کہ یہ الیکشن 80% اور 20% کے درمیان ہوگا۔ جس سے یہ بات تقویت پاگئی تھی کہ وہ مذہب اور ذات کی بنیاد پر الیکشن لڑنا چاہتے ہیں۔ اسّی فیصد ہندوؤں کو وہ یہ باور کرانا چا ہتے تھے کہ بی جے پی اُن کی پارٹی ہے اور دلتوں و مسلمانوں کو انہوں نے حا شیہ پر لا کھڑا کردیا تھا۔ اپنےگذشتہ پانچ سالہ دور میں یوپی حکومت نے ان دو طبقوں کے ساتھ ظلم اور جبر کا جو رویہ اختیار کر رکھا تھا ،اس سے کوئی بھی فرِ بشر نا واقف نہیں ہے۔ ماب لینچنگ کے جو بدبختانہ واقعات یوپی میں پیش آ ئے، اس میں ملوث افراد پر آج تک کوئی قانونی کاروائی نہیں کی گئی۔ اِسی طرح ہاتھرس اور دیگر مقامات پر دلت لڑکیوں کی عصمت ریزی کر کے انہیں زندہ جلادیا گیا۔ یہ ساری کارستانیاں یوگی آدتیہ ناتھ کی حکومت میں ہوئی ہیں۔ جن لوگوں نے مسلمانوں کو ظلم و ستم اور زیادتیوں کا نشانہ بنایاتھا،انہیں بڑے بڑے عہدوں پر بٹھایا گیا، انہیں اسمبلی اور پارلیمنٹ کی رکنیت سے بھی نوازا گیا۔ یہ سارے حربے استعمال کرکے بی جے پی پھر سے یوپی میں اپنی کا میابی کے جھنڈے گاڑنے میں کا میاب ہو جاتی ہے تو یہ دیکھنا پڑے گا کہ اس کا میابی کے پیچھے ملک کی سیکولر پارٹیوں کا کیارول رہا۔ ہر الیکشن کی طرح اس مرتبہ بھی سیکولر پارٹیاں متحد ہوکر بی جے پی کو شکست دینے میں ناکام ہو گئیں۔ اگر الیکشن سے پہلے سیکولر پارٹیوں کا کوئی محاذ بن جاتا یا کم ازکم انتخابی مفاہمت ہوجاتی تو بی جے پی کے لئے مشکلات کھڑا کرسکتی تھیں،اتحاد سے اُن کی طاقت کو توڑا جا سکتا تھا مگر ہر سیکولر پارٹی اپنے انا کے خول میں ہی بند رہی۔ اس میں شک نہیں اکھلیش یادو نے بی جے پی کا ڈٹ کا مقابلہ کیا۔ اُن کی قیادت میں سماجوادی پارٹی نے ہر سطح پر بی جے پی کو روکنے کی پوری کوشش کی۔ لیکن اکھلیش کا چیف منسٹربننے کا خواب پورا نہ ہو سکا۔ انتخابی مہم کے دوران ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ رائے دہندے سماجوادی پارٹی کے حق میں ووٹ کا استعمال کریں گے ۔ ان کے انتخابی جلسوںمیں بھیڑ کو دیکھنے سے پتہ چل رہا تھا،کہ اب کی بار یوپی میں سماجوادی پارٹی کی حکومت بننے والی ہے،جبکہ نتائج کے آنے سے پہلے تک اکھلیش یادو یہی دعویٰ کر تے رہے کہ ان کی پارٹی یوپی میں حکومت بنائے گی، لیکن ایساممکن نہ ہو سکا اور اُس کا خواب شرمندہ تعبیر نہ ہوسکا۔
ملک کی قدیم پارٹی کانگریس نے یوپی میں اپنی عظمتِ رفتہ کو بحال کر نے کی جان توڑ کوشش کی۔ خاص طور پر پرینکا گاندھی نے پورے جوش و خروش کے ساتھ مہم چلائی۔ عوام نے ان کا والہانہ استقبال بھی کیا۔ لیکن پھر بھی یوپی میں وہ کوئی کلیدی رول ادا نہ کر سکی۔ یوپی، کانگریس کا روایتی گڑھ رہا ہے۔ ملک کے پہلے وزیراعظم پنڈت نہرو سے لے کر اندراگاندھی تک یوپی میں سوائے کانگریس کے کسی کی نہیں چلتی تھی۔ لیکن آج اُ سی ریاست میں کانگریس اپنی بقاء کی لڑائی لڑ رہی ہے۔ مبصرین کا خیال ہے کہ کانگریس کی آج جو درگت سارے ملک اور خاص طور پر یوپی میں ہوئی ہے ،اُس کی اصل ذ مہ دار خود کانگریس کی قیادت ہے۔ کانگریس میں شروع سے ایک ایسا ٹولہ رہا، جو سنگھ پریوار سے قربت رکھتا تھا۔ کانگریس میں بھی ہندوتوا عناصر موجود رہے۔ یہی وہ گروہ ہے جس نے کانگریس کو جمہوری اقدار اور سیکولر روایات سے انحراف کرنے کا درس دیا۔ کانگریس اپنی دیرینہ روایات پر قائم رہتی تو ہندوتوا کا بھوت اس طرح سیکولرازم کو نگلتا ہوا آگے نہ بڑھتا۔ نرم ہندواتو کی پالیسی اپنانے کے نتیجہ میں کانگریس اپنی حقیقی پہچان کھو بیٹھی ہے۔ آر ایس ایس کے نظریہ کو قبول کر نے کے بجائے کانگریس ،گاندھی، نہرو اور امبیڈکر کے نظریات پر ملک کو چلانے کا عزم اپنے اندر پیدا کرتی تو آج بات کچھ اور ہی ہوتی۔ کانگریسی دور میں دو ارکانِ پارلیمنٹ سے اپنا پارلیمانی سفر شروع کرنے والی پارٹی اب ملک کے سیاہ و سفید کی مالک بن چکی ہے۔ جب کہ کانگریس کی قیادت میں ہیاس ملک نے آز ادی کا پروانہ حاصل کیا تھا۔ آ زادی کے کئی دہوں تک ملک کا اقتدار کانگریس کے ہاتھوں میں رہا۔ اس دوران کانگریس نےاقتدار کے خاطر منافر قوتوں کو مضبوط ہونے کا موقع نہ دیتی تو ملک میں یہ صورتحال پیدا نہ ہوتی۔بہرحال کانگریس کو دوبارہ زندہ کرنے کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنی دیرینہ پالیسی کی طرف واپس لوٹے۔ ہندوتوا کو شکست دینے کے لئے سیکولرازم کا راستہ ہی واحد راستہ ہے۔ اس ملک کی ساری سیکولر پارٹیاں اگر واقعی سیکولر اقدار کو اپنالیں تو ملک میں ایک نئی سیاسی صف بندی ہو سکتی ہے۔ یوپی الیکشن میں کانگریس کا جو مظاہرہ سامنے آیا ، وہ کانگریس قیادت کے لئے ایک نوشتہ ٔدیوار ہے۔ کانگریس ملک میں کیوں سکڑتی جارہی ہے۔ اس کا جائزہ لئے بغیر کانگریس اپنا کھویا مقام دوبارہ حا صل نہیں کر سکتی ہے۔ یوپی الیکشن میں مایاوتی کی بہوجن سماج پارٹی نے بھی اپنے تمام تر دعوؤں کے باوجود برائے نام نشستیں حاصل کیں۔ مایا وتی، ایک سیماب صفت سیاستدان کی حیثیت سے شہرت رکھتی ہیں۔ حالیہ الیکشن میں انہوں نے اپنی طرف سے کوئی بہتر کارکردگی نہیں دکھائی۔ بعض گوشوں کا ماننا ہے کہ اس مرتبہ انہوں نے خاموشی سے مبینہ طور پر بی جے پی کا ساتھ دیا ہے۔ یہ ایک فیکٹر بھی بی جے پی کو کا میابی دلانے میں مددگار ثابت ہوا ۔ حالیہ نتائج سے یہ بات ظاہر ہورہی ہے ہندوؤں کے مختلف طبقے بی جے پی کے ہمنوا بن گئے ہیں۔ اکھلیش یادو بھی تمام یادوئوں کے ووٹ حاصل نہیں کر سکے ہیں۔ برہمن طبقہ شروع سے بی جے پی کی تائید میں رہا ہے۔ بی جے پی نے " انڈر کرنٹ"کام کیا ہے۔ اس لئے وہ یوپی میں اپنی بھاری اکثریت کے ساتھ اقتدار پر دوبارہ واپس آئی ہےاور انتخابی نتائج اس کے گواہ ہیں۔ یہ بات صاف ہوگئی کہ یوپی میں بی جے پی ،پنجاب میں عام آدمی پارٹی ، اتر اکھنڈ ، منی پور اور گوا میں بی جے پی حکومت بنائے گی۔ پنجاب میں پہلی مرتبہ عام آدمی پارٹی کی حکومت بننے جا رہی ہے۔ دہلی ریاست کے بعد عاپ کو پنجاب میں حکومت بنانے کا موقعہ مل گیا ہے۔ الیکشن آ تے اور جاتے رہیں گے۔ عوام کے مسائل کیسے حل ہوں گے یہ سب سے بڑا سوال ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ 2024 میں بی جے پی کو شکست دینے کے لئے سیکولر پارٹیاں کیا حکمت عملی اختیار کریں گی۔ ورنہ ہندوتوا سارے ملک میں ایسی صورت ِ حال کا پیش خیمہ ثابت ہوگا کہ الیکشن برائے نام ہوکر رہ جائیں گے۔
(رابطہ۔9885210770)