واشنگٹن //امریکی صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ ہم سب مل کر امریکہ کو مضبوط، محفوظ اور قابل فخر بنارہے ہیں،پچھلے ایک سال میں توقع سے بڑھ کر کامیابی ملی۔ہمارے سامنے غیر معمولی چیلنجز تھے جو شاید کوئی تصور بھی نہ کرسکے ،ہمارا عزم ہے کہ امریکہ کو عظیم تر بنایا جائے ۔جوہری اثاثوں کی ایسے حفاظت کریں گے جیسے کبھی کسی نے نہیں کی ہوگی۔امریکی جوہری ہتھیارو ں کو مزید جدید بنائیں گے ۔واشنگٹن میں صدر ٹرمپ نے پہلے اسٹیٹ آف دی یونین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دنیا میں کوئی اور قوم ایسی نہیں ہے کہ بھاری چیلنجز کو قبول کرے اور ان کا سامنا کرے ، ہمیں آپس کے اختلافات کو بھی ختم کرنا ہے تاکہ ہم ترقی کے لیے مزید آگے بڑھ سکیں۔انہوں نے کہا کہ ہماری کامیابیوں سے امریکہ کے خواب شرمندہ تعبیر ہوئے ،امریکہ میں پچھلے 45 سال میں بے روزگاری کا تناسب سب سے کم ہے ۔انہوں نے کہا کہ ایک امیگرینٹ لامتناہی تعدادمیں فیملی امریکہ لاسکتاہے ،صرف شوہربیوی اور کم عمر بچے آنے چاہئیں،میرٹ کی بنیاد پر امیگریشن سسٹم لاناوقت کی ضرورت ہے ۔ٹرمپ نے اپنے خطاب میں کہا کہ امیگریشن نظام میں خامیوں کی وجہ سے کرمنل گینگ ملک میں آتے ہیں، گینگز نے ملکی قوانین کے کمزور پہلوؤں کافائدہ اٹھایا۔اراکین کانگریس سیاست ایک طرف رکھیں اور کام مکمل کریں، کانگریس سے کہتاہوں کہ امیگریشن نظام میں خامیاں دورکریں،نئی قانون سازی کے ذریعے امیگریشن قوانین کودرست کریں گے ۔صدرڈونلڈٹرمپ نے کہا کہ کھلی سرحدوں کامطلب ملک میں منشیات اورگینگزکی آمدہے ،جنوبی سرحد پر دیوار ملک کو محفوظ بنائے گی،اولین ترجیحات میں سے ایک دواؤں کی قیمتوں میں کمی ہے ۔انہوں نے مزید کہا کہ گزشتہ سال امریکہ کو نئے ہیروز ملے ،سب مل کر امریکہ کو پرامن اور خوشحال بنارہے ہیں، ہری کین کے بعد کئی ہیروز سامنے آئے جنہوں نے قیمتی جانوں کو بچایا،جس پر میں سب سے پہلے ان کا شکر گزار ہوں۔ہم امریکیوں کو بتانا چاہتے ہیں ہم ہرجگہ، ہر آفت میں ان کے ساتھ ہیں۔ٹرمپ نے روز گار،انفرااسٹرکچر،ا میگریشن،تجارت اورقومی سلامتی پر بھی اظہار خیال کیا۔ٹرمپ نے پہلے اسٹیٹ آف دی یونین سے خطاب کے موقع پر خاتون اول ملانیاٹرمپ بھی کیپٹل ہل میں موجود تھیں۔پینتالیسویں امریکی صدر کی حیثیت سے ٹرمپ کے امریکی ایوان نمائندگان کے چیمبر سے پہلی تقریر کے اہم نکات پہلے ہی سامنے آ گئے تھے ۔خطاب سے پہلے دنیا بھر کی مارکیٹوں میں مندی اور ڈالرکی قدرمیں بھی کمی دیکھی گئی۔قبل ازیں اسٹیٹ آف یونین ایڈریس کے موقع پرڈیموکریٹک پارٹی کی کچھ خواتین اراکین نے ٹرمپ پالیسیوں کے خلاف احتجاج کے طور پر سیاہ لباس پہننے کا اعلان کیا تھا۔اسٹیٹ آف دی یونین خطاب تمام امریکی صدور کرتے ہیں۔امریکی آئین کے آرٹیکل ٹو ، سیکشن تھری، شق ون کے مطابق صدر کو کانگریس کو اسٹیٹ آف دی یونین یعنی وفاق کی صورت حال سے متعلق معلومات دینا ہوتی ہیں اور انہیں کانگریس کو ایسے اقدامات تجویز کرنا ہوتے ہیں جو ان کے خیال میں ضروری اور مناسب ہوں۔یہ خطاب ایوان نمائندگان، سینیٹ، سپریم کورٹ اور ڈپلومیٹک کور کے ارکان اور جوائنٹ چیف آف اسٹاف کی موجودگی میں ایوان نمائندگان کی عمارت میں منعقد کیا جاتا ہے ۔ اور اس کی تاریخ دونوں ایوانوں سے منظور شدہ ایک قرارداد کے ذریعے طے کی جاتی ہے ۔پہلا اسٹیٹ آف دی یونین خطاب 8 جنوری 1790 میں جارج واشنگٹن نے کیا جو صرف 833 الفاظ پر مشتمل تھا اور امریکی تاریخ کا سب سے مختصر اسٹیٹ آف دی یونین خطاب تھا۔اسٹیٹ آف دی یونین خطاب پہلی مرتبہ 1947 میں ٹیلی وژن پر نشر کیا گیا جو ہیری ٹرومین کی طرف سے کیا گیا۔ 2002 میں صدر جارج ڈبلیو بش کی اسٹیٹ آف دی یونین تقریر کو پہلی مرتبہ انٹرنیٹ پر لائیو نشر کیا گیا۔