بارہمولہ// وادی کشمیر میں حالیہ بھاری برف باری کے بعد جنگلی جانور اور پرندے غذا کی تلاش میں بستیوں میں داخل ہورہے ہیں۔ مقامی لوگ اس موقع پر گوشت کے لئے پرندوں کو مار ڈالتے ہیں یا پھر اُنہیں زندہ پکڑ کراونچے داموں فروخت کررہے ہیں۔ جن میں جنگلی مرغ یعنی ( ون کوکر اور چکور ) کا گوشت لوگوں کا پسندیدہ شکار ہیں۔ موسم سرما میں سینکڑوں لوگ ان پرندوں کی تلاش میں قریبی جنگلوں میں جاکر یا تو ان پرندوں کاشکار کرتے ہیں یاپکڑکر انہیں اونچے قیمتوں فروخت کررہے ہیں۔ اگر چہ یہاں پولٹری مرغے کی قیمت سو سے دو سو روپے ہے، لیکن جنگلی پرندوں جیسے مرغیوں اور چکور کی قیمت 1500 سے 2000 روپے ہے۔ بہت سارے لوگ یہ قیمتیں ادا کرنے پر راضی ہوتے ہیں اور ایسا کرنے میں فخر محسوس کرتے ہیں۔ شمالی کشمیر کے متعدد علاقوں خصوصاً بارہمولہ ، کپوارہ، ہندوارہ ، رفیع آباد ، اوڑی اور ٹنگمرگ کے شکاری جنگلات میں جا رہے ہیں اور ان پرندوں کو ہلاک یا گرفت میں لے رہے ہیں ، جو برف سے ڈھکی پہاڑیوں پر دوڑ نہیں سکتے ۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جنگلی مرغ اور چکور برف کی سفید چمک کی وجہ سے ٹھیک سے نہیں دیکھ سکتے ہیں جس کی وجہ اُنہیں پکڑ نا آسان ہوتا ہے۔ ادھرکستوری ہرن ،مارخور اور جنگلی بکرے کے علاوہ دیگر اقسام کے جانور بھی پچھلے دس سالوں میں شکاریوں کے ذریعہ بڑی تعداد میں مارے گئے ہیں۔ ان کا گوشت شہروں اور قصبوں میںبٖڑے بڑے لوگوں کو اونچے داموں فروخت کیا جاتا ہے۔ دوسری جانب ویسٹرن ٹریگوپن ، جو ضلع بارہمولہ کے علاقے لمبر اوڑی میں وائلڈ لائف کے محفوظ مقام پر پایا جارہا ہے ، بھی پچھلے کئی برسوں سے شکاریوں کے ذریعہ بڑی تعداد میں مارے گئے ہیں جس کی وجہ سے اُن کی تعداد میں کافی کم ہوئی ہے ، حالانکہ ویسٹرن ٹریگوپن جیسا پرندہ اوڑی میں جنگلی حیات کی پناہ گاہ کے علاوہ ہمالیہ کے کئی علاقوں میں ہی دیکھا گیا ہے ۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ جنگلی پرندوں کا گوشت گھریلو ں مرغوں کے مقابلے میں بہت زیادہ لذیزہوتا ہے ، یہی وجہ ہے کہ اس کا اونچے داموں لین دین ہوتاہے اور جنگلی مرغی ( ون کوکر ) جیسے پرندوں کو کھانے میں خوشی محسوس کرتے ہیں۔ اس سلسلے میںمحکمہ وائلڈ لائف کے ایک آفیسر نے بتایا کہ ہرن، مارخور ، جنگلی بکروں ٹریگوپن ، جنگلی مرغ اور دیگر جنگلی پرندوں کے شکار پر پہلے سے ہی مکمل پابندی عائد ہے۔ انہوںنے کہا کہ یہ پرندے اور جانور کھانے کی تلاش میں اس موسم میں قریبی بستیوں کا رُخ کررہے ہیں لیکن لوگوں کو انہیں مارنا نہیں چاہئے، یہ سراسر غیر قانونی ہے۔