عظمیٰ نیوزسروس
سرینگر//طویل خشک سالی اور فروری میں غیر معمولی حد تک بلند درجہ حرارت نے کشمیر بھر میں جنگلاتی آگ کی متعدد وارداتوں کو جنم دیا ہے، جس سے خطے کے نازک ماحولیاتی نظام اور جنگلی حیات کو سنگین خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔رواں ہفتے وادی کے مختلف علاقوں میں ایک درجن سے زائد آگ کے واقعات رپورٹ ہوئے، جن میں سے چھ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران پیش آئے۔ کئی ماہ سے برفباری اور بارش کی کمی کے باعث خشک ہو چکے جنگلات تیزی سے آگ کی لپیٹ میں آ رہے ہیں۔شمالی کشمیر کے ضلع بانڈی پورہ کے ملنگام اور مقام علاقوں میں گزشتہ دو روز سے خوفناک آگ بھڑک رہی ہے، جس سے جنگلاتی نباتات کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا ہے۔ فائر فائٹرز شعلوں پر قابو پانے کے لیے مسلسل جدوجہد کر رہے ہیں۔
حکام کے مطابق جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ کی لِدر فارسٹ ڈویڑن میں واقع اوویرا جنگلی حیات کی پناہ گاہ میں بھی جمعہ کو شدید آگ بھڑک اٹھی جو تاحال جزوی طور پر بے قابو ہے۔لِدر فارسٹ ڈویڑن کے مٹن علاقے کے کمپارٹمنٹس 55-B اور 8-L میں بھی آگ کے واقعات رپورٹ ہوئے، جبکہ شمالی کشمیر کے ضلع کپواڑہ کے گلگام-نیہاری رینج کے کمپارٹمنٹ 56 میں بھی شعلے بھڑک اٹھے، جس پر قابو پانے کے لیے ہنگامی اقدامات کیے گئے۔باتھن کھریو کنزرویشن ریزرو، کھنموہ وائلڈ لائف ایریا (نئی جے کے سیمنٹ فیکٹری کے قریب کمپارٹمنٹ 70) اور کپواڑہ کے سودل جنگلات کے کمپارٹمنٹ 69 میں بھی علیحدہ علیحدہ آگ کے واقعات پیش آئے۔ شدید کوششوں کے بعد فائر بریگیڈ اہلکاروں نے آگ کے ان واقعات پر قابو پا لیا۔وسطی کشمیر کے ضلع بڈگام کے بلاک باکی ہاکر-بی کے تحت مقام ماگام کے کمپارٹمنٹس 69 اور 70 میں بھی دو الگ الگ مقامات پر آگ بھڑک اٹھی۔ ابتدائی طور پر مقامی افراد کی مدد سے آگ پر قابو پا لیا گیا، تاہم جمعہ کی صبح یہ دوبارہ بھڑک اٹھی جسے بعد ازاں بجھا دیا گیا۔اس ہفتے شوہامہ-گاندربل، کْلگام رینج اور سری نگر کے بالائی علاقوں پر مشتمل زبرون جنگلات میں بھی آگ کے واقعات رپورٹ ہوئے، جبکہ اننت ناگ کے دونی پاوا اور کوتھر فائر رینج میں معمولی آگ کو فوری طور پر قابو کر لیا گیا۔
متاثرہ علاقوں میں محکمہ جنگلات، فارسٹ پروٹیکشن فورس، محکمہ وائلڈ لائف، سوشل فاریسٹری وِنگ، نیشنل ڈیزاسٹر رسپانس فورس اور مقامی رضاکاروں پر مشتمل مشترکہ ٹیمیں تعینات کی گئی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ بیشتر مقامات پر آگ کو بڑی حد تک قابو کر لیا گیا ہے، تاہم کچھ ہاٹ اسپاٹس اب بھی فعال ہیں۔لِدر فارسٹ ڈویڑن کے ڈویڑنل فارسٹ آفیسر ہمایوں قادری نے کہا کہ طویل خشک موسم کے دوران گلنے سڑنے والا مواد فوری طور پر آگ پکڑ لیتا ہے۔ کائرکے درخت اپنی لمبی سوئی نما شاخوں کی وجہ سے دیودار یا فر کے مقابلے میں زیادہ حساس ہوتے ہیں۔اننت ناگ-کْلگام کی سوشل فاریسٹری کی ڈویڑنل فارسٹ آفیسر غزالہ عبداللہ نے خبردار کیا کہ طویل خشکی، بڑھتا درجہ حرارت اور بدلتے موسمی پیٹرن آگ کے بھڑکنے اور پھیلنے کے لیے سازگار حالات پیدا کر رہے ہیں۔ سردیوں میں آگ کے واقعات نسبتاً کم ہوتے ہیں، مگر غیر معمولی خشکی سطحی آگ کو جنم دے سکتی ہے۔ اس وقت درجہ حرارت معمول سے 10 سے 12 ڈگری سیلسیس زیادہ ہے، جس سے جنگلات شدید خطرے میں ہیں۔حکام کے مطابق انسانی سرگرمیاں بھی آگ لگنے کی ایک بڑی وجہ ہیں۔ شہریوں کو جنگلاتی علاقوں میں آگ جلانے یا ایندھن کی لکڑی جمع کرنے سے گریز کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔موجودہ حالات میں ایک معمولی چنگاری بھی بڑے سانحے کا سبب بن سکتی ہے۔غزالہ عبداللہ نے خبردار کیا، اور کہا کہ غیر قانونی طور پر کوئلہ یا لکڑی جمع کرنا سختی سے ممنوع ہے اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔محکمہ وائلڈ لائف کے عہدیداروں نے خبردار کیا کہ آگ کے پھیلاؤ سے جنگلی جانوروں کے مسکن شدید خطرے میں ہیں۔جنگلاتی آگ کے یہ واقعات ایسے وقت پیش آئے ہیں جب خطہ پہلے ہی ماحولیاتی خدشات سے دوچار ہے۔ فاریسٹ سروے آف انڈیا کی 2023 کی رپورٹ کے مطابق 2021 سے 2023 کے درمیان کشمیر میں 40.61 مربع کلومیٹر جنگلاتی رقبہ کم ہوا ہے، جو 21,387 مربع کلومیٹر سے گھٹ کر 21,346.39 مربع کلومیٹر رہ گیا۔سرکاری اعداد و شمار کے مطابق جموں و کشمیر میں اس وقت 21,387 مربع کلومیٹر جنگلاتی رقبہ اور 2,867 مربع کلومیٹر درختوں کا احاطہ موجود ہے، جو کل جغرافیائی رقبے کا تقریباً 10 فیصد بنتا ہے۔خشک معتدل جنگلات، جو دیودار، کائر اور فر جیسے درختوں سے مالا مال ہیں، طویل خشک سالی کے باعث خاص طور پر حساس ہو چکے ہیں۔ حکومتی اعداد و شمار کے مطابق 2024-25 میں 1,276 جنگلاتی آگ کے واقعات درج ہوئے، جن سے تقریباً 3,551 ہیکٹر جنگلات متاثر ہوئے۔فروری اور مارچ کے درمیان 91 واقعات میں 136 ہیکٹر سے زائد رقبہ متاثر ہوا، جبکہ اپریل (2025-26 مالی سال کے پہلے مہینے) میں 127 آگ کے واقعات نے 174 ہیکٹر رقبہ جلا ڈالا، بعد ازاں ان کی تعداد میں کمی آئی۔رواں سیزن (-2025-26) میں اب تک 450 سے زائد جنگلاتی آگ کے واقعات رپورٹ ہو چکے ہیں، تاہم حکام کے مطابق یہ تعداد گزشتہ سیزن کے مقابلے میں کم ہے۔اسٹیٹ ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (SDMA) کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مربوط پورٹل کے ذریعے جاری ابتدائی انتباہی الرٹس، جو انڈیا میٹرولوجیکل ڈیپارٹمنٹ (IMD) اور فاریسٹ سروے آف انڈیا کے ڈیٹا پر مبنی ہوتے ہیں، نقصان کو محدود رکھنے میں مددگار ثابت ہو رہے ہیں۔عہدیدار کے مطابق بروقت کارروائی کے باعث کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی، تاہم نباتات اور ماحولیاتی نظام کو شدید نقصان پہنچا ہے۔حکام نے خبردار کیا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کے باعث جنگلاتی آگ کے خطرات میں تیزی سے تبدیلی آ رہی ہے، جس کے پیش نظر مسلسل نگرانی اور بروقت اقدامات ناگزیر ہیں، خصوصاً ایسے وقت میں جب خشک سردیاں زیادہ معمول بنتی جا رہی ہیں۔