سرینگر//وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن نے بجٹ پیش کرتے ہوئے جموں کشمیر کے لئے خصوصی پیکیج کے تحت گیس پایپ لائن پروجیکٹ تعمیر کرنے کا اعلان کیا ہے ۔ یہ منصوبہ تقریبا 7 750 کلومیٹر طویل ہے۔سال 2008 میں بٹھنڈا سے جموں اور پھر جموں سے سرینگر تک مجوزہ گیس پائپ لائن بچھانے کا منصوبہ تیار کیا گیا تھا۔اسکے تقریباً تین سال بعد 7 جولائی ، 2011 کو ، پیٹرولیم اور قدرتی گیس ریگولیٹری بورڈ پی اے جی آر بی نے یہ معاہدہ گجرات کی سرکاری کمپنی گجرات اسٹیٹ پیٹرونیٹ لمیٹڈ کو دیا۔855 کروڑ روپے کی لاگت کے اس منصوبے کے تحت گیس پائپ لائن کو پنجاب کے بٹھنڈہ سے شروع کیا جانا تھا اور جموں و کشمیر کے کٹھوعہ ، سانبہ ، جموں ، ادھم پور ، رام بن ، اننت ناگ اور پلوامہ اضلاع کے راستے سری نگر میں مکمل ہونا تھا۔گیس پائپ لائن بچھانے کی ڈیڈ لائن6 جولائی 2014 کو رکھی گئی تھی۔تاہم اسکے بعد اس منصوبے پر کوئی پیش رفت نہیں ہوسکی۔البتہ سروے کا کام مکمل ہوچکا تھا اور اراضی کے حصول کے کام میں بھی بہت پیش رفت ہوئی تھی۔2015 میں سابق ریاستی حکومت نے اس منصوبے کو مرکز کیساتھ اٹھایا تھا جبکہ28 نومبر 2018 کو ، ریاست جموں و کشمیر کے اس وقت کے گورنر ستہ پال ملک کی سربراہی میں ریاستی انتظامی کونسل نے ، جموں کشمیر انڈر گراؤنڈ یوٹیلیٹی ایکٹ 2014 میں ترمیم کرکے اس منصوبے کی تکمیل کیلئے مدت میں توسیع بھی کردی تھی۔ اس کے مطابق اس منصوبے کو2 سال میں مکمل ہونا تھا۔ اب اس منصوبے کا ایک بار پھر مرکزی بجٹ میں تذکرہ کیا گیا ہے۔اسکے علاوہ یونین بجٹ میں جموں کشمیر کیلئے 30757 کروڑ کی گرانٹ کی تجویز دی گئی ہے۔ صنعتی ترقی کیلئے 104 کروڑ،جموں وکشمیر لائٹ انفنٹری کیلئے 1451کروڑ،جموں و کشمیر کے لئے خصوصی سکالرشپ اسکیم کیلئے 225 کروڑ،جموں کشمیرمیں گرلز ہاسٹل تعمیر کرنے کیلئے20کروڑ،کھیلوں کی سہولیات میں اضافہ کیلئے 50کروڑ روپے،یونین ٹیریٹری اور ڈیزاسٹر ریسپانس فنڈمیں شراکت کے لئے 279 کروڑ گرانٹ،جموں اور کشمیرکے لئے خصوصی کیٹیگوری ریاستوں جموںکشمیر ، ہماچل پردیش اور اتراکھنڈ کیلئے 20کروڑ ،یونین کے لئے صنعتی ترقیاتی اسکیم جموں وکشمیر اورلداخ کیلئے 100 کروڑ اورسنٹر سیکٹر اسکیم پروجیکٹ جموں و کشمیر اور ہماچل پردیش کیلئے11 کروڑ کی رقم مختص رکھی گئی ہے۔