بلال فرقانی
سرینگر// جموں و کشمیر میں کارپوریشنوں اور خود مختار اداروں کے مالی نظم و ضبط اور شفافیت پر سنگین خدشات ظاہرکئے گئے ہیں۔ کمپٹرولر اینڈ آڈیٹر جنرل آف انڈیا نے کی جانب سے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ متعدد پبلک سیکٹر انڈرٹیکنگز اور خود مختار اداروں کے سالانہ کھاتے کئی برسوں سے زیر التوا ہیں، جس سے نہ صرف شفافیت متاثر ہو رہی ہے بلکہ قانونی نگرانی بھی کمزور پڑ رہی ہے۔رپورٹ کے مطابق صرف چار اداروں کے کھاتوں کا آڈٹ مالی سال 2022-23تک مکمل ہو سکا، جبکہ 35 کمپنیوں اور کارپوریشنزوںکے 139 اکائونٹس کا آڈٹ ایک سے 12 برس تک تاخیر کا شکار ہیں۔
اسی طرح 8 خود مختار ادارے مجموعی طور پر 40 اکائونٹس کے تفاصیل جمع کرانے میں ناکام رہے ، جن میں تاخیر کی مدت3 سے 14 برس تک ہے۔سی اے جی نے خبردار کیا کہ اکائونٹس کا آڈٹ مکمل ہونے میں مسلسل تاخیر کے باعث سرکاری سرمایہ کاری کے نتائج قانون ساز اداروں کے جائزے سے باہر رہتے ہیں، جس سے بروقت اصلاحی اقدامات ممکن نہیں رہتے اور احتساب کا نظام کمزور پڑ جاتا ہے۔ رپورٹ میں حکومت پر زور دیا گیا ہے کہ تمام ادارے مقررہ مدت کے اندر اپنے سالانہ مالیاتی اخراجات سے متعلق تفاصیل جمع کرانے کو یقینی بنائیں۔رپورٹ کے مطابق جموں و کشمیر اوورسیز ایمپلائمنٹ کارپوریشن لمیٹڈ سرفہرست ہے، جس کے 2010-11سے اب تک 12 اکائونٹس کا آڈٹ نہیں کیا گیا ہے۔ اس کے بعد جموں و کشمیر منرلز لمیٹڈ اور غیر فعال ادارے جموں و کشمیر انٹرنیشنل ٹریڈ سینٹر کارپوریشن لمیٹڈ اور جموں و کشمیر روڈ ڈیولپمنٹ کارپوریشن لمیٹڈ شامل ہیں، جن کے تقریباً 9، برس کے اکائونٹس زیر التوا ہیں۔اسی طرح جموں و کشمیر کیبل کار کارپوریشن لمیٹڈ کے آٹھ کھاتے 2014-15سے نامکمل ہیں، جبکہ جموں و کشمیر میڈیکل سپلائیز کارپوریشن لمیٹڈ کے سات اکائونٹس سے متعلق 2015-16سے تفاصیل جمع نہیںکی گئی ہے۔جموں و کشمیر پولیس ہاؤسنگ کارپوریشن لمیٹڈکے 6 برس کے اکائونٹس زیر التوا ہیں۔دیگر اہم اداروں میں جموں و کشمیر پاور ڈیولپمنٹ کارپوریشن لمیٹڈ کے پانچ 2017-18سے زیر التوا ہیں، جبکہ جموں و کشمیر انٹرپرینیورشپ ڈیولپمنٹ انسٹی ٹیوٹ نے 2018-19کے بعد کوئی اکائونٹ تفصیل جمع نہیں کرائی ہے۔انفراسٹرکچر اور ٹرانسپورٹ سے وابستہ اداروں کی جانب سے تفاصیل جمع کرانے میں بھی تاخیر سامنے آئی ہے۔ جموں اور سرینگر میں ریپڈ ٹرانزٹ کارپوریشنز کے چار چار کھاتے 2019-20سے زیر التوا ہیں، جبکہ جموں و کشمیر پاور ٹرانسمیشن کارپوریشن لمیٹڈ، جموں و کشمیر پاور کارپوریشن لمیٹڈ اور سرینگر سمارٹ سٹی لمیٹڈ کے بھی چار چار کھاتے جمع نہیں ہوئے ہیں۔اسی طرح جموں سمارٹ سٹی لمیٹڈ کے 3 اور جموں و کشمیر فارسٹ ڈیولپمنٹ کارپوریشن لمیٹڈ کے بھی 3 اکائونٹ زیر التوا ہیں، جبکہ دیگر ادارے جیسے جموں و کشمیر پروجیکٹس کنسٹرکشن کارپوریشن لمیٹڈ اور جموں و کشمیر ہینڈی کرافٹس ڈیولپمنٹ کارپوریشن کے چار چار اکائونٹس سے متعلق تفصیل جمع نہیں کی گئی ہے۔خود مختار اداروں میں کمپنسیٹری افاریسٹیشن مینجمنٹ اینڈ پلاننگ اتھارٹی کے سب سے زیادہ 14 کھاتے 2009-10سے 2022-23تک زیر التوا ہیں۔شیر کشمیر یونیورسٹی آف ایگریکلچرل سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی (سری نگر و جموں) کے تین تین کھاتے زیر التوا ہیں، جبکہ ایمپلائز پراویڈنٹ فنڈ آرگنائزیشن نے 2015-16سے 2018-19تک کے 4کھاتے جمع نہیں کیے۔ جموں و کشمیر ہاؤسنگ بورڈ، کھادی و دیہی صنعت بورڈ، بلڈنگ اینڈ کنسٹرکشن ورکرز ویلفیئر بورڈ اور اسٹیٹ لیگل سروسز اتھارٹی شامل ہیں، جہاں بھی متعدد کھاتے زیر التوا ہیں۔رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ محکمہ خوراک، شہری رسد اور امور صارفین کے کچھ کھاتے دہائیوں سے زیر التوا ہیں، جن میں بعض ریکارڈ 1970 کی دہائی تک کے ہیں۔