کامران جاوید
تعلیم کسی بھی معاشرے کی ترقی کی بنیاد ہوتی ہے، مگر افسوس کہ جموں و کشمیر کا محکمہ تعلیم آج ایک سنگین بحران کی لپیٹ میں ہے۔ ایک جانب ہم جدید تعلیمی پالیسیوں (NEP 2020) کے نفاذ کے دعوے کر رہے ہیں، تو دوسری جانب زمینی حقائق انتہائی افسوسناک ہیں۔ ہمارے سرکاری سکولوں میں اساتذہ کی تعیناتی کا معیار، ‘قابلیت کے بجائے محض ‘خالی آسامیوں کو پُر کرنے تک محدود ہو کر رہ گیا ہے۔
آج جموں و کشمیر کے سرکاری سکولوں میں ایک عجیب اور مضحکہ خیز صورتحال دیکھنے میں آ رہی ہے۔ ریاضی (Maths) کے ماہر اساتذہ کو اردو پڑھانے اور سائنس (Science) جیسے اہم مضمون کو جغرافیہ یا دیگر غیر متعلقہ مضامین کے اساتذہ کے سپرد کیا جا رہا ہے۔ یہ عمل نہ صرف اساتذہ کی توہین ہے بلکہ یہ ہمارے طلباء کے مستقبل کے ساتھ ایک گھناؤنا مذاق ہے۔ ایک ایسا طالب علم جو بنیادی تصورات اپنے متعلقہ مضامین کے ماہر استاد سے نہیں سیکھ پائے گا، وہ کل کو مسابقتی امتحانات (Competetive Exams) میں کیسے کھڑا ہوگا؟
اس صورتحال کا براہِ راست ذمہ دار جموں و کشمیر کا محکمہ تعلیم اور اس کی ناقص انتظامی پالیسیاں ہیں۔ گزشتہ کئی برسوں سے اساتذہ کی تعیناتی اور تبادلوں (Transfers) کے عمل میں ‘سبجیکٹ اسپیشلائزیشن (Subject Specialization) کو مکمل طور پر نظر انداز کیا گیا ہے۔ حکومت کی یہ پالیسی کہ ’’استاد صرف استاد ہے، وہ کوئی بھی مضمون پڑھا سکتا ہے‘‘ تعلیمی معیار کو تباہ کرنے کے مترادف ہے۔
کیا جموں و کشمیر کی حکومت اس بات کا جواب دے سکتی ہے کہ وہ کیوں تعلیمی اداروں کو محض اعداد و شمار کے ذریعے چلانا چاہتی ہے؟ جب ایک ریاضی کا استاد اپنے مضمون کی پیچیدگیاں نہ سکھا سکے، تو کیا یہ ہمارے بچوں کے ساتھ ناانصافی نہیں ہے؟ یہ پالیسی اس بات کا ثبوت ہے کہ انتظامیہ کو طلباء کے تعلیمی معیار سے زیادہ اپنی فائلوں کو مکمل کرنے کی فکر ہے۔یہ غیر منطقی عمل نہ صرف اساتذہ کی صلاحیتوں کو زنگ لگا رہا ہے بلکہ ان کا تعلیمی جوش و جذبہ بھی ختم کر رہا ہے۔ جب ایک تربیت یافتہ استاد کو اس کے شعبے سے ہٹایا جاتا ہے، تو وہ طلباء میں نہ تو دلچسپی پیدا کر پاتا ہے اور نہ ہی وہ انصاف کر سکتا ہے جس کا وہ اہل ہے۔
وقت کا تقاضا ہے کہ جموں و کشمیر انتظامیہ اپنی اس غلط پالیسی پر نظرثانی کرے۔ اساتذہ کی تعیناتی کو ان کی تعلیمی قابلیت (Academic Qualification) سے مشروط کیا جائے اور ایسے اقدامات کیے جائیں کہ ہر مضمون صرف اسی استاد کو پڑھانے کے لیے دیا جائے جس نے اس شعبے میں مہارت حاصل کی ہے۔ اگر ہم نے وقت رہتے اس تعلیمی ڈھانچے کی درستی نہ کی، تو ہم آنے والی نسلوں کے مجرم قرار پائیں گے۔ہماری حکومت کو یہ سمجھنا ہوگا کہ سکول کوئی تجربہ گاہ نہیں ہے جہاں غیر متعلقہ اساتذہ سے تجربات کیے جائیں، بلکہ یہ وہ تعمیراتی مراکز ہیں جہاں قوم کا مستقبل سنوارا جاتا ہے۔ کیا انتظامیہ ہمارے بچوں کے تابناک مستقبل کے لیے اس اصلاحی قدم کو اٹھانے کی ہمت رکھتی ہے؟
[email protected]
����������������