عظمیٰ نیوز سروس
سرینگر// مرکزی حکومت نے راجیہ سبھا کو بتایا ہے کہ الیکٹرانکس مینوفیکچرنگ اور ٹیکنالوجی اسٹارٹ اپس کو فروغ دینے کے لیے شروع کی گئی تین اہم مرکزی اسکیموں کے تحت جموں و کشمیر کی جانب سے اب تک کوئی تجویز یا درخواست موصول نہیں ہوئی۔یہ معلومات وزیر مملکت برائے الیکٹرانکس و اطلاعاتی ٹیکنالوجی جتن پرسادا نے رکن راجیہ سبھا ست پال شرما کے غیر ستارہ سوال کے تحریری جواب میں فراہم کیں۔وزیر نے بتایا کہ موڈیفائیڈ اسپیشل انسینٹو پیکیج اسکیم کا مقصد الیکٹرانکس مینوفیکچرنگ کے شعبے میں سرمایہ کاری کو فروغ دینا اور صنعتوں کے ابتدائی سرمایہ جاتی اخراجات میں مالی معاونت فراہم کرنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اب تک ملک کی 14 ریاستوں اور ایک مرکز کے زیر انتظام علاقے میں 300 درخواستیں منظور کی جا چکی ہیں، جن کے تحت 3,197.78 کروڑ روپے کی مالی مراعات جاری کی گئی ہیں، تاہم جموں و کشمیر سے اس اسکیم کے تحت کوئی درخواست موصول نہیں ہوئی۔مرکزی حکومت نے مزید بتایا کہالیکٹرانکس ڈیولپمنٹ فنڈ آٹھ ذیلی فنڈز کے ذریعے الیکٹرانکس، نینو الیکٹرانکس اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبوں میں کام کرنے والی کمپنیوں اور اسٹارٹ اپس کو سرمایہ فراہم کرتا ہے۔ 30 جون 2026 تک اس فنڈ کے تحت 257.77 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کی جا چکی ہے، جبکہ ان ذیلی فنڈز نے مجموعی طور پر 128 کمپنیوں اور اسٹارٹ اپس میں 1,335.77 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کی ہے، لیکن جموں و کشمیر سے اس اسکیم کے تحت بھی کوئی تجویز موصول نہیں ہوئی۔وزیر نے بتایا کہالیکٹرانکس مینوفیکچرنگ کلسٹر اور موڈیفائیڈ ای ایم سی 2.0 اسکیموں کا مقصد الیکٹرانکس صنعت کے لیے جدید بنیادی ڈھانچہ، تیار اراضی، یوٹیلیٹی خدمات اور مشترکہ سہولیات فراہم کرنا ہے تاکہ سرمایہ کاری کو فروغ دیا جا سکے۔حکومت نے واضح کیا کہ اگرچہ یہ تمام اسکیمیں ملک بھر کے درخواست دہندگان کے لیے دستیاب ہیں، تاہم جموں و کشمیر کی جانب سے اب تک ایم-سیپس، الیکٹرانکس ڈیولپمنٹ فنڈ یا الیکٹرانکس مینوفیکچرنگ کلسٹر پروگرام کے تحت کوئی تجویز یا درخواست پیش نہیں کی گئی۔