عظمیٰ نیوز سروس
سرینگر// ملک کے مختلف ہائی کورٹس نے اہم فیصلوں میں کہا ہے کہ اگر محکمہ صرف جی ایس ٹی پورٹل پر شوکاز نوٹس یا دیگر قانونی نوٹس اپ لوڈ کرے اور اس کی اطلاع ٹیکس دہندہ کو ای میل، رجسٹرڈ موبائل نمبر یا دیگر منظور شدہ ذرائع سے نہ دے، تو ایسے نوٹس کو قانونی طور پر درست طریقے سے ’سروس‘ نہیں مانا جا سکتا۔ ان فیصلوں سے ہزاروں ٹیکس دہندگان کو راحت ملنے کی توقع ہے، جن کے خلاف صرف پورٹل پر نوٹس اپ لوڈ کرنے کی بنیاد پر کارروائی کی گئی تھی۔ٹیکس ماہرین کے مطابق جی ایس ٹی قانون میں نوٹس کی ترسیل کے مختلف طریقے مقرر کیے گئے ہیں، جن میں رجسٹرڈ ای میل، رجسٹرڈ پوسٹ، ذاتی طور پر فراہمی یا الیکٹرانک ذرائع شامل ہیں۔ صرف پورٹل پر نوٹس ڈال دینا اس وقت تک کافی نہیں سمجھا جا سکتا جب تک یہ ثابت نہ ہو کہ متعلقہ ٹیکس دہندہ کو اس کی مؤثر اطلاع بھی دی گئی تھی۔حالیہ عدالتی فیصلوں میں ہائی کورٹس نے واضح کیا کہ قدرتی انصاف کا بنیادی تقاضا ہے کہ کسی بھی شخص کو اس کے خلاف کارروائی سے قبل مناسب اطلاع اور جواب دینے کا معقول موقع فراہم کیا جائے۔
اگر نوٹس ٹیکس دہندہ کی نظر ہی نہ آئے اور اس کے خلاف یکطرفہ حکم جاری کر دیا جائے تو یہ انصاف کے اصولوں کے منافی ہوگا۔ماہرین کا کہنا ہے کہ عملی طور پر بہت سے کاروباری حضرات روزانہ جی ایس ٹی پورٹل لاگ اِن نہیں کرتے، اس لیے صرف پورٹل پر نوٹس اپ لوڈ کرنے سے یہ فرض نہیں کیا جا سکتا کہ انہیں اس کی اطلاع مل گئی ہے۔ اسی وجہ سے متعدد مقدمات میں عدالتوں نے ایسے احکامات کو کالعدم قرار دیتے ہوئے متعلقہ حکام کو ہدایت دی کہ نوٹس دوبارہ قانون کے مطابق جاری کیا جائے اور ٹیکس دہندہ کو جواب دینے کا مکمل موقع دیا جائے۔قانونی ماہرین نے واضح کیا کہ ان فیصلوں کا مطلب یہ نہیں کہ ٹیکس دہندگان جی ایس ٹی پورٹل کو نظر انداز کر دیں۔ کاروباری اداروں کو چاہیے کہ وہ باقاعدگی سے اپنا جی ایس ٹی پورٹل، رجسٹرڈ ای میل اور موبائل نمبر چیک کرتے رہیں تاکہ کسی بھی نوٹس یا سرکاری اطلاع سے بروقت آگاہ رہ سکیں۔ماہرین کے مطابق اگر کسی ٹیکس دہندہ کے خلاف صرف پورٹل پر نوٹس اپ لوڈ کرنے کی بنیاد پر کارروائی کی گئی ہو اور اسے مناسب طریقے سے اطلاع نہ ملی ہو تو وہ متعلقہ ہائی کورٹ کے ان فیصلوں کی روشنی میں قانونی چارہ جوئی یا اپیل پر غور کر سکتا ہے۔ تاہم ہر مقدمے کا فیصلہ اس کے اپنے حقائق اور شواہد کی بنیاد پر ہوگا۔ٹیکس ماہرین نے یہ بھی کہا کہ جی ایس ٹی حکام کے لیے ضروری ہے کہ وہ نوٹس جاری کرتے وقت قانون میں درج تمام طریقہ کار پر مکمل عمل کریں تاکہ بعد میں قانونی تنازعات پیدا نہ ہوں اور ٹیکس وصولی کا عمل بھی شفاف اور منصفانہ انداز میں جاری رہے۔