ٹی ای این
سرینگر//مالی سال 2025-26 (اسیسمنٹ ایئر 2026-27)کیلئے انکم ٹیکس ریٹرن داخل کرنے کی آخری تاریخ 31 جولائی قریب آ چکی ہے، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اس مرتبہ مقررہ تاریخ میں توسیع کے امکانات نہایت کم ہیں۔ اگرچہ سوشل میڈیا پر آخری تاریخ بڑھانے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے، لیکن حکومت یا انکم ٹیکس محکمہ کی جانب سے اب تک کسی بھی قسم کے باضابطہ اعلان یا اشارے سامنے نہیں آئے ہیں۔ ٹیکس ماہرین کے مطابق گزشتہ برسوں میں جن تکنیکی مسائل، نئے فارموں کی تاخیر یا ای فائلنگ پورٹل کی دشواریوں کے باعث تاریخ میں توسیع کی گئی تھی، اس سال ایسی کوئی بڑی رکاوٹ موجود نہیں ہے۔ انکم ٹیکس محکمہ نے اس مرتبہ آئی ٹی آر فارم پہلے ہی جاری کر دیے تھے اور ای فائلنگ نظام بھی پہلے کے مقابلے میں زیادہ مستحکم اور آسان ہے، جس کی وجہ سے تاریخ بڑھانے کی ضرورت محسوس نہیں کی جا رہی۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ آخری وقت تک انتظار کرنے سے تکنیکی خرابی، دستاویزات میں غلطی یا سرور پر زیادہ بوجھ جیسے مسائل پیش آ سکتے ہیں، جس سے ریٹرن بروقت داخل نہ ہونے کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔ اسی لیے تنخواہ دار ملازمین، پنشن یافتگان اور دیگر اہل ٹیکس دہندگان کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ 31 جولائی سے پہلے اپنی ریٹرن جمع کرا دیں۔ ماہرین کے مطابق اگر کوئی شخص مقررہ تاریخ تک آئی ٹی آر داخل نہیں کرتا تو اسے تاخیر سے ریٹرن داخل کرنے کی صورت میں جرمانہ، بقایا ٹیکس پر سود، بعض مالی نقصانات اور مخصوص صورتوں میں دیگر قانونی پیچیدگیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اس کے علاوہ بعض نقصانات کو آئندہ برسوں میں منتقل کرنے کی سہولت بھی متاثر ہو سکتی ہے۔ ٹیکس ماہرین کا کہنا ہے کہ جب تک حکومت یا سینٹرل بورڈ آف ڈائریکٹ ٹیکسز کی جانب سے باضابطہ نوٹیفکیشن جاری نہ ہو، ٹیکس دہندگان کو کسی ممکنہ توسیع پر انحصار نہیں کرنا چاہیے بلکہ مقررہ آخری تاریخ 31 جولائی کو ہی حتمی تصور کرتے ہوئے اپنی آئی ٹی آر بروقت داخل کر دینی چاہیے۔