جموں //جموں ویسٹ اسمبلی مومنٹ کے صدر سنیل ڈمپل کی قیادت میں بدھ کے روز یہاں امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے پاکستان کے ساتھ مسلہ کشمیر حل کرنے کیلئے ثالثی کا رول نبھانے کے بیان کے خلاف زور دار احتجاجی ریلی منعقد کی گئی۔مظاہرین نے امریکی صدر ، امریکہ، پاکستان اور پاکستانی وزیر اعظم کا پُتلا نذر آتش کیا۔مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے ڈمپل نے امریکی صدر اور پاکستانی وزیر اعظم کو متنبہ کیا کہ ریاست جموں و کشمیر بھارت کا ایک ناقابل تنسیخ حصہ ہے اور امریکہ کا اس میں کوئی رول نہیں ہے ،لہذا ٹرمپ کو اس سے دور رہنا چاہیے۔انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی سے اس سلسلہ میں فوری طور وضاحت کرنے کو کہا ہے کیونکہ ریاست اور ملک کے قوم پرست بے حد غُصہ میں ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہمارا دھرنا اور احتجاج تب تک جاری رہے گا جب تک کہ صداقت سامنے نہیں آتی ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر وزیر اعظم نے ایسا کہا ہوگا، تو وہ سراسر ہمارے سیکورٹی فورسز اور شہیدوں کی بے حرمتی ہے۔ڈمپل نے کہا کہ اس بیان سے واضع ہے کہ امریکہ نے پاکستان کے ساتھ ہاتھ ملایا ہے۔انہوں نے ٹرمپ کو خبر دار کیا کہ پاکستان دہشت گردی کی ایک صنعت ہے ،جہاں پر عالمی دہشت گرد اوصامہ بن لادین کو بھی چھپا یا رکھا گیا تھا۔انہوں نے وزیر اعظم سے پی او کے ،گلگت، بلتستان کو آزاد کرنے کا مطالبہ کیا ،جس پر پاکستان نے غیر قانونی قبضہ کر رکھا ہے۔انہوں نے پاکستان میں دہشت پسندی کیمپ تباہ کرنے تک پاکستان کے ساتھ کوئی بھی بات و چیت نہ کرنے کی اپیل کی۔ مظاہرین میں ہربنس ٹنڈن ، چمن پوار، جے ایم گپتا، ایس ترلوک سنگھ ،سجے کھجوریہ، سنیل گنڈوترہ، ستپال کوہلی، کالہ کمار، دیو راج ، اشوک کھنہ، دیو راج،وپن ، مکیش، جتیندر گپتا، جیوتی، دیپک، دیوانشو کپائی و دیگران بھی شامل تھے۔