ریزرو کٹیگری و پی ایم پیکیج ملازمین کا ٹرانسفر پالیسی لاگو کرنے کا مطالبہ ،کہا کشمیر نہیں جائینگے
جموں//جموں میں کشمیر میں تعینات ریزرو زمرہ ملازمین نے بھاجپا دفتر کا گھیرائو کیاجبکہ پی ایم پیکیج ملازمین نے احتجاجی مارچ کیا۔مظاہرین کا کہنا ہے کہ یکم جون سے احتجاج پر بیٹھے ہوئے ہیں لیکن ابھی تک ٹرانسفر پالیسی کو لاگو نہیں کیا گیا۔ لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کی جانب سے دئے گئے بیان کے خلاف جموں میں ریزرو کٹیگری ملازمین نے سڑکوں پر آکر احتجاجی مظاہرئے کئے۔انہوں نے بتایا کہ ملازمین کی ایک بڑی تعداد نے بھاجپا دفتر کا گھیرائو کیا اور سڑک پر بیٹھ گئے۔اس موقع پر نامہ نگاروں سے بات چیت کے دوران مظاہرین نے کہاکہ کشمیر میں ٹارگیٹ کلنگ کے واقعات رونما ہونے کے بعد وہ مسلسل احتجاج پر بیٹھے ہوئے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ بی جے پی کے سینئر لیڈروں نے یقین دلایا کہ ٹرانسفر پالیسی پر عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے گا لیکن کل ایل جی منوج سنہا نے جو بیان دیا وہ سمجھ سے پرے ہیں۔انہوں نے مزید بتایا کہ پچھلے کئی ماہ سے تنخواہیں بند پڑی ہوئی ہیں لیکن اس کے باوجود بھی حکومت کی جانب سے ملازمین کی دیرینہ مانگوں کو پورانہیں کیا جارہا ہے۔انہوں نے بتایا کہ کشمیرمیں ٹارگیٹ کلنگ کے بعد جموں وکشمیر انتظامیہ نے یقین دلایا کہ ٹرانسفر پالیسی کو لاگو کیا جائے گا لیکن ابھی تک بھی اس پر عملدرآمد نہیں ہوا۔ مظاہرین نے جموں میں مقیم ریزرو کیٹیگری کے ملازمین کے لئے ٹرانسفر پالیسی کا مطالبہ کیا۔ جیسے ہی احتجاج میں شدت آتی گئی توبی جے پی کے لیڈران بشمول سابق نائب وزیر اعلی، کویندر گپتا، دیویندر سنگھ رانا اور دیگر نے مظاہرین سے ملاقات کی۔مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے، بی جے پی کے سینئر لیڈر دیویندر سنگھ رانا نے جموں میں مقیم ریزروڈ کیٹیگری کے ملازمین کو ٹرانسفر پالیسی کا یقین دلایا۔دریں اثناء پی ایم پیکیج کے ملازمین نے بھی ملی ٹنٹ تنظیموں کے خطرات کے پیش نظر کشمیر سے جموں منتقل کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے اپنا احتجاج جاری رکھا۔احتجاجی ملازمین نے کہا”ہم مطالبات کے حوالے سے حکام کے غیرمتعلق رویے سے دکھی ہیں۔ ہم تنخواہ کی خاطر اپنی جان خطرے میں نہیں ڈالیں گے۔ جب سیکورٹی کی صورتحال مناسب نہیں ہے تو ہمیں کشمیر میں شامل ہونے پر مجبور کرنا غیر حساس ہے “۔انہوں نے مزید کہا’’دہشت گرد تنظیمیں کشمیری پنڈتوں اور غیر مقامی لوگوں کو دھمکیاں دے رہی ہیں۔ لہٰذا، صورت حال ان کے لیے مناسب نہیں ہے‘‘۔ انہوں نے واضح کیا کہ ’’ہم جموں میں خدمات انجام دینے کے لیے تیار ہیں۔ اگر ہمیں یہاں ریلیف کمشنر (ایم) جموں کے ساتھ منتقل کیا جاتا ہے جب تک کہ کشمیر میں سیکورٹی کی صورتحال بہتر نہیں ہوجاتی‘‘۔بتادیں کہ جموں وکشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے بدھ کے روز نامہ نگاروں سے بات چیت کے دوران کہاکہ کشمیر پنڈت ملازموں کو در پیش تمام مشکلات کے حل کے لئے اقدام کئے جا رہے ہیں لیکن ایسا نہیں ہے کہ کوئی گھر میں بیٹھے گا اور اس کو تنخواہ اور دیگر مراعات دئے جائیں گے‘۔
احتجاجی ملازمین سے متعلق ایل جی کا بیان افسوس ناک
جارحیت کوئی حل نہیں،مسئلہ کو انسانی بنیادوں پر حل کیاجائے: جگدیپ سنگھ
جموں//عام آدمی پارٹی نے جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کے ریزرو زمرہ اور خصوصی پیکیج ملازمین کے احتجاج پردئے گئے بیان کوافسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ جموں و کشمیر انتظامیہ کے جارحانہ رویہ کو ظاہر کرتا ہے ۔ عام آدمی پارٹی کے ریاستی سینئر ترجمان اور ریاستی میڈیا کوارڈی نیشن کمیٹی کے شریک انچارج جگدیپ سنگھ نے ایل جی کے بیان جس میں ایل جی نے کہا تھاکہ’’ گھر بیٹھنے کے لیے کوئی تنخواہ نہیں‘‘کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ بیان جموں و کشمیر حکومت کے جارحیت کے نقطہ نظر پر مبنی ہے جو بیوروکریٹس کے ذریعے چلائی جاتی ہے۔ انکاکہناتھا کہ عام آدمی کی حالت زار سے کوئی سروکار نہیں لیکن معاملات کو آمرانہ انداز میں چلایا جا رہا ہے اور محض تشہیر کے لیے پالیسیاں لاگو کی جا رہی ہیں۔انہوں نے جموں و کشمیر کے ایل جی کو یاد دلایا کہ یہ ملازمین اپنے گھروں میں نہیں بیٹھے ہیں بلکہ سڑکوں پر دھرنا دے رہے ہیں اور ایل جی انتظامیہ خود اس گڑبڑ کی ذمہ دار ہے۔ سنگھ نے ان احتجاجی ملازمین کو نظر انداز کرنے پر جموں و کشمیر حکومت پر مزید نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا کہ یہ ملازمین اس سیارے سے باہر کسی چیز کا مطالبہ نہیں کر رہے ہیں بلکہ ان کا مطالبہ سادہ اور سیدھا ہے جو جانوں کی حفاظت اور تحفظ فراہم کرنا ہے۔سنگھ نے مزید کہا “صرف ایک عام آدمی جو ایک ملازم کے طور پر خدمات انجام دے رہا ہے اور اس کے خاندان کے افراد اس خوف کو برداشت کر سکتے ہیں جس کا انہیں دہشت گرد تنظیم کی طرف سے جاری کردہ حالیہ دھمکیوں کی وجہ سے سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور حکومت ان بے بس ملازمین کے زخموں پر مرہم رکھنے کے بجائے ان کے زخموں پر نمک چھڑک رہی ہے”۔ سنگھ نے کہا “یہ ایک حساس مسئلہ ہے کیونکہ اس سے ان ملازمین کی زندگیوں کا تعلق ہے لیکن بدقسمتی سے حکومت نہ صرف دوسری طرف دیکھ رہی ہے بلکہ جموں کشمیر یو ٹی کے سربراہ ایسے بیانات جاری کر رہے ہیں جو ملازمین پر وسیع اثر ڈال رہے ہیں اور یہ ظاہر کرتا ہے کہ حکومت کو مسائل کے تئیں ملازمین کا زرہ بھی احساس نہیں ہے‘‘۔انہوں نے اس مسئلے کو نظام کے مسئلے کے بجائے انسانی بنیادوں پر حل کرنے پر بھی زور دیا۔انہوں نے بھارتیہ جنتا پارٹی سے بھی کہا کہ وہ ان ملازمین کے تئیں کچھ انسانی ہمدردی کا احساس رکھیں اور کہا کہ یہ وقت ہے کہ بی جے پی کشمیری پنڈتوں اور ریزرو کیٹیگری کے ملازمین کے تئیں اپنے نعروں پر ٹھوس آئے۔