سید امجد شاہ
جموں//خراب موسمی حالات کے پیش نظر جموں کے بھگوتی نگر بیس کیمپ میں اتوار کو امرناتھ یاترا دوسرے دن بھی عارضی طور پر معطل رہی۔جموں، ادھم پور اور رام بن میں گاڑیوں کی ٹریفک کو جموں سری نگر ہائی وے پر تودے گرنے اور رام بن ضلع میں سڑک کے دھنسنے کی وجہ سے چلنے کی اجازت نہیں دی گئی۔محکمہ ٹریفک کے مطابق ادھم پور کے مختلف علاقوں میں ہلکی موٹر گاڑیوں اور بھاری موٹر گاڑیوں سمیت 2500 سے زیادہ گاڑیاں پھنسی ہوئی ہیں، جن میں سے زیادہ تر نجی اور سیاحتی گاڑیاں ہیں۔انہوں نے دعویٰ کیا ’’کچھ سیاحوں کی گاڑیاں مغل روڈ کے راستے کشمیر جانے کے لیے واپس مڑ گئیں‘‘۔ مزید برآں، جموں کے ضلع انتظامیہ نے بتایا کہ بھگوتی نگر اور دیگر قیام گاہوں پر امرناتھ یاتریوں کا رش بڑھ گیا ہے۔عہدیدار کا کہنا ہے”کیونکہ اتوار کو بھی یاترا مسلسل دو دوسرے دن تک معطل رہی، جموں شہر میں یاتریوں کی تعداد 10,000 سے زیادہ ہوگئی۔ ان کی رہائش کیلئے ہم نے یاتریوں کیلئے جموں شہر کے اندر تقریباً 28 قیام گاہوں کا انتظام کیا ہے‘‘۔عہدیدار نے بتایا کہ بھگوتی نگر بیس کیمپ میں تقریباً 3000 یاتری ٹھہرے ہوئے ہیں۔ تاہم بیس کیمپ میں 2000 یاتریوں کو ایڈجسٹ کرنے کی گنجائش ہے۔انکا مزید کہناتھا”کیونکہ یاترا عارضی طور پر معطل ہے، جموں میں یہاں تعداد بڑھ گئی ہے اور انتظامیہ یاتریوں کی مدد کرنے میں مصروف ہے اور انہیں تمام سہولیات کے ساتھ مختلف رہائش گاہوں میں رہائش فراہم کی گئی ہے‘‘۔تمام مقامات پر پیرا ملٹری، جے کے پی کے سیکورٹی ونگ اور ضلعی پولیس اہلکاروں کی تعیناتی کے ساتھ حفاظتی انتظامات کو سخت کر دیا گیا ہے۔ یاترا کی عارضی معطلی کے پیش نظر کوئی بس سروس بک نہیں کی گئی۔عہدیدا ر نے کہا”اگر کل صبح تک موسم بہتر ہو جاتا ہے، اور شاہراہ کو گاڑیوں کی آمدورفت کیلئے بحال کر دیا جاتا ہے، تو امید ہے کہ یاترا پہلگام اور بالہ تل کیلئے روانہ ہو سکتی ہے ۔
جموں میں امرناتھ یاترا دوسرے دن بھی مسلسل معطل رہی