جموں صوبہ میں سرحدی مکینوں کی نقل مکانی شروع

جموں+اوڑی//حد متارکہ اور بین الاقوامی سرحد پر رہ رہے لوگوںنے محفوظ مقامات کی طرف منتقلی شروع کردی ہے جبکہ صورتحال کو دیکھتے ہوئے تمام تعلیمی ادارے بند کردیئے گئے ہیں او رانتظامیہ نے راحت کیمپ قائم کئے ہیں ۔ راجوری پونچھ میں پاکستانی جنگی طیاروں کی بم گرانے کی کارروائی کے بعد سرحدی مکینوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ’شارٹ نوٹس ‘پر ہی نقل مکانی شروع کردیں ۔اس دوران بڑی تعداد میںلوگوں نے سرحدی علاقوں سے ہجرت شروع کردی ہے اور وہ محفوظ مقامات کی طرف منتقل ہورہے ہیں ۔ جموں ضلع کے ہیر انگر سیکٹر کے چمن لعل نے بتایاکہ حالانکہ ابھی تک انہیں کوئی سرکاری پیغام موصول نہیں ہوالیکن چونکہ حالات کشیدہ ہیں اورجان کا خطرہ لاحق ہے لہٰذا لوگوں نے محفوظ مقامات کی طرف ہجرت شروع کردی ہے ۔تاہم انہوں نے بتایاکہ لوگوں سے کہاگیاہے کہ وہ پکی دیواروں کے اندر رہیں اور اپنے لئے ضروری اشیاء بھی دستیاب رکھیں ۔انہوں نے مزید بتایاکہ انتظامیہ کی طرف سے کچھ سرکاری عمارتوں کی شناخت بھی کی گئی ہے جہاں انہیں کشیدگی کے عالم میں ٹھہرایاجاسکتاہے ۔مقامی لوگوں کے مطابق گائوں کے پنچایتی نمائندگان سے کہاگیاہے کہ وہ صورتحال خراب ہونے کی صورت میں انتظامیہ سے تعاون کریں تاکہ لوگوں کو منتقل کیاجاسکے ۔سچیت گڑھ کے وکاس بھگت کاکہناہے کہ ابھی تک انہوںنے یہاں کوئی کشیدگی نہیں دیکھی لیکن خوف کے مارے لوگ نقل مکانی کررہے ہیں ۔بھگت کاکہناہے کہ زیادہ کشیدگی حد متارکہ پر ہی ہے لیکن آج ہونے والی کشیدگی نے انہیں ڈرا دیاہے ۔انہوںنے بتایاکہ وہ اپنے والدین ، اہلیہ اور دو بچوں کو میراں صاحب میں اپنی بہن کے گھر منتقل کررہاہے ۔سرحدی عوام کاکہناہے کہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں اور معاملات حل کرنے کیلئے بات چیت کاراستہ اختیا رکیاجائے ۔وہیں انتظامیہ نے حد متارکہ اور بین الاقوامی سرحد پر صفر سے 5کلو میٹر تک کے علاقے میں پڑنے والے تمام تعلیمی اداروں کو بند کرنے کا حکم جاری کیاہے ۔ڈپٹی کمشنر جموں رمیش کمار کی طرف سے ایک حکم بھی جاری کیاگیاہے جس کے مطابق ضلع جموں میں حد متارکہ اور بین الاقوامی سرحد پرپانچ کلو میٹر کے احاطے تک پڑنے والے تمام سکول 28فروری کو بند رہیںگے ۔