تھنہ منڈی //سرحدی ضلع راجوری اور پونچھ کے درمیان واقعہ مشہورہ سیاحتی مقام دیرہ گلی میں ہر طرح کی بنیادی سہولیات میسرنہیں ہیں جس کی وجہ سے سیاحوں کو دقتوں کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ۔ ایکو ٹورزم کے تحت محکمہ جنگلات نے کروڑوں روپے لاگت سے6 ہٹس اور 2 ڈائننگ ہال تعمیر کئے تھے تاہم ان ڈھانچوں میں ابھی تک کوئی بھی بنیادی سہولیات فراہم نہیں کی جاسکی ہیں ۔ان ہٹس اور ڈائینگ ہال میںکھانے پینے کا کوئی بندوبست نہیں ہے اور نہ ہی بجلی اور پانی کا معقول انتظام کیا گیا ہے ۔پچھلے پانچ برسوں سے بجلی کا ٹرانسفارمر خراب ہے جو ابھی تک اپنی بدحالی پر آنسو بہا رہا ہے مصنوعی لائٹنگ کا سارا سسٹم بھی درہم برہم ہو چکا ہے ۔مین روڈ سے نکالی گئی رابطہ سڑکوں کی خستہ حالی کے ساتھ ساتھ تعینات ملازمین گزشتہ ایک برس سے تنخواہ سے بھی محروم ہیں ۔مذکورہ سیاحتی مقام پر بڑی تعداد میں سیاح آتے لیکن بنیادی سہولیات کی عدم دستیابی کی وجہ سے یہ جگہ سیاحت کے فروغ سے محروم ہے۔صرف محکمہ جنگلات کی جانب سے یہاں پر ایک کنٹین بنائی گئی ہے جہاں پر کھانا دستیاب ہے ۔دہرہ کی گلی محکمہ جنگلات کے ماتحت ہے جس کی وجہ سے محکمہ سیاحت کی طرف سے اس جانب سیاحوں کو متوجہ کرنے معیاری اور مستحکم اقدام نہیں نہیں اٹھائے جارہے ہیں ۔راجوری ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے ایک اہلکار نے بتایا کہ اتھارٹی کا محکمہ سیاحت میں کوئی رول نہیں ہے ۔مقامی سرپنچ نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ کسی بھی سیاحتی مقام کے فروغ کے لئے وہاں پر طعام و قیام کا انتظام لازمی ہے جبکہ دہرہ کی گلی میں نہ تو کھانے پینے کا معقول بندوبست ہے اور نہ ہی یہاں پر بجلی اور پانی کا معقول انتظام ہے جس کی وجہ سے سیاح یہاں پر چاہ کر بھی آنے سے گریز کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ سیاحتی شعبے میں ترقی کے وسیع تر مواقع موجود ہیں جبکہ حکومت کو چاہئے کہ وہ سیاحوں کو اپنی جانب راغب کرنے کیلئے اقدامات اٹھائے ۔