یو این آئی
پونے//خلیجی خطے میں جاری جنگی صورتحال کے باعث زرعی اجناس کی برآمدات شدید متاثر ہو گئی ہیں جس سے مغربی مہاراشٹر کے کسانوں، تاجروں اور ٹرانسپورٹرز میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ برآمداتی سرگرمیاں سست پڑنے کے باعث بندرگاہوں پر بڑی مقدار میں سامان پھنس گیا ہے۔ذرائع کے مطابق اس وقت تقریباً 700چینی سے لدے ہوئے ٹرک بندرگاہوں پر کھڑے ہیں جب کہ گڑ سے بھرے تقریبا 10 ٹرک بھی برآمد کے انتظار میں رکے ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ کشمش اور انگور کی بڑی مقدار بھی شپمنٹ کے لیے بندرگاہوں پر جمع ہو چکی ہے۔
برآمد کنندگان کا کہنا ہے کہ خلیجی ممالک کے ساتھ منسلک تجارتی راستوں اور جہاز رانی کے شیڈول میں غیر یقینی صورتحال کی وجہ سے سامان کی ترسیل رک گئی ہے جس کے باعث بندرگاہوں پر کھیپ کا ڈھیر لگتا جا رہا ہے۔صنعتی ذرائع کے مطابق آنے والے دنوں میں مزید برآمدی سامان بندرگاہوں تک پہنچنے والا ہے، لیکن خلیجی ممالک میں حالات میں بہتری کے آثار نہ ہونے کے سبب متعلقہ حلقوں کو مالی نقصان کا خدشہ لاحق ہے۔کسان خاص طور پر جلد خراب ہونے والی اجناس جیسے انگور اور کشمش کے بارے میں فکر مند ہیں کیونکہ اگر برآمد میں مزید تاخیر ہوئی تو ان کی کوالٹی متاثر ہونے کا خطرہ ہے۔دوسری جانب تاجروں اور ٹرانسپورٹرز کو بھی ذخیرہ کرنے کے بڑھتے ہوئے اخراجات اور لاجسٹک رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر صورتحال جلد بہتر نہ ہوئی تو مہاراشٹر کے زرعی شعبے کو بڑا معاشی دھچکا لگ سکتا ہے اور بیرون ملک منڈیوں پر انحصار کرنے والے ہزاروں افراد متاثر ہو سکتے ہیں۔