بے چہرہ انسان!

  دورِ حاضر کا انسان جس ترقی یافتہ دور میں جی رہا ہے، وہ سائنس و ٹیکنالوجی کا دور کہلاتا ہے۔ دورِ حاضر کی نئی نئی اختراعات و ایجادات اور محیر العقول کارنامے مثلاً انسان کا فضائوں میں پرندوں کی طرح اُڑنا، سمندر کی تہ میں مچھلیوں کی طرح تیرنا، سونے چاندی جیسی بیش قیمت دھاتیں برآمد کرنے کے لئے زمین کی تہیں کھنگالنا اور پہاڑوں کے سینے چیرنا، یہ سب انسان کے عروج و ترقی اور اس کی اعلیٰ دماغی کی جیتی جاگتی تصویریں ہیں،لیکن اگر یہ کہا جائے تومبالغہ  نہ ہوگا کہ مادی ترقی کے مدارج طے کرنے اور نت نئی آسائشیں حاصل کرنے کی خاطر انسان کو اپنے اخلاق و کردار اپنے دین و شریعت کا سودا کرنا پڑا ہے کیونکہ تہذیب ِجدید نے جہاں انسانوں کو نئی ایجادات اور عجیب و غریب آسائشوں کے ذریعے  دنیوی کامیابی و کامرانی کے سبز باغ دکھلائے، وہیں اسے تحت الثریٰ میں دھکیلنے اور مالک ِحقیقی سے اپنا رشتہ کاٹنے کے وہ تمام اسباب فراہم کئے جو اس کے لئے مخرب اخلاق ثابت ہوتے رہے ہیں۔ عصر رواں میں ان اسباب میں موبائیل فون، انٹرنیٹ، یوٹیوب وغیرہ بھی شامل ہیں۔ موبائیل کی نئی مہلک بیماری امراء کے محل سے لے کر غریبوں کے جھونپڑی تک غلبہ پاگئی ہے اور بچوں سے لے کر بوڑھوں تک سب اس کے شائق و شیدائی بنے ہوئے ہیں۔اس مہلک وبا کی وجہ سے ہر معاشرے میں بوڑھے، نوجوان، بچے، بچیاں ، غرض تمام افراد متاثر بلکہ ذہناً ماؤف نظر آتے ہیں ۔ افسوس کہ  جوننھے منے معصوم بچے ملک و ملت کے معمار ، محافظ اور نگراں بننے والے ہیں، وہ موبائیل کی فحش کاریوں میں ملوث ہوکر اپنی شخصیت کا اصل مصرف کھو رہے ہیں اور اپنی بدچلنی یا بری عادات کے ہاتھوں قوم و ملت کے لیے باعث ننگ وعارہو تے جارہے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ آج انٹرنیٹ اور فحش فلموں سے فحاشی و بدکاری حد سے بڑھ گئی ہے۔ ان میں جذبات بر انگیختہ کر نے و الے ہیجانی قسم کے گیتوں اور ڈانسوں سے بھرا جاتا ہے کہ جنہیں دیکھ کر اور سن کر ہر غیرت مند انسان اپنی آنکھوں پر حجاب اور کانوں پر انگلیاں ٹھونس لینے پر مجبور ہوتاہے۔
دوستی، عاشقی، آوارگی، محبت بھرے خط، عشقیہ ٹیلیفون، لچر شاعری، کلچرل شو، فیشن شو، بیوٹی پارلر، آئیڈیل فلمی ستارے، میوزیکل گروپس، بریک ڈانس، مخلوط محفلیں، خفیہ ملاقاتیں، بلیو پرنٹ بوس و کنار، رنگ رلیاں، جنسی بلیک میلنگ اور ہیجانی کیفیات کا طوفان ،یہ تمام خطرناک رجحانات فحاشی و عریانیت کے فطری نتائج ہیں ۔ یہ چیزیں قطعی طور مسلم معاشرے کی نہیں بلکہ فرنگی تہذیب کا حصہ اور ضرورت ہیں مگر بدقسمتی سے ہم مسلمانوں نے بال وجہ انہیں ماڈرن ازم ، امارت کے اظہار، تہذیب، فیشن، فرینڈشپ، ماڈرن اِزم لبرٹی، ایجوکیشن اور انڈرسٹینڈنگ کا نام دے کر قبول کرلیا ہے اور آج مشرقی ممالک میں بھی صنف ِنازک نے سخت جاں مردوں کے شانہ بشانہ اپنا کردار ادا کرنے کی آڑ میں پردہ ترک کردیا ہے، جسے خواہ مخواہ مشرقی خواتین ترقی کی دوڑ میں سب سے بڑی رکاوٹ سمجھتی ہیں۔ ستم تو یہ ہے کہ خاندانی اور گھرگرہستی والی پاک باز خواتین بھی دیکھا دیکھی میں غیر ضروری طور پر ان کم سواد خواتین کے ساتھ شامل ہوگئی ہیں۔  حالانکہ جب کسی خاتون کا سر ننگا ہوا تو آنکھوں سے حیا بھی گئی اور شخصیت کا وقار بھی کافور ہو ا، ایسی خاتون بازار میں نکلے، کسی پبلک مقام پر ہو ، یا دفتر اور دوکان کو جائے، وہ نہ چاہتے ہوئے بھی دوسروں کی نظروں کا نشانہ بن جاتی ہیں بلکہ کچھ ایک میں یہ سفلی خواہش فل میک اَپ، چُست لباس، کھلے ریشمی بال ، پُرکشش لباس وغیرہ صورتوں میں چھلکتی ہے جو بھوکی نگاہوں کو جنسی اشتعال دلانے کا موقع فراہم کرتی ہے، اس لئے وہ جہاں سے گزرتی ہے، شیطان کی بیٹی بنے اپنوں اور غیروں دعوت نظارہ دیتی اور للچائے ہوئے دلوں پر چال و جمال کے چرکے لگاتی ہے۔ اسے یہ حق کس نے دیا؟ اسے آزادیٔ نسواں کا یہ مفہوم کس نے سمجھایا؟ اسے خاندانی وقار کو خاک میں ملانے اور معاشرے کی بربادی کا موقع کس نے ٹھیکہ دے رکھا؟ یقینا اس کا جواب ہے صرف ہم مردوںنے، چا ہے رشتے کے لحاظ سے ہم باپ، بھائی ، شوہر اور بیٹے ہوں۔اس تباہی کے ذمہ دار ہم خود ہیں۔
جب سے موبائل فون، انٹرنیٹ، یوٹیوب ہماری زندگیوں میں دخیل ہوئے ہیں، دُنیا بھر کے پروگراموں کوان کے ذریعہ براہ راست دیکھنا بھالنا ہمارے لئے ممکن بناہوا ہے۔ سمجھئے انہی کی وساطت سے فحاشی اور برہنگی کی ایک نہ ختم ہونے والی دوڑہماری زندگی کو غلط رخ دے گئی۔ غالباً یہ فلمی فحاشیت کا ہی نتیجہ ہے کہ ملک کے ہر حصہ میں خواتین پر ظلم و زیادتی اور چھیڑ چھاڑ کے افسوس ناک واقعات میں روز افزوں اضافہ ہوگیا ہے۔ یہ واقعات کیوں رونما ہوتے ہیں؟ یقینی طور پر یہ اس غلط تعلیم کا اثر ہے جو ہمارے نوجوان کو انٹرنیٹ، فیس بُک سے اور دوسرے ہیجان خیز پروگراموں سے مل رہی ہے ۔ جب تین سال کا بچہ ننگا ڈانس دیکھ کر رقص کرنے لگتا ہے تو بڑی عمر کے لڑکے لڑکیوں کی کیا حالت ہوگی؟ جو ہیرو ہیروئن کے فحش گانے اور نیم عریان ڈانس اور ایسی ہی دوسری شرمناک حرکتیں جو شہوانی ہیجان خیزی کی باعث ہوں، جب انہیں کچے ذہن والے دیکھتے میں تو ان کے جذبات حدود وقیود سے باہر ہوجاتے ہیں ۔اس کی بناء پر طرح طرح کے جرائم اورقسم قسم کی بیماریاں سماج میںوجود میں پاتی ہیں۔
افسوس! آج نوبت یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ ہر مکان و دوکان میں انٹرنیٹ، یوٹیوب جس سے سماج کے بے شرم اپنی بہن بیٹیوں اور مائوں بہنوں کے ساتھ بیٹھ کر فحش اور گندے مناظر سے لطف اندوز وہتے ہیں اور غیر محسوس طریقے پر اپنے بچوں کو تعلیم دیتے ہیں کہ دیکھو بڑے ہوکر ایسے ہی تم بھی کرنا، باپ کو یوں گولی مارنا، ماں کو گھر سے ایسے نکالنا، بیوی پر یوں ظلم کرنا، کسی کی عزت و عصمت پر اس طرح ڈاکہ ڈالنا۔ افسوس صدافسوس ان بے وقوفوں پر جو اپنے آپ کو زیرک و دانا کہتے ہیں مگر اس غلط طرز عمل کو گناہ نہیں سمجھتے بلکہ اپنی تفریح اور دل بہلانے کا مشغلہ خیال کرتے ہیں۔ پورا معاشرہ اس ناروا اور ناجائز کام میں سر سے پائوں تک ڈوبا ہوا ہے۔
اے چشم اشک  بارر ذرا دیکھو تو سہی
یہ گھر ہو دیکھ رہا ہے کہیں تیرا گھر نہ ہو
اگر آپ باپ ہیں توآپ صاحب ِ اولاد ہیں۔ باپ کی حیثیت سے اپنی اولاد کو تربیت آپ پر فرض ہے اور یہ مال و دولت جو آپ صرف اولاد کے لئے کمارہے ہیں کہیں بھی کام نہ آئے گا۔باپ بھی یقینا اسی معاشرے کا حصہ ہے۔ آپ ایک غیرت مند باپ ہیں تو آپ شفقت پدری کے عینک اُتار کر اپنے گھر کی عظمت و عصمت کا خیر خواہ بن کر جائزہ لینا ہوگا۔اگر آپ بھائی ہیں تو ہر لڑکی آپ کو بھائی سمجھے لیکن اس رشتے سے آپ کے گھر میں بھی کچھ اہم ذمہ داریاں ہیں۔ خود غرضی کی زندگی گزارنا بہت آسان ہے لیکن اپنی بہن کا بھائی اگر اپنے اس خونی رشتے کے مقدس تقاضوں سے لاپرواہ ہوجائے تو پتہ ہے لوگ اس بھائی کو کیا کہتے ہیں؟ مجھے کچھ کہنے کی چنداں ضرورت نہیں ۔مائیں ،بہنیں ،بیٹیاں، شریک حیات عورت کے چار روپ ماں، بہن، بیٹی اور بیوی۔ ہمارے معاشرے کی ساکھ ہیں۔ وہ رنگ میں قابلِ احترام ہے مگر اس کی فحاشی و عریانی کی طرف آمادگی اور رغبت قوموں کے لئے بحران اور نئی نسل کے لیے المیہ ہوتا ہے۔ فیشن کی رو میں بہہ کر بودھیوں نے بھی ہونٹ رنگین کرلئے۔ رعشہ زدہ ہاتھوں پر مہندی سجالی اور جسموں کی نمائش کرنے پر تل گئی، گھروں میں روک ٹوک ڈانٹ ڈپٹ اور پوچھ گچھ کا سلسلہ جب سے ختم ہوا۔ عورتوں نے شرم و حیا کے تمام زیور اُتار پھینکے۔ ہوٹلوں، گھروں اور دفتروں تک موسیقی، فلم، گانے، گفتگو کے موضوع ہونے لگے۔ اب عورتیں اولاد کی فکر نہیں کرتیں۔ ہم وہ مائیں کہاں سے لائیں جو قرآن پڑھتی چکی پیستی تھیں اور ان کے بطن سے سید عبدالقادر جیلانیؒ جنم لیتے تھے۔ آپ کا آئیڈیل تو حضرت فاطمہؓ کی زندگی ہونی چاہیے۔اے مسلمانو! تم اپنے آپ کو اور اپنے متعلقین کو دوزخ کی آگ سے بچائو (الطلاق:۲۸) آج کا مسلمان اپنے اہل و عیال سمیت آگ میں جلنے کی تیاری کررہا ہے۔
اللہ ہمیں اس سے بچنے کی توفیق دے۔ آمین۔
 پس نوشتہ:
 وہ انجینئر ہو یا ڈاکٹر!!! 
 ایک جانب
لڑکی بالغ ہوچکی ہے، ۲۰؍۲۵ برس بلکہ اس سے بھی زائدعمر کی ہے ،اب اس کے لئے موزوں رشتہ مطلوب ہے ضرور مگرلڑکا انجینئر ہو یا ڈاکٹر… رشتہ کے لیے یہ ایک لازمی شرط ہے ۔ضروری نہیں کہ صحیح العقیدہ مسلمان ہو۔ضروری نہیں کہ نماز گذار ہو۔ضروری نہیں کہ دیانتدار ہو۔ضروری نہیں کہ باکردار ہو۔ لامحالہ ضروری ہے تو صرف یہ کہ انجینئر ہو یا ڈاکٹر۔ 
دوسری جانب لڑکا بالغ ہوچکا ہے رشتہ ٔزوجیت کے لیے بے قرار ہے، اب کسی گناہ میں پڑنے کا اندیشہ بھی ہے لیکن لڑکی مطلوب ہے: جوخوبصورت ہو، اونچے خاندان کی ہو، مالدار ہو، جہیز لانے والی ہو، ملازم پیشہ ہو، تاکہ روپیہ کماکر لائے، دینداری کی کوئی شرط نہیں۔یہ ہے موجودہ مسلمانوں کے رشتہ نکاح کی ضروریات و مطلوبات، یہ ہیں سماج کی خود ساختہ رکاوٹیں اور بندشیں۔ان کی وجہ سے ہمارے بے شمار لڑکے اور لڑکیاں ازدواجی زندگی کی بہاریں دیکھنے سے محروم ہیں۔ مگرآہ! اسلام کے ماننے والوں کے لیے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے والوں کے لئے رشتوں کے انتخاب میں لڑکی کا حسب ونسب ، مالداری ، خوب صورت نہیں بلکہ دین واخلاق کو معیارمطلوب اور ،قابل ترجیح قرار دیا ہے۔ کہاں ہیں ہم ؟؟؟
رابطہ9469679449 
ای میل[email protected]