میری بے سی ،میری التجا ،میری ضبط آہ پہ نظر تو کر
مجھے مسکرا کے نہ ٹال دے میری زندگی کا سوال ہے
زندگی کے سفر میں کچھ ادوار ایسے بھی آتے ہیں جن میں آدمی تلاش کی منزلوں سے گزر کر ایک ایسی وادی میں وارد ہوتا ہے جہاں سے نئے راستے کھل جاتے ہیں اور یہ راستے اس آدمی کے لئے کب کیا طے کر سکتے ہیں بتانا مشکل ہے ۔ہر حال میں آدمی نئی امیدیں پیدا کرتا ہے اور نئے وسوسے جنم لیتے ہیں۔ ان امیدوں اور وسوسوں کے درمیان آدمی جو زندگی بسر کرتا ہے وہ کبھی پر سکون رہتی ہے اور کبھی خدشات سے پُر لیکن ان خدشات کی بہترین منزل بھروسے پر آکر رک جاتی ہے ۔جو تسکین قلب کی ابتدائی منزل ہے اور یہ بے بسی کی آخری حد بھی کہلائی جا سکتی ہے کیونکہ تفکرات کی دنیا حیرت انگیز جلوئوں سے شروع ہو کر کبھی کبھار حسرت ناک انجام اختیار کر لیتی ہے جو ایقان کی دنیا میں دراریں پیدا کرتی ہیں ۔
حضرت انسان کا روز بروز ترقی یافتہ ہونا اس کے اختراعی وجود کی صمانت ہے جو اس سے حد امکان سے لامکان تک کاسفر کراتی ہے جہاں سے علم کی تمام حدیں یا تو ختم ہو جاتی ہیں یا پھر عقیدے کا سامان بن جاتی ہیں جہاں انسانی عقل مشاہدے میں تو رہتی ہے لیکن فیصلے صادر کرنے سے قاصر ہو جاتی ہے اور یوںابتداء ہوتی ہے لامکان کے ان تصورات کی جنہیں ابھی تک دنیا کی کوئی ٹکنالوجی کھوج نہ سکی ،جو عاقل دانا، عالم ، سائنسدانوں ، سیاست دانوں ، فلسفہ دانوں ، عام لوگوں ، صوفی سنتوں ، طالب علموں اور بلا لحاظ مذہب و جنس لوگوں کو بے بس بنا دیتی ہے ۔ بے بسی کا وجود نہ صرف خیالی ، تصوراتی اور فرضی ہے بلکہ ایک ٹھوس شکل میں ہے جس کی ہیتیں مختلف ہیں اور نوعتیں منفرد جو کبھی رواں دریا کی صورت اختیار کرتی ہے اور کبھی روشن چاند نیز چمکتی چاندنی بن جاتی ہیں۔ یہ بے بسی رستم کو رام کرتی ہے ، دریا کو نالے کا وجود بخشتی ہے ، بے گناہ کو گنہگار لکھتی ہے ، بہتے سمندر میں سونامی لاتی ہے ، فلک کو خاک بنا دیتی ہے ، اڑتے پرندوں کے پر کاٹتی ہے ، قیس کو مجنون بنا دیتی ہے ، فرہاد کا سر پھوڑتی ہے ، نیز چلتی ہواؤں کو روک لیتی ہے ، ناؤ کو ڈبو دیتی ہے ، سروں کو کچل دیتی ہے ، والدین سے ان کی اولاد چھینتی ہے ، بچے کو اس کی ماں سے جدا کرتی ہے ، شوہر کو بیوی سے محروم کرتی ہے ، آدم کو زبان ہلانے سے محروم رکھتی ہے ، طاقت ور کو طاقت استعمال کرنے سے روکتی ہے ، پیاسے کو پیاس بجھانے سے منع کرتی ہے، بڑے درختوں کو پھل دینے سے بے بس رکھتی ہے ۔ غرض بے بسی ایک ایسی طاقت ہے جس کا اندازہ لگانا نہ صرف مشکل ہے بلکہ محال بھی جو صرف اپنا اختتام اور لفظوں کا اختصار افسوس اظہارِ بیان میں مقید رکھتی ہے ۔
یہ خزائیں زدر پتے اوراپنی بے بسی
آس ٹوٹی ، خواب بکھرے آہ میری بے بسی
زندگی کے رنگ سارے اڑ گئے تصویر سے
رفتہ رفتہ کینوس پر چھائی ایسی بے بسی
(عمار ابن ضیا )
اس بات سے ہر شخص واقف ہے کہ تسخیر کائنات کی لگاتار جستجو نے انسان کی حد نگاہ کو سطح زمین کے اندر سے اُٹھا کر وسعت افلاک میں سمو دیا جہاں سے وہ آوازیں بلند ہوتی ہیں جن کی تعبیریں اور تاویلیں متعین کرنا انسان کے بس کی بات نہیں ہے ۔ انسان نے قدیم تہذیب کا سفر طے کرتے ہوئے کائنات کی حدوں کو مسخر کر کے بادشاہت کا تاج خرید لیا لیکن اس خریداری کے معاملے میں آج بھی وہ بہت حد تک بے بس ہے ۔ یہ بے بسی کا عمل نہایت طاقت وری کا اظہار کرتا ہے جہاں صرف ہاتھ ملنے کا حسین ترین جذبہ کار فرما ہوتا ہے ۔ یہ جذبہ خلوص سے پیش کیا جائے تو سکون اور عافیت کی اُمیدیں قائم کی جا سکتی ہیں جہاں سے زندگی کی نئی راہیں تعمیر ہوتی ہیں اور آدمی بے دردی کے ایام بے بسی کے نام کر جاتا ہے تو زندگی کی واحد نیز قوی تعبیر اُمید جنم لیتی ہے ۔ بے بسی اور امید کا تعلق اہم بھی ہے اور نہایت صحت مند بھی ۔جہاں ایک اُمید بے بس اور لاچار آدمی کو جینے کا ہنر سکھاتی ہے وہیں بے بسی بادشاہ کی جان لے سکتی ہے ۔ بے بسی کا اظہار کرنا اصل میں فطرت کے سامنے اظہار شکستگی کا عمل ہے جو فطرت کو پسند ہے نیز نہایت نیک عمل ہے جس کے بدلے میں اس سے ہزار طرح کے خواشہات اور انعامات سے نوازا جاتا ہے ۔
قبول ہو کہ نہ ہو سجدہ و سلام اپنا
تمہارے بندے ہیں ہم بندگی ہے کام اپنا
دنیا حادثات کی آماجگاہ ہے جہاں آئے روز حادثات ہوتے رہتے ہیں۔ وہ حادثات جن سے ایک آدمی دل برداشتہ بھی ہوتا ہے اور کبھی کبھی نئے تجربات یا مشاہدات سے بھی فیض یاب ہوتا ہے جو اس سے زندگی کا ہنر عطا کرتے ہیں اور اس سے نئی چیزوں کی پرکھ یا پہچان سے بھی واقف کراتے ہیں ۔ یہاں پہنچ کر آدمی کے لئے انتہاؤ ں کا سفر شروع ہو جاتا ہے جس سفر کے دوران آدمی انتہائی راحت اور سکون کی منزل سے گزر کر بس کے مقام کو حاصل کرتا ہے بس بذات خود اکتفاء اور قناعت کی پہلی سیڑھی ہے ۔
بے بسی اپنے اصولوں سے اسی طرح پاک و صاف ہوتی ہے جس طرح سے ایمان افروزی آدمی کو شاکر بنا ڈالتی ہے اور یہ تشکراپنے اندر ایسا مزاج رکھتا ہے جہاں آدمی سکون کی وادی میں پہنچ جاتا ہے اور سکون اس باغ کا نام ہے جہاں ہر پھول رنگین ہوتا ہے آدمی کے لئے فرحت بخش ہوتا ہے ۔ یہاں کی سبزہ زاری چشم کو بھاتی ہے، ہر آنکھ کارگری کی لاکھ مثالیں اپنے اندر سما سکتی ہے، سمانے کا عمل نہایت حسین اور خوبصورت ہوتا ہے جس میں ندی سے لیکر دریا اور سمندر کی وسعتیں دیکھنے کو ملتی ہیں ،جہاں خیالات کی دنیا اپنے بلند مقام و مرتبہ پر فائز ہوتی ہے، جہاں لطف اندوزی کا عالم نرالا دکھائی دیتا ہے ۔جو نقصان اور نفع کی منزلوں سے دور ایک ایسے ماحول میں ہوتا ہے جہاں کی فضائیں مغمور ہوں جہاں کی ہوائیں دلفریب ہوں جہاں کی روشنی دل لبھا ہو، جہاں کی زمین گلزار سے پُر ہو، جہاں کا سماں حسین ہو۔
حضرت انسان بہرحال بے بس اور لاچار ہے دنیا میں شرف حاصل کرنے کے باوجود بھی قانون فطرت کے سامنے بے بس ہے مال دولت کا مالک ہونے کے باوجود بھی صاحب ثروت دنیا کی لزیز نعمتیں کھانے سے قاصر ہے کیونکہ ان چیزوں پر اس کا بس نہیں چلتا ہے اور اس طرح سے اس کے بس کا نہ چلنے کا نام ’’بے بسی‘‘ پڑا ہے ۔ ایک شخص انتہائی غریب ہے اس کے پاس مال و دولت نہیں لیکن صحت مند اور تندرست ہے اس سے لزیز ضیافتیں بہت پسند ہے اور تناول کرنے کا بہت شوق لیکن دولت کا اس کے بس میں آنا ممکن نہیں اور اس طرح سے یہ عمل اس کے لئے ’’ بے بسی‘‘ بن جاتی ہے ۔ ایک رئیس شخص کروڑ پتی ہے تجارت کا شہنشاہ پورے شہر کے تجارتی مراکز اس کی ذاتی ملکیت ہیں۔ اس کے کارخانوں میں ہزاروں کی تعداد میں لوگ ملازمت کرتے ہیں گھر عالی شان نوکر چاکر خدمت میں لگے رہتے ہیں یعنٰی عیش و عشرت کی دنیا بسر کر رہا ہے لیکن ایک اس چیز نے بے بس بنا ڈالا ہے جس پر کسی کا بس نہیں چلتا ہے جہاں مال خرچہ کرنے کے باوجود بھی کوئی امید بھر نہیں آتیں اس کے یہاں اولاد پیدا نہیں ہوتے تین نکاح کرنے کے باوجود بھی کوئی اولاد ان کے بطن سے تخلیق نہیں ہوتی حالانکہ حیاتیاتی سطح پر انہیں اور ان کی اہلیان کو کمزوری نہیں ہے لیکن ڈاکٹروں کا آخری جواب ’’ ہم بے بس ہیں ‘‘ میں مضمر ہیں ۔ ایک طالب علم سالانہ امتحان میں اس وقت بے بس نظر آتا ہے جب اس کے ذہن میں استفسار کئے گئے امتحانی سوالات کے تمام جوابات محفوظ تو ہوتے ہیں لیکن لکھنے پر جب آتا ہے تو کوئی بھی جواب معقول صورت میں یاد ہی نہیں آتا۔ سر کو زور زور سے کھپانے اور قلم کی نب دانتوں تل دبانے کے باوجود بھی جواب کو صفحہ قرطاس پر رقم کرنے سے ’’ بے بس‘‘ ہے۔
زمیں روئی ہمارے حال پر اور آسماں رویا
ہماری بے کسی کو دیکھ کر سارا جہاں رویا
(رضا علی )
کہیں کہیں ایسے بھی دردناک واقعات دیکھنے کو ملتے ہیں کہ کسی بے بس شخص کی بے بسی کا ناجائز فائدہ حاصل کر کے خود غرض لوگ ان اشخاص کا سر عام مذاق اڑا دیتے ہیں جس سے نئی تاریخ کوجنم ملتا ہے اور یہ تاریخ خود کودھراتی ہے اسی طرح جس طرح تاریخ دھہرائی جاتی ہے ۔ بے بسی کا خود میں بے بس ہونا انتہائی لازمی عمل ہے جہاں آدمی نئے حوصلوں کو طے کرنا چاہتا ہے صبر آزمائی کے عمل سے نبرد آزما ہونا چاہتا ہے اس بات کا مضبوط ارادہ کر لیتا ہے کہ اس بے بسی کو ہرا کر ہی دم لے گا چاہئے جان ہی کیوں نہ چلی جائے ۔
چند لوگوں کی بے بسی کا حال نرالا ہوتا ہے جن کا پتہ عالم بساط میں پانا بھی مشکل ہے جس سے نئے راستے سامنے آجاتے ہیں جن پر چل کر ایسے افراد نئی راہیں تعمیر کرتیں ہیں جو مشکل مراحل سے گزر کر آسان اور آرام دہ ٹھکانے منظر عام پر لاتے ہیں ۔ انسان کی سب سے بڑی بے بسی یہ ہے کہ متعدد اوقات طاقت رکھنے کے باوجود بھی طاقت کا استعمال کرنے سے قاصر رہتا ہے جس کے در پردہ وجوہ کی فہرست طویل ہو سکتی ہے کبھی بے بسی کا عمل خود اختیاری کا درجہ رکھتی ہے تو کبھی اس عمل کے پیچھے ایک طاقت ہوتی ہے جس کی وجہ سے تدبیریں بھی کوئی کام کر نہیں پاتی ہیں ۔
سماجی منظر نامہ پر ایسے کردار بھی نظر آتے ہیں جو بے بسی کو مات دینے میں ماہر ہوتے ہیں اور اس طرح سے اعلیٰ مقام حاصل کر پاتے ہیں بے بسی کو مات دینا دراصل اس بات کی واضح ضمانت ہے کہ آدمی حوصلہ کا ہنر رکھتا ہے جس سے مختلف رکاوٹوں کو دور کیا جاتا ہے ۔ بے بسی کبھی اکیلے آدمی کا شکار نہیں کرتی ہے بلکہ اس کے متعلقات کو بھی اثر انداز کر دیتی ہے جس سے نکاسی کے تمام راستے مسدور ہو کر رہ جاتے ہیں جہاں نہ دعائیں کام آتیں ہیں اور نہ ہی ڈاکٹر کی دوائی سے نبھا ہوتا ہے یہ عمل بھی خاصا دلچسپ نظر آتا ہے جہاں نگاہیں فریادی بن جاتی ہے طاقتور ہاتھ لاچاری کے عالم میں نہ ہلتے ہیں نہ ڈھلتے ہیں فقط تاسف ملتے ہیں جو نگاہِ ناز کو پسند بھی ہے اور برائے شان قبول بھی آدمی کی جان بھی تب ہی بخشی جاتی ہے جب مقبولیت کے درجے پر فائز ہونے کا شرف حاصل ہوجاتا ہے جس میں نہ گناہ تولے جاتے ہیں اور نہ ہی ثوابوں کااجر شامل ہوتا ہے بلکہ قبولیت کی سند ہی کافی مانی جاتی ہے سند کے تسلیم ہونے کا نہ کوئی اصول ہے ،نہ کوئی قانون ہے ، نہ کوئی لوازمہ اور نہ ہی کوئی پیمانہ ہاں اگر ہے تو صرف شوخی تحریر جس کو کوئی ظاہری صورت ہے نہ شکل، جو تجریدی آرٹ کی مانند صرف تجریری حیثیت کا حامل ہوتا ہے جو مرضی کا مالک ہے بخشا تو بخشا نہ بخشا تو کوئی راستہ سامنے نہیں رہتا ہے ۔جس کو شعرا نے یوں بیان کیا ہے :
نقش فریادی ہے کس کی شوخی تحریر کا
کاغذی ہے پیراہن ہر پیکر تصویر کا
(غالب )
گناہ گن کے میں کیوں اپنے دل کو چھوٹا کروں
سنا ہے تیرے کرم کا کوئی حساب نہیں
(یگانہ چنگیزی)
(مضمون نگار ڈگری کالج حاجن کے شعبہ اردو میں اسسٹنٹ پروفیسر ہیں)