ساریہ سکینہ
وہ اس بڑے گھر کے ایک کمرے کے کونے میں اپنے پورے جسم کو سمیٹ کر گردن جھکائے اپنے منہ کو اپنی بازئوں میں چھپا کر سِسکیاں لے رہی تھی۔ اس کی سِسکیاں بہت دیر تک اس کمرے کے سکوت میں گونجتی رہتی تھیں اور پھر کسی پہر میں اسی سکوت میں مر جاتی تھیں۔
اس کے جسم پر بہت سے نئے اور پرانے زخم تھے لیکن ان میں سب سے گہرا زخم اس کے دل پر لگا تھا۔ جس کو اس نے چُھپا کر رکھا تھا۔
وہ سر اٹھا کر ایک پل ان دیواروں کو دیکھتی، جن کو برسوں کی دھول نے اپنی گرفت میں لیا تھا۔ وہ خاموش نظروں سے دیکھتی اور دوسرے ہی پل واپس اپنی بانہوں کی آغوش میں سِسکیاں لیتی تھی۔ وہ اگر اس کمرے میں چیختی یا چلاتی تو شاید ہی کسی تک اس کی آواز پہنچتی۔
وہ اس گھر کا ایک بے نام کمرہ تھا جس کی طرف کسی کی توجہ نہ تھی۔ زینہ اکثر وہاں جایا کرتی تھی اور پوری دنیا سے کچھ وقت کے لئے غائب ہو جاتی تھی۔ اس بے نام کمرے کی دیواروں سے اسے اپنائیت کا احساس ہوتا تھا۔ بس وہی دیواریں ہی تو تھیں، جو اس کو اپنی بانہوں میں پناہ دیتی تھی۔ پہلے وہ اس کمرے میں کم جایا کرتی تھی۔ لیکن کچھ وقت سے اس کا وہاں جانا زیادہ ہو گیا تھا۔ جس روز اس کو معلوم پڑا کہ اس کے شوہر کی دوسری شادی ہونے والی تھی۔
زینہ کو اس غلطی کی سزا مل رہی تھی جو اس نے کبھی کی ہی نہیں تھی۔ وہ غلطی جس پر اس کا کوئی بس نہیں تھا۔
اس کی شادی بھی کچھ عجیب سے حالات میں ہوئی تھی۔ وہ پہاڑوں میں رہنے والے ایک قبیلے میں رہتی تھی۔ جس کے فیصلے قبیلے کے سردار ہی کرتے تھے۔ وہی سردار اس قبیلے کے وکیل اور عدالت دونوں تھے اور ان کا کیا ہوا فیصلہ ہی آخری فیصلہ ہوتا تھا۔
زینہ کی پیدائش بھی اسی قبیلے کے ایک اچھے گھرانے میں ہوئی تھی۔ اس کی پرورش بھی ویسے ہی ہوئی تھی، جیسے اس قبیلے کی سب لڑکیوں کی ہوتی تھی۔ دسویں جماعت پاس کرنے کے بعد ہی زینہ گھر کے کاموں میں اپنی ماں کا ہاتھ بٹانے لگی۔ وہ عقل مند، باسلیقہ اور فرمانبردار بیٹی تھی۔ اٹھارہ سال کی زینہ بہت ہی خوبصورت تھی۔ نیلی آنکھیں، گورا رنگ اور سنہرے بال۔ جب مسکراتی تھی تو لگتا تھا جیسے دنیا کی ساری تتلیاں اس کے اِرد گِرد گھوم رہی ہوں۔ وہ خوابوں کی اس پری کی طرح تھی جس کے صرف خیال سے ہی دل میں محبت کا احساس پیدا ہوتا تھا۔ لیکن وہی زینہ آج ایسے حالات میں جی رہی تھی، جہاں اس کی وقعت ایک نوکرانی سے زیادہ نہیں تھی۔
زینہ کا والد امیر خان کے پاس کئی زمینیں تھیں۔ لیکن اس کی پسندیدہ زمین وہ تھی جو اس کے گھر کے قریب تھی۔ اس پر اخروٹ کے تین درخت لگے تھے۔ امیر خان کو وہ زمین ورثے میں ملی تھی لیکن اس زمین کے کاغذات نہیں تھے۔
ایک روز امیر خان کو پنچایت کا بلاوا آیا۔ معلوم ہوا کہ قبیلے کے سب سے امیر ترین شخص چودھری نے امیر خان کی پسندیدہ زمین پر اپنا دعویٰ ظاہر کیا تھا۔ وہ دعویٰ امیر خان کے لیے تب مشکل ثابت ہوا، جب چودھری نے بھری پنچایت میں اس زمین کے کاغذات دکھائے، جو ورثے میں اسے ملی بھی تھی اور اس کے نام پر بھی تھی۔
امیر خان کے لئے اب وہ زمین محض زمین ہی نہیں بلکہ اس کی عزت معلوم ہو رہی تھی۔ وہ کسی بھی قیمت پر وہ زمین چودھری کو سونپنا نہیں چاہتا تھا۔ اگرچہ سارے گواہ اور ثبوت چودھری کے حق میں تھے۔
چودھری نے شرط رکھی۔
“اگر تم اس زمین کے بدلے مجھے کچھ اور دو تو زمین میں تمہارے نام کر دوں گا۔۔۔۔۔۔”
“تمہیں کیا چاہیے۔۔۔۔۔۔؟ وہ بولو۔۔۔۔!”
امیر خان نے بھری پنچایت میں پوچھا،
“تمہاری بیٹی زینہ۔۔۔۔”
چودھری کی نظر پہلے سے ہی زینہ پر تھی۔ زمین تو صرف بہانہ تھا۔
چودھری کا ایک بیٹا تھا۔ آوارہ، نکما اور چرسی، جو آئے دن نشے کی حالت میں نالیوں میں پڑا رہتا تھا۔ چودھری نے اسی کے لئے امیر خان سے زینہ کا ہاتھ مانگا۔ اس کے بیٹے کی حرکتیں اس قبیلے میں کسی سے نہیں چُھپی تھی۔
امیر خان نے ایک ہی پل میں حامی بھری۔ وہ چاہتا تو نا بھی کر سکتا تھا۔ لیکن اس زمین اور اپنی جھوٹی انا کے آگے اسے اپنی بیٹی اور اس کی معصومیت کمتر لگی۔ اس نے چودھری کے آوارہ بیٹے کے ساتھ معصوم اور پری جیسی زینہ کی شادی کرا دی۔
زینہ کی زندگی اسی روز سے الٹی چلنی شروع ہو گئی تھی۔ جس روز سے اس کی شادی چودھری کے بیٹے سے ہوئی تھی وہ روز رات کو دیر سے نشے کی حالت میں گھر لوٹتا اور زینہ پر چیختا،چلاتا اوراس پر ہاتھ اٹھا تھا۔ زینہ اس سے مار کھاتے ہوئے چیختی چلاتی، مگر کوئی نہیں تھا جو اس کی آواز سنتا۔ جو اس کو اس کے آوارہ شوہر سے بچا سکتا تھا۔ زینہ کے والد نے بھی کئی دفعہ زینہ کے چہرے، ہاتھ اور پاؤں پر نشان دیکھے تھے۔ لیکن اس نے زینہ سے کبھی بھی ان نشانوں کا سبب نہیں پوچھا۔ شاید اس کو اندازہ ہو گیا تھا کہ ان کی وجہ کیا تھی۔
زینہ کے لئے پوری دنیا اب پرائی ہو چکی تھی۔ اس نے اس بات کو قبول بھی کر لیا تھا کہ اس کے والد نے محض زمین کے ایک چھوٹے سے ٹکڑے کے بدلے میں اس کا سودا کیا تھا۔ پھر ظاہر تھا جس چیز کا سودا کیا جاتا ہے اس پر اس کے بیچنے والے کا کوئی حق نہیں ہوتا ہے۔ اب خریدنے والا اس کو سونے کا تاج بنا کر سر پہ رکھے یا پیروں کی جوتی بنا کر پیروں میں پہنے۔ زینہ نے اپنی زندگی کی اس تلخ حقیقت کو قبول کر لیا تھا۔
شادی کے کچھ مہینوں بعد ہی اس کو اپنے بہتر کل کی ایک امید نظر آئی تھی۔ کیونکہ ڈاکٹر نے تصدیق کیا تھا کہ وہ دو مہینے سے حاملہ تھی۔ ایک روز رات کو اس کا شوہر معمول کے مطابق نشے کی صورت میں گھر لوٹا۔ اس روز اس نے جوئے میں بہت سارے پیسے ہارے تھے۔ اس سب کا غصہ اس نے اپنی بیوی پر ایسے نکالا کہ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ زینہ کا حمل گر گیا۔ اور ڈاکٹر نے یہ بھی بتایا کہ وہ پھر کبھی ماں نہیں بن سکتی۔ اس کا صدمہ زینہ کو بہت زیادہ لگا تھا۔ اتنا صدمہ تو اس کو اس روز بھی نہیں لگا تھا جس روز اس کو معلوم ہوا تھا کہ اس کے والد نے اس کا سودا کیا ہے۔
کچھ دنوں کے بعد ہی چودھری نے اپنی بیٹے کے لئے دوسرا رشتہ ڈھونڈنا شروع کیا۔ اس کی شادی ہوئی اور زینہ بس دیکھتی رہ گئی۔ وہ پھر اسی بے نام کمرے کی سکوت میں سِسکیاں لینے لگی۔ اس کی سِسکیاں کئی سالوں تک اس بند دروازے کے پیچھے گونجتی رہی حتیٰ کہ وہ خود اسی سکوت میں ہمیشہ کے لیے غائب ہو گئی۔ مگر اس کو سننے والا کوئی نہیں تھا۔
���
حضرتبل، سرینگر کشمیر
[email protected]