احمد الحبیب
اس عالم رنگ وبود میں انسان فکری یا مادی ترقی کو تہذیب Civilizationکہا جاتا ہے۔اس لحاظ سے تہذیب کادائرہ ادبی،نظریاتی، عقلی،فلسفیانہ، اور سائنسی تحقیقات سے لیکر ان تمام وسائل وایجادات،برق وبخارات اور صنعتی ترقیوں تک پھیلا ہوا ہے جن کی مدد سے انسانی معاشرہ نے زندگی میں ترقی،مادی تنظیم اور اجتماعی خوشحالی کے نئے نئے آفاق وگوشے تلاش کر لئے ہیں، تہذیب کے اس وسیع مفہوم میں وہ نظریات وافکار اور نظام زندگی بھی شامل ہیں جن سے سماج کے ڈھانچے کو مضبوط کیا جاتا ہے، اس کے مقاصد کو بروئے کار لایا جاتاہے۔تہذیب کا مقصد انسانی زندگی کے فکری، عقلی،مادی،عملی،معاشی، ذہنی،اخلاقی،انفرادی اور اجتماعی پہلؤوں کو ایک تناسب کے ساتھ صحیح سمت پر لگائے اور سب کوبہتری اور خوبی عطاکرے۔
تہذیب اور ترقی کا پیمانہ مادی مصنوعات، مختلف علوم،سا ئنسی انکشافات واختراعات،برقی تجلیات وایجادات اور صنعتی انقلاب نہیں ہے بلکہ تہذیب کا پیمانہ انسان کی بہتری اور ابتری ہے کہ وہ اس سے کتنا متاثر ہوا، اس نے اس کو اخلاق وکردار کی آبیاری اور بہتر تشکیل میں استعمال کیا ہے یا فساد وبگاڑ میں، اس نے اپنی ان اعلی انسانی خصوصیات کو جو اسے حیوان سے ممتاز کرتی ہیں۔ کہاں تک پروان چڑھا سکا ہے، انسان کی قدر وقیمت نئے نئے ترقی یافتہ وسائل کے حصول میں نہیںہے بلکہ اس کی قدر وقیمت یہ ہے کہ وہ ان ترقی یافتہ وسائل سے اپنے احساسات وجذبات اور اپنے عقل وشعور کو صحیح خطوط پر تعمیر کرنے میں کہاں تک فائدہ اٹھا سکا ہے۔
کسی بھی انسانی معاشرہ کی صحیح خطوط پر تشکیل وتعمیر میں ’’ــــــقدریں ‘‘(Values) اہم رول ادا کرتی ہیں، معاشرہ اپنے ارتقائی منازل میںضروری قدروں کو اپناتا اور غیر ضروری قدروں کو ترک کرتا جاتا ہے لیکن کچھ بنیادی اور مشترک قدریںایسی ہوتی ہیں جو ابتداء سے ہر معاشرہ میں اپنائی جاتی رہی ہیں اور ان کو اختیار کر کے معاشرہ حقیقی ترقی کرتا ہے، اسی سے معاشر ہ میں نظم واستحکام برقرار رہتا ہے اور یہی افراد کی فلاح وبہبود کا ضامن ہوتی ہیں۔لیکن گذشتہ چند صدیوںسے مغربی تہذیب وتمدن کے غلبہ کی وجہ سے بنیادی اور اخلاقی قدریں یکسر بدل گئی ہیں۔جس کے نتیجہ میں انسانی معاشرہ میںانتشار وانانیت،جنسی انار کی اور اخلاقی بے راہ روی پھیل گئی،اخلاقی قدروں کی ناقدری اوران سے غفلت وبے توجہی برتتے ہوئے صرف جنس، پیٹ، مادی خوشحالی اور دنیا ہی کوسب کچھ سمجھ لیا گیا،مادی دنیاسے بلند ہو کردوسری دنیا کے بارے میںسوچنے اورجسمانی تقاضوں سے ہٹ کر روح کی ضروریات کا احساس وادراک ہی سلب ہوگیا، حق وصداقت، علم وفضل، انسان کی قدر وقیمت اور شرافت وغیرہ کا معیار سب کچھ تبدیل ہوگیا، دولت واقتدار ہی انسان کا پیمانہ بن گیا،حیوانیت ودرندگی کے مناظر عام ہوگئے، عریانیت وفحاشی، حرص وہوس، قتل وغارتگری، مکاری وخیانت، بے وفائی وبے ایمانی، رشوت خوری وسود خوری،لذت کوشی، شراب نوشی،کمسنی کے حمل، رشتہ ازدواج سے باہر ولادتیں اور جرائم وتشدد کا دور دورہ ہوگیا،سماج سے شرم وحیاء، عفت وپاکدامنی،امن وسلامتی،امانت داری وفاداری اور رشتہ ازدواج کا تقدس جیسی بنیادی اخلاقی قدریںختم ہوگئیں، انسان کی ساری سرگرمیوں اور صلاحیتوں کا مرکز ومحور ہی دنیا اور سامان دنیا بن گیا اور سامان دنیا سے محرومی کو اتنی بڑی محرومی سمجھاجانے لگا کہ اس کی وجہ سے انسانی معاشرہ میں ڈپریشن، مایوسی، زندگی سے بیزاری اور خودکشی کے رحجانات غالب ہوگئے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ جدید تہذیب وتمدن نے قافلہ انسانیت کو معاشی واجتماعی ترقی کی راہ پر رواں دواں کر کے حیرت انگیز مرحلہ میں پہونچایا ہے۔آج کا انسان صنعتی انقلاب کے دور میں داخل ہو چکا ہے، وہ عظیم علمی، سائنسی اور جدید ٹیکنالوجی قوتوں سے آراستہ ہوچکا ہے، ہر روز اپنی آفتاب فکر کی شعاعوں سے مشکلات وضروریات زندگی کی تاریکیوں کو دور کر رہا ہے۔ کل کا انسان اپنی ناتوانی وبے بسی کی وجہ سے جن مشکلات سے دو چار تھا،صنعتی انقلاب و علمی ترقی نے ان کا زیادہ تر حصہ ختم کر دیا ہے۔ مختصر یہ کہ ترقی یافتہ مغربی دنیا نے انسانوں کو جن ایجادات ومصنوعات سے روشناس کرایا ہے وہ چشم پوشی کے قابل نہیں ہیں۔ ان کا بہر حال اعتراف کرنا پڑے گا اور کوئی بھی شخص ان چیزوں کی اہمیت کا انکار نہیں کر سکتا۔لیکن مغربی تہذیب وتمدن جہاں انسان کے لئے قیمتی تحائف لے کر آیا ،اسی کے ساتھ ساتھ ایک ایسا مہلک نظام بھی لایاجو اپنے دامن میں ہزاروں ہولناک جرائم ومفاسد لئے ہوئے ہے، بے لگام خواہشاتِ نفس نے روح کے تار وپود بکھیر دیے ہیں، انسانوںسے آسائشِ فکری وروحانی اور اطمینانِ قلب چھین لیاہے۔ مغربی تہذیب وتمدن میں علم نے حیات معنوی کے محیط میں کوئی چراغ روشن کرنے کے بجائے اس کی تیرگی وتاریکی کو کئی گناہ بڑھادیاہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ مغرب نے تہذیب وتمدن کا جو تصور دیا ہے ،اسکی بنیاد مادیت اور لا دینیت ہے، جس میں روحانی واخلاقی قدروں کویکسر فراموش کردیا گیا ہے اور ایساکیوںنہ ہوجو قوم فیضان سماوی سے محروم ہو، اس کے کمالات کی حد برق وبخارات تک ہی محدود رہتی ہے۔
وہ قوم کہ فیضان سماوی سے ہو محروم
حد اس کے کمالات کی ہے برق وبخارات
اس تہذیب کے ابتدائی خدوخال کودیکھ کر ہی شاعر مشرق علامہ اقبال ؒ نے یہ پیشن گوئی کر دی تھی کہ:
وہ فکر گستاخ جس نے عریاں کیا ہے فطرت کی طاقتوں کو
اس کی بیتاب بجلیوں سے خطر میں ہے اس کا آشیانہ
آج یہ پیشن گوئی حرف بحرف سچ ثابت ہورہی ہے کہ مذہب بیزار اور ملحدانہ مادی تہذیب وتمدن نے مغرب بلکہ پوری دنیائے انسانیت کو بربادی اور بربریت کی غار میں دھکیل دیا ہے۔
تہذیبِ جدید میں اخلاق کا پیمانہ یکسر بدل گیا ہے اس لئے کہ اخلاق کاسر چشمہ مذہب ہے اور مغربی تہذیب وتمدن میں مذہب کا کوئی گزر نہیں، اس میں اخلاق کاپیمانہ مفاد پرستی ہے جب تک مفاد وابستہ رہتا ہے اخلاق بڑھتا جاتا ہے اور جیسے ہی مفاد پورا ہوا برتاو بدل جاتا ہے، پندرہویں صدی عیسوی میں میکاویلی نے اپنا نظریہ پیش کیا کہ مقاصد ذرائع کو جائز بنا دیتے ہیں شروع میں یہ نظریہ سیاست کے میدان میں اختیار کیا گیا اور پھر اہل مغرب کی زندگی کے تمام شعبوں میں چھا گیا۔
اس کے بعد سرمایہ دارانہ نظام نے رہی سہی کسی پوری کر دی، سرمایہ داروں کی سیاست یہ ہیکہ انسانی معاشر میں اخلاقی زوال، عیش پرستی، فیشن پرستی اور نت نئے تکلفات کو رواج دیاجائے تاکہ جنسی عیاشی کے مختلف ساز وسامان، آسائشیں اور لذتیں رواج پاسکیں اور ان پر کوئی مذہبی اور اخلاقی قید باقی نہ رہے۔ عریاں فلمیں،ہیجان انگیز رقص گاہیں ، بے حیائی ، شراب اور نشہ آور ادویہ، سامان عیش وزینت، معاشرہ کی عریانی، کلب اور انجمنیں ۔غرض بے حیائی اور عیاشی کے وہ تمام مظاہر جن پر موجودہ دور کی سینکڑوں صنعتیں قائم ہیں ، سب کی سب سرمایہ داری کی خدمت میں لگی ہوئی ہیں، ان تمام صنعتوں کی تائید اور حمایت کے لئے سرمایہ داری مختلف فلسفوں اور نظریات کا سہارا لیتی ہے،اور اساتذہ، ادباء، فنکاروں، قانون دانوں اورحکومتی نظاموں کو ان کی تائید و توثیق میں لگا دیتی ہے۔ اس طرح معیشت بھی مذہب سے جدا ہوگئی، جس طرح اخلاق مذہب سے پہلے ہی جدا ہوگیا تھا ۔ اس کے بعد مغربی فلسفہ کے نظریات کے اثرسے جنسی عفت وپاکیزگی کا تصور بھی ختم ہوگیا اور عورت دل بستگی اور جنسی خواہشات کی تکمیل کا ایک سامان بن کر رہ گئی ۔
انیسویں صدی میں ڈارون ، فرائڈ اور مارکس نے اپنی تمام تر توجہات اس امر پر مرکوزکردیں کہ انسان کی تحقیرکی جائے، چنانچہ ڈارون نے انسان کو حیوان مطلق بتایا، فرائڈ نے اسے جنس کی گندگیوں میں دھکیلا اور کارل مارکس نے انسان کو مادہ اور اقتصادی عوامل کے سامنے سرنگوں کر دیا۔ ان نطریات نے نہ صرف تصور انسان پر اثر ڈالا ، بلکہ عورت اور صنفی تعلقات کے بارے میں صحیح تعلقات کو بھی ملیا میٹ کردیا ، اخلاق کی بنیادیں متزلزل کردیں، اور مردوزن کو شہوت رانی اور لذت پرستی کے دلدل میں ڈال دیا۔
مغرب میں جنسی بے راہ روی کے اسباب میں جنسی اور غیر اخلاقی جذبات بھڑکانے والے ذرائع، اقتصادی حالات، جن کی وجہ سے عورت دفاتر، کالج، اسکول اوربازاروں میں کام کرنے پرمجبور ہے، ہیجان انگیز صحافت اور دیگر ذرائع ابلاغ، قانونی اور غیر قانونی عیاشی اور فحاشی کے اڈے، مانع حمل ادویہ کی ایجاد اور ان کا فروغ، منشیات، فحش لٹریچر، عریاں فلمیں، تصاویر، اشتہارات اور عریاں کلب اور اخلاق سوز نظریات ہیں۔اور بالخصوص انٹرنیٹ، سمارٹ فون، سوشل میڈیا کے ذریعہ سے ہمارے معاشرہ میں بھی بے حیائی وعریانیت داخل ہو رہی ہے ، سوشل میڈیا پر ہر چھوٹا بڑا مر دوزن امیر وغریب عالم جاہل موجود ہیں جس نے دور حاضر میں بے حیاء کے لئے ایک اہم رول اداکیا ۔یہ سوشل میڈیا، سمارٹ فون ہمارے لئے ایک مہلک مرض ثابت ہو رہا ہے۔جو ہمارے ایمان کے لئے بہت بڑا خطرہ ہے۔
مادی اور مذہب بیزار تہذیب کے اثرات سے آج اخلاقی زوال اور انسان کی ناقدری اور انسانیت کی تحقیر میںدنیا کی وہی حالت ہے جو اسلام کی آمد سے قبل انسانی معاشرہ کی تھی،طرح طرح کی مشکلات تھیں ، ایک انسان دوسرے انسان کا دشمن اور اس کے خون کا پیاسا تھا،کسی کے مال ومتاع اور عزت وآبرو محفوط نہ تھی ، طاقتور باہم دست وگریبا ںتھے معصوم جانیں ظالموں اور باغیوں کی بھڑکائی ہوئی آگ کا ایندھن بن رہی تھیں۔
سطور بالا سے یہ بات ظاہر ہوچکی ہے کہ تہذیبِ جدید بلکہ مغرب کی مادی اور صنعتی تہذیب انسانیت کے لئے سب سے بڑا خطرہ ہے اور وہ خود روبہ زوال ہے، اس تہذیب نے جو کچھ انسانیت کو دیا ہے، وہ ہے اعصابی جنون، نفسیاتی امراض، شذوذ، جرائم، ضعف عقل،ضعف جسمانی، اعصابی اور نفسیاتی قوت برداشت کی کمی، انانیت وسرکشی ، غرور وگھمنڈ، زر پرستی، زن پرستی، مادہ پرستی، جنسی انارکی، اخلاقی بے راہ روی روحانی اور انسانی اقدار وروایات کا خون، مقدس رشتوںکی پامالی،خاندانی وگھریلو انتشار وتشدد، ملکی بد امنی وخلفشار اور انتہا پسندی۔
مغرب کی مادہ پرست تہذیب کی لائی ہوئی تباہی وبربادی اور خرابی کا علاج صرف اور صرف اسلامی نظام حیات اور اسلامی تمدن میں ہے، اس لئے کہ اسلام محض ایک عقیدہ کا نام نہیں اور نہ وہ محض چند مذہبی اعمال اور رسموں کا نام ہے، بلکہ انسان کی پوری زندگی کا مکمل ضابطہ حیات کانام ہے ، اس میں عقائد ، عبادات، معاملات، اخلاقیات، سیاسیات اور عملی زندگی کے اصول وقواعد الگ الگ نہیں ہیں، بلکہ سب ملکر ایک ناقابل تقسیم مجموعہ بناتے ہیں، جس کے اجزاء کا باہمی ربط بالکل ویسا ہی ہے جیسا کہ زندہ جسم کے اعضاء میں ہوتا ہے۔ اسلام میں ہر زمان ومکان کے ساتھ چلنے اور ہر دور میںقافلۂ انسانی کی رہبری کی بھر پور صلاحیت موجود ہے اور اس میں عقیدہ اور تہذیب کی عالمی وحدت کا عنصر غالب ہے۔
اسلام صرف روحانی نشاط کا نام نہیں بلکہ اسلام تو ساری زندگی کو اپنی رزم گاہ بناتا ہے وہ زندگی کی ہر صورت اور ہر رنگ میں جلوہ گر ہوتا ہے۔ اسلام زندگی کے حدود متعین کر دیتاہے جس میں وہ گردش کرتی ہے اسلام کو اپنامحور بنائے رکھتی ہے، عقل و سائنس، صنعت وحرفت، اقتصادو سیاست، نمازودعا اور خدا سے ربط وضبط غرض انسانی زندگی کے تمام پہلو اسی محور کے گرد اور انہی حدود کے پابند رہتے ہیں ۔ اسلام مذہب کو ساری زندگی کا ضابطہ قرار دیتا ہے اور بتاتاہے کہ یہ ضابطہ اللہ تعالیٰ کا متعین کردہ ہے اور اللہ تعالیٰ کی رضا وخوشنودی یہی ہے کہ اس قانون کے مطابق زندگی گزاری جائے ۔اسلام ہی وہ راستہ دکھاتا ہے کہ جس پر چل کر انسان کو نجات مل سکتی ہے ۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اسلا م کو سمجھنے اور اس پر عمل پیرا ہونے کی توفیق دے ۔
رابطہ۔9086780905
[email protected]
بہتری اور اَبتری ،انسان کی تہذیب کا پیمانہ