حالیہ اسمبلی انتخابات کے نتائج نے قومی سیاست کو ایک نئے رُخ پر گامزن کر دیا ہے ۔ ایک طرف بھارتیہ جنتا پارٹی نے جو محض تین سال پہلے کانگریس مکت بھارت کا نعرہ دیا تھا ،اس میں اسے خاطر خواہ کامیابی ملتی نظر آرہی ہے۔ اگرچہ پنجاب میں کانگریس کی واپسی اور منی پور کے ساتھ ساتھ گوا میں بھی مستحکم پوزیشن نے کانگریس کی لاج رکھ لی ہے مگر اتر پردیش جہاں سے دہلی کی سیاست کا راستہ ہموار ہوتا ہے، وہاں کانگریس اتحاد کی شرمناک شکست نے واقعی بھارتیہ جنتا پارٹی کو اترانے کا موقع فراہم کر دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یوپی میں یوگی آدتیہ ناتھ کی قیادت میں حکومت سازی کے بعد ہی کچھ ایسے فیصلے کئے جارہے ہیں جو سیکولر ہندستان کے آئین کے منافی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ بھاجپا کی نظر میں آئین کی اب کوئی اہمیت نہیں رہ گئی ہے کیو ں کہ محض دس دنوں کے اندر یوگی حکومت نے کچھ ایسے اقدام کئے ہیں جو مسلمانوں کے لئے مشکلات اور دل آزاری کا سبب بن رہے ہیں۔ مرکز کی بھاجپا حکومت ایک طرف ’’سب کا ساتھ ، سب کا وکاس ‘‘کی بات کر رہی ہے لیکن ریاستی حکومت اس نعرے کی دھجّیاں اُڑا رہی ہے۔ اتر پردیش میں مذبحوں پر پابندی اور پھر رومیو اسکوا ڈ کی تشکیل نے سنگھ پریوار کے ایجنڈے کی وضاحت کر دی ہے۔ ٹھیک ہے کہ غیر قانونی یا غیر لائسنسی مذبحوں پر پابندی کی جائے مگر اس کے لئے میونسپل کارپوریشن یا مقامی بلدیاتی مراکز ہی کام کرتے ہیں لیکن یوگی حکومت نے جس طرح فرمان جاری کیا وہ جمہوریت سے ایک مذاق ہے۔ اب جب کہ قومی سطح پر اتر پردیش حکومت کے اس فیصلے پرتنقید ہوئی ہے ،حکومت نے ان تنظیموں سے گفت و شنیدکی ہے جن کا تعلق ذبح خانوں سے ہے۔ اس میں بڑے تاجر بھی شامل ہیں اور فٹ پاتھ کے چھوٹے دکاندار بھی ۔ اُدھر جیسے جیسے ملک میں بھارتیہ جنتا پارٹی آگے بڑھ رہی ہے ، ویسے ویسے علاقائی یا چھوٹی سیاسی پارٹیوں کے وجود پر خطرہ بڑھتا جارہا ہے۔ اتر پردیش کے حالیہ انتخابی نتائج نے ایک طرف وہاں کی پچیس سالہ سماجوادی پارٹی کو متزلزل کر دیا ہے ، دوسری طرف بہوجن سماج پارٹی کے وجود پر بھی سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔ اس لئے دیگر ریاستوں میں جہاں علاقائی سیاسی جماعتیں فی الوقت مستحکم ہیں، انہیں بھی اپنے مستقبل کی فکر لاحق ہو گئی ہے ۔ بہار میں جنتا دل متحدہ اور راشٹریہ جنتا دل پہلے ہی سیاسی اتحاد کر چکی ہیں شامل ہے ۔ بہار میںتین سال بعد اسمبلی انتخاب ہونا ہے لیکن اس سے پہلے 2019ء میں پارلیمانی انتخاب ہوگا اور اس وقت اگر ن دوغیر بھاجپا سیاسی جماعتوںمیں بالفرض اتحاد نہ رہا تو ممکن ہے کہ جس طرح اتر پردیش کی تاریخ کا اعادہ ہونابعید ازامکان نہیں ۔ واضح رہے کہ پارلیمانی انتخاب سے قبل بھی غیر بھاجپا جماعتوں کی طرف سے یہ پہل شروع ہوئی تھی کہ تمام سیکولر جماعت ایک پلیٹ فارم پر آئیں ، یہ پہل جنتا دل متحدہ کے لیڈر اور بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار کی طرف سے کی گئی تھی۔دہلی میں کئی سیاسی جماعت کے لیڈران جمع بھی ہوئے تھے لیکن اس وقت یہ کوشش کامیاب نہیں ہو سکی تھی اور نتیجہ یہ نکلا کہ مرکز میں محض 31؍فیصد ووٹ کی بدولت بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت قائم ہو گئی ۔ پھر اتر پردیش اسمبلی انتخاب سے قبل بھی یہ اعلان سامنے آیا کہ یوپی میں تمام غیر بھاجپائی سیاسی مہا گھٹ بندھن قائم ہوگا لیکن یہ بھی محض افواہ ثابت ہوئی اور سماج واد ی پارٹی کا اکھلیش گروپ ہی کانگریس کے ساتھ متحدہو سکا لیکن مایا وتی کی بہوجن سماج پارٹی اپنی الگ راہ پر رہی ۔ اسی طرح اجیت سنگھ کی پارٹی اور پھر ملائم گروپ کے سماج وادی پارٹی کے لیڈران بھی غیر بھاجپا ووٹوں کو تہس نہس کرنے میں کامیاب رہے ۔ نتیجہ سامنے ہے کہ اگر بہوجن سماج پارٹی اور سماج وادی پارٹی کے ساتھ ساتھ کانگریس ووٹوں کو شامل کر لیں تو حقیقت سامنے آجائے گی کہ اتر پردیش کا سیاسی نقشہ کیا تھا۔ اب جب کہ اُتر پردیش کے بعد سنگھ پریوار کی دیگر تنظیموں نے بہار ، بنگال ، اڑیسہ اور جنوبی ہند کے کرناٹک و تمل ناڈو کی طرف پائوں پھیلانے لگی ہے تو پھر لالو پرساد یادو جیسے بھاجپا مخالف لیڈر نے آواز بلند کی ہے کہ تمام سیکولر جماعتوں کو ایک پلیٹ فارم پرمتحد ہو کر بھاجپا کے خلاف مورچہ لینا چاہئے۔ یہاں یہ بحث باعث طوالت ہوگی کہ اب کس سیاسی جماعت کو سیکولر کہا جاسکتا ہے ،کیوں کہ ماضی میں تقریباً ان تمام سیاسی جماعتوں کا بالواسطہ یا بلا واسطہ بھاجپا سے تعلق ضرور رہا ہے اور جب تک یہ سیاسی جماعتیں بھاجپا کے ساتھ رہتی ہیں اس وقت تک اسے بھاجپا فرقہ پرست نظر نہیں آتی جو کہ ایک المیہ ہے۔ بہرکیف، اس وقت لالو پرساد یادو نے جو آواز بلند کی ہے وہ وقت کا تقاضا ہے کیوں کہ ہمارا ملک ہندستان ایک جمہوی ملک ہے اور ہمارا آئین سیکولر ہے ۔ اس ملک میں تمام مذاہب کے لوگوں کو اپنے اپنے مذہب کے دائرے میں زندگی جینے کی مکمل آزادی ہے اور تمام شہریوں کو اپنی مرضی کے مطابق کھان پان، رہن سہن، بول چال ، رسم و رواج کے حقوق حاصل ہیں لیکن حالیہ برسوں میں ملک میں جس طرح کے ناگفتہ بہ حالات پیدا ہوئے ہیں ، اس سے واقعی یہ اندیشہ لاحق ہو گیا ہے کہ کیا ہمارا ملک اپنے آئین کی پاسدار ی کر رہا ہے؟ یہ ایک ایسا سوال ہے جس نے لاکھوں ہندستانیوںکو مضطرب کر رکھا ہے۔ کبھی عدم رواداری اور کبھی لو جہاد ، کبھی گھر واپسی، کبھی کھان پان پر پابندی ،کبھی مسلمانوں کی مذہبی شناخت کے ضامن پرسنل لاء کو مسخ کرنے کی سازشیں ، کبھی ملک کے اقلیت پر آتنک واد ہونے کا ٹھپا، غرض کہ ملک میں شہری سیاسی آزادی کے تصور اور گنگا جمنی تہذیب کوملیامیٹ کیا جارہاہے۔ ظاہر ہے کہ اب بھی ملک میں ایسے لوگوں کی کمی نہیں ہے جو اس طرح کی شدت پسند ی کے مخالف ہیں اور ہندستانی تہذیب و تمدن کی پاسداری کے لئے ہمہ وقت تیار ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ تقریباً 90برسوں کے بعد بھی سنگھ پریوار ملک کے تیس سے پینتیس فیصد آبادی کو ہی اپنے شدت پسندانہ نظرئے کا گرویدہ بنا سکی ہے۔ چونکہ جمہوریت میں ووٹ کی سیاست کا حساب و کتاب بالکل الگ ہے کہ یہاں بندوں کی گنتی اہمیت رکھتی ہے ۔ بھاجپا اسی کے سہارے نہ صرف ملک کی کئی ریاستوں میں حکومت بنانے میں کامیاب ہوئی بلکہ مرکز پر بھی قابض ہے۔ بایں ہمہ کہ غیر بھاجپائی سیاسی جماعت اگر متحدہ ہو جائیں تو فرقہ پرستوں کی تمام تر ظالمانہ کوششیں رائیگاں ہو جائیں گی مگر سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ تمام غیر بھاجپائی جماعتیں ایک ساتھ نہیں ہو سکتیں کیوں کہ ماضی میں جب کبھی اس طرح کی کوشش ہوئی ہے تو وہ ناکام رہی ۔ 1977ء میں کانگریس کے خلاف غیر کانگریسی جماعتیں ایک ساتھ ہوئیں ضرور تھیں مگر نتیجہ کیا ہوا وہ بھی ہماری سیاسی تاریخ کا ایک باب ہے۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ مثبت کوشش نہیں ہونی چاہیے۔ اس لئے راشٹریہ جنتا دل کے قومی صدر لالوپرساد نے جو آواز بلند کی ہے اور جنتا دل متحدہ کے نتیش کمار نے اس کی حمایت کی ہے ، دوسری طرف مایا وتی کا رُخ بھی نرم پڑا ہے ۔ اگر ترنمول کانگریس کی ممتا بنرجی ، راشٹر وادی کانگریس کے شرد پوار ، راشٹریہ لوک دل کے اجیت سنگھ ، ہریانہ میں چوٹالہ اور اڑیسہ جنتا دل کے ساتھ ساتھ سماج وادی پارٹی ایک پلیٹ فارم پر کھڑے ہوتے ہیں اور اس گھٹ بندھن میں کانگریس بھی شامل ہوتی ہے کہ کانگریس کو اپنے وجود کے لئے ایسا کرنا ضروری ہے ، تو ممکن ہے کہ ملک میں ایک نئی سیاسی فضا قائم ہو اور غیر بھاجپا سیاسی جماعتوں کے درمیان اتحاد کی بدولت سیکولر ووٹوں کے انتشار پر قابو پایا جاسکے ۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ لالو پرساد یادو کی یہ للکار کیا رنگ لاتی ہے۔
موبائل9431414586