ایک طرف جہاں بھارتی نژاد پراگ اگروال کا ٹوئیٹر کا سی ای او بننا خوشی کی بات ہے، وہیں دوسری طرف حکمراں جماعت ریپبلکن کی طرح ٹوئیٹر سے نالاں ہے۔سوشل میڈیائی دانشوروں کا خیال ہے کہ وہ ٹوئیٹر ہی کیا جو شخصیت کو متنازعہ نہ بنائے۔ سیاستدان تو اکثر اس کی زد میں آتے رہتے ہیں، مثلاً کوئی سیاسی لیڈر حزب اختلاف میں ہو تو حکومت وقت پر تنقید کرتے ہوئے ایسے ٹوئٹس کر دیتا ہے، جب بعد میں خود حکومت میں آتے ہیں تو وہ سر درد بن جاتے ہیں۔ اسی طرح ایک سیاسی گروہ سے دوسری جماعت میں شمولیت پر بھی میڈیا ان سیاستدانوں کے پرانے ٹوئٹس ڈھونڈ نکالتے ہیں۔ جس سیاسی جماعت پر ٹویئٹ کر کے سنگین الزام لگائے جاتے ہیں، اسکی قیادت کو آڑے ہاتھوں لیا جاتا ہے بعد میں وہی سیاسی جماعت جوائن کر کے پرانے ٹوئٹس پر شرمندہ ہونا پڑتا ہے۔
زیادہ دور نہ جاتے ہوئے بھارت۔ پاکستان سے ہی اسکی مثال لے لیتے ہیں۔ وزیر اعظم ہند نریندر مودی اور انکے رفقاء بھی ماضی میں کئے گئے کچھ ایسے ٹوئٹس کو لے کر تنقید کا نشانہ بنے۔ ماضی میں منموہن سنگھ کی سرکار پر معیشت اور دیگر ایشوز کو لے کر نریندر مودی نے کچھ ایسے ٹوئٹس کئے ہوئے تھے، اب خود حکومت میں ہونے کے باوجود ان کیمطابق کام نہیں کر پا رہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کی سرکار کو ایسی باتوں اور ٹوئٹس کی وجہ سے اپوزیشن جملہ سرکار بھی کہتی ہے۔
وزیر اعظم پاکستان عمران بھی جب حزب اختلاف میں ہوتے تھے تو حکومت پر تنقید کرتے ہوئے ایسی ایسی باتیں کیا کرتے تھے جو اب ان کے لئے ہی وبال بنی ہوئی ہیں ۔حکمران عمران خان اپوزیشن والے عمران خان سے بالکل الٹ ہیں۔ اس سیاسی deviation کیوجہ سے انہیں میڈیا میں یو ٹرن کہا جاتا ہے۔ باقی دنیا کی سیاست میں بھی زیادہ تر ایسے کیسیز دیکھنے کو مل جاتے ہیں، یہ تو رہی سیاستدانوں کی بات لیکن حال ہی میں ٹوئیٹر کے نئے تعینات چیف ایگزیکٹو آفیسر پراگ اگروال پر بھی بعض لوگ ایک ٹویٹ کیوجہ سے تنقید کے نشتر چلا رہے ہیں۔
بھارتی نژاد امریکی شہری پراگ اگروال حال ہی میں سوشل نیٹ ورک ٹوئیٹر کے نئے سی ای او تعینات ہوئے ہیں ۔ یہ عہدہ شریک بانی ٹوئیٹر جیک پاٹرک ڈورسے کے مستعفی ہونے کے بعد خالی ہوا تھا۔ ٹوئیٹر کے علاوہ امریکہ میں سات اور بھی ایسی کمپنیاں ہیں، جنکے سی ای او بھارتی ہیں۔ ان میں گوگل کے سندر پچائی مائکرو سافٹ کے ستیا ندیلا، آئی بی ایم کے اروند کرشنا، آبوڈ کے شنتانو نارائن وغیرہ شامل ہیں ۔
حال ہی میں اگروال کی تعیناتی کےبعد کچھ فیس بُک و ٹوئیٹر مخالف ریپبلکن پارٹی کے سخت گیر ممبران نے برہمی کا اظہار کیا ہے۔ یہ لوگ موصوف کا 26 نومبر 2010 کا کیا گیا ایک ٹوئٹ ڈھونڈ لائے۔
مذکورہ تاریخ کو اگروال نے اسلامو فوبیا کے خلاف ایک ٹویٹ کیا تھا، جس میں انکے کہنے کا مطلب ہے کہ دہشت گردی اور اسلام کو ساتھ نہیں جوڑا جا سکتا ہے۔وہ ٹویٹ کرتے ہیں کہ ' اگر وہ (مغرب) مسلمان اور انتہا پسندی میں فرق نہیں کر سکتے تو میں گورا اور نسل پرستی میں فرق کیوں کروں ۔
ریپبلکن پارٹی سے تعلق رکھنے والے سنیٹر مرشا بلیک برن، لینس گوڈن، سنیٹر جوش ہالے اور دی ہاؤس جوڈیشری ریپبلکن پارٹی نامی تنظیم جو عدالت کے متعلق ریپبلکنز کی نمائندگی کرنے والے قانون سازوں کا گروہ ہے، نے نئے سی ای او کی سکرین شاٹ لے کر سخت اعتراضات جتائے ہیں۔ اگر وال نے جب یہ ٹویٹ کیا تھا تب انہوں نے ٹوئیٹر میں ملازمت بھی شروع نہیں کی تھی۔ ان ریپبلیکنز کا مؤقف ہے کہ ٹوئیٹر کے نئے سی ای او بائیں بازو یقیناً انکا اشارہ ڈیموکریٹ کی طرف ہے ،کے حامی ہیں۔ بقول ان افراد کے اگروال غیر جانبداری کی پالیسی نہیں رکھ سکتے ۔
یہ پہلی بار نہیں ہوا کہ ریپبلکن پارٹی کے افراد نے ٹوئیٹر پر ناراضگی کا اظہار کیا ہو، رواں سال کے اوائل میں ٹرمپ کے حامیوں کی طرف سے ممکنہ دھنگوں سے بچنے کے لیے ٹویئٹر نے انکے اکاؤنٹ کو مستقل بند کر دیا تھا۔ امریکی صدارتی انتخابات کےبعد وایٹ ہاؤس میں اسوقت خوفناک صورتحال بنی، جب شروع میں ٹرمپ نے انتخابی نتائج ماننے سے انکار کر دیا تھا۔امریکہ میں چونکہ ادارے زیادہ مضبوط ہوتے ہیں اس طرح انہیں وایٹ ہاؤس چھوڑنا پڑا تھا۔ لیکن انتخابات اور نتائج پر سوالات اٹھائے تھے۔ سابق صدر کی طرف سے بھڑکاو ٹوئٹس بھی کئے گئے تھے، جسکے بعد ٹوئیٹر کو یہ قدم اٹھانا پڑا تھا۔ٹوئیٹر پر بندش کےبعد ٹرمپ نے اپنے حامیوں سے جڑے رہنے کے لئے ’’فرام دی ڈسک آف ڈونالڈ ٹرمپ ‘‘نامی پلیٹ فارم متعارف کروایا تھا ۔
ویسے تو ٹوئیٹر کی یہ پالیسی ہے کہ 'زبان یا مذہب وغیرہ کے نام پر کسی کو ہیچ نہ کیا جائے، لیکن پھر بھی نفرت انگیز ٹویٹ ہو جاتے ہیں۔ نفرت پر مبنی یہ ٹویٹس سب سے زیادہ مسلم کمیونٹی کے خلاف ہوتے ہیں ۔
2014 کےبعد بھارت میں بھی انتہا پسندوں کی جانب سے مسلم مخالف ہیش ٹیگز اور نفرت پر مبنی پوسٹس میں ریکارڈ اضافہ دیکھنے کو ملا ہے۔ کرونا کو بھی مسلمانوں سے جوڑ کر کرونا جہاد اور بین تبلیغی جماعت جیسے ہیش ٹیگیز کئے گئے تھے۔مسلم مخالف انتہا پسندی سے جڑے عناصر نے دوران کرونا دنیا بھر بشمول گلف ممالک سے بھی ایسے نفرت انگیز ٹویٹس کئے جن پر وہاں کے اسکالرز نیز دیگر شہریوں کی طرف سے شدید ردعمل آیا تھا۔
رواں سال کے جولائی مہینہ میں 'وائرس کا کوئی مذہب نہیں ہوتا: کرونا کے دوران ٹوئیٹر پر اسلامو فوبیا کا تجزیہ، کے عنوان سے ایک تحقیقی مضمون شائع ہوا۔ یہ مضمون انگریزی زبان میں ہے، جس پر انٹرنیشنل انسٹیٹیوٹ آف انفارمیشن ٹیکنالوجی، حیدرآباد اور اندر پرست انسٹیوٹ آف انفارمیشن ٹیکنالوجی دہلی کے چھ سکالرز نے ملکر کام کیا ہے۔
اس مضمون میں تفصیلی طور پر کرونا کے دوران ٹوئیٹر پر اسلامو فوبیا کی بابت تجزیہ کیا گیا ہے ۔ آخر میں وہ کہتے ہیں کہ ماضی میں اسلافوبیا پر زیادہ تر تحقیق انتہا پسندی کے متعلق ہیں، جن میں محققین نے یہ ثابت کیا ہے کہ مغرب میں مسلمانوں کو انتہا پسندی اور دہشت گردی سے الگ نہیں دیکھا جاتاہے ۔
مذکورہ اسٹڈی کے محققین لکھتے ہیں کہ یہ گذشتہ تحقیقات سے اسلئے مختلف ہے کیونکہ اسمیں مسلم مخالف خیالات کو دہشت گردی کے آئینے سے نہیں دیکھا گیا۔ یعنی یہ تحقیق ان مسلم مخالف بیانات اور ٹوئٹس کی بنیاد پر ہے، جن میں مسلم مخالف عنصر تو شامل ہے، پر دہشت گردی اور انتہا پسندی نہیں لیکن ان خیالات کے بھی متعلقہ کمیونٹی پر برے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔محققین اپنی بات کو ان الفاظ سے اختتام کرتے ہیں کہ ' کسی بھی کمیونٹی کے خلاف منفی سوچ ناقابل قبول ہے۔ اس لئے ہم چاہتے ہیں یہ پیپر کمیونٹی کیخلاف نفرت انگیزی کی تخفیف میں معاون ثابت ہو سکے ' ۔
دوسری طرف ریپبلکن کی طرح بھارت میں مرکزی حکمران جماعت کا بھی ٹوئیٹر کے ساتھ ٹکراؤ ہوتا رہتا ہے۔ اس کی ایک مثال کرونا کے دوران وزیر اعظم نریندر مودی پر کرونا کے متعلق پالیسیز پر تنقیدی مواد کو ڈیلیٹ کروانے کا مطالبہ تھا۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کا کہنا تھا کہ ان پر کرونا کے متعلق پالیسیز پر جو پوسٹس کی گئی ہیں، وہ گمراہ کن ہیں۔ ٹوئیٹر نے یہ مطالبہ ناجائز اور کمپنی پالسی کے خلاف قرار دیا تھا ۔
سال 2019 میں بھارت میں ٹوئیٹر کا متبادل '’کو‘ (koo) نامی مائیکرو بلاگنگ سوشل نیٹ ورکنگ سروس متعارف کروائی ۔
اس سال کے وسط تک ’کو‘ کے فالورز کی تعداد سو ملین سے کراس کر گئی تھی ۔
اس ایپ کے باوجود بھارت دنیا میں ٹوئیٹر استعمال کرنے والا تیسرا بڑا ملک ہے۔ پہلے نمبر پر یونائیٹیڈ اسٹیٹ آف امریکہ جبکہ دوسرے پر جاپان ہے۔’ کو‘ کولے کر خدشات یہ ہیں کہ جسطرح کا اسوقت ماحول ہے، یہ خیال بعید از قیاس نہیں کہ یہ بعض ٹی وی چینلز اور اخبارات کی طرح مخصوص سیاسی پارٹی کی ایما پر کام کرنا شروع کر دے۔
دوسرا ٹوئیٹر کی بھارت میں مقبولیت کیوجہ بین الاقوامی برادری بھی ہے۔ '’کو‘ کو دنیا میں کم استعمال کیا جاتا ہے اور بڑا آدمی تو کوئی بھی اسے استعمال نہیں کرتا ۔ یہاں تک کہ بھارت میں اسے سارے لوگ استعمال نہیں کرتے۔ خود وزیر اعظم مودی کے’ کو‘ پر صرف 425 فالورز ہیں جبکہ ٹوئیٹر پر انہیں 73 ملین لوگ فالو کر رہے ہیں ۔
گو کہ ٹوئیٹر کو نفرت انگیزی پر مبنی مواد سے متعلق اور کام کرنے کی ضرورت ہے لیکن اس کے باوجود یہ مائیکرو بلاگنگ سائٹ آزادی اظہار رائے کی کھل کر اجازت دیتا ہے ۔ریپبلکن پارٹی کی اگروال پر تنقید بے بنیاد ہے، اسی طرح بھارتیہ جنتا پارٹی کے بھی فیس بک اور ٹوئیٹرپر تحفظات کوئی زیادہ صحت مند نہیں ہے ۔
(کالم نگار جواہر لال نہرو یونیورسٹی، نئی دہلی میں ریسرچ سکالر ہیں)