بڈگام میں نیشنل کانفرنس کا اجتماع

 سرینگر// نیشنل کانفرنس جموں و کشمیر کے تینوں خطوں کے عوام کے حقوق کی بحالی چاہتی ہے اور اس مقصد کے حصول کیلئے برسر جہد ہے، ہماری جماعت اپنے مؤقف پر چٹان کی طرح قائم و دائم ہے اور کسی بھی صورت میں پیچھے ہٹنے والی نہیں۔ ایک بیان کے مطابق ان باتوں کا اظہار پارٹی جنرل سکریٹری  علی محمد ساگر نے بڈگام میں پارٹی عہدیداروں اور کارکنوں کے ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقعے پر پارٹی کے صوبائی صدر ناصر اسلم وانی، وسطی زون صدر علی محمد ڈار، سینئر لیڈران آغا سید روح اللہ مہدی اور دیگر لیڈران و عہدیداران بھی موجود تھے۔ علی محمد ساگر نے اپنے خطاب میں کہا کہ جب ہم اپنے حقوق کی بحالی کا مطالبہ کرتے ہیں تو ہم اُن حقوق کی بحالی کی بات کرتے ہیں جن کی ضمانت ہمیں ملک کے آئین میں دی گئی ہے اور ہمارے اِن مطالبات پر کسی کو اعتراض نہیں ہونا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ جموں وکشمیر کو حاصل خصوصی پوزیشن سے ہماری ریاست اور ملک کے درمیان رشتے مضبوط تھے لیکن 5اگست 2019  کے فیصلوں سے ان رشتوں میں کڑواہٹ پیدا کی گئی اور دوریاں بڑھائی گئیں۔ اُن کا کہنا تھا کہ نئی دہلی جموں و کشمیر کے عوام کے چھینے گئے حقوق جتنی جلدی بحال کری گی اُتنا ہی ریاست اور ملک کے رشتوں کیلئے اچھا ہوگا۔ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان بہتر ہورہے تعلقات کو خوش آئندہ قرار دیتے ہوئے این سی جنرل سکریٹری نے کہا کہ نیشنل کانفرنس ہمیشہ سے ہی دونوں ملکوں کے درمیان مضبوط دوستی کی حامی رہی ہے کیونکہ یہی آر پار جموںوکشمیر کے لوگوں کے مفاد میں ہے اور دوستی میں ہی تمام حل طلب مسائل کو سلجھایا جاسکتا ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کو باضابطہ طور پر مذاکرات کی میز پر آکر دوستی کو پروان چڑھانے کیلئے اعتماد سازی اور مفاہمتی اقدامات کرنے چاہئیں۔ پارٹی کے صوبائی صدر ناصر اسلم وانی نے اپنے خطاب میں کہا کہ جموں وکشمیر کے عوام اس وقت زبردست مشکلات سے دوچار ہیں۔ اقتصادی اور معیشی بدحالی، بے روزگاری، مہنگائی اور غیر یقینیت مسلسل دوسال سے جاری ہے اور عوام کا کوئی پُرسانِ حال نہیں۔ لوگوں اس وقت شخصی راج کے مشکلات سے بھی زیادہ مصائب میں مبتلا ہیں۔ سینئر پارٹی لیڈر آغا سید روح اللہ مہدی نے اپنے خطاب میں کہا کہ غیر آئینی، غیر جمہوری اور یکطرفہ طور پر جموں وکشمیر کے عوام سے جو حقوق چھینے گئے اُن کی بحالی کیلئے جدوجہد کرنا ہمارا فرض بنتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہم نے اپنے حقوق کی بحالی کیلئے جدوجہد نہیں کریںگے تو آنے والے نسلیں ہمیں معاف نہیں کریں گے۔