کپوارہ//ہایہامہ علاقے کے بٹہ پورہ جگتیال میں جھڑپ کے دوران جاں بحق کمسن بچی کی موت پر علاقے میں لوگو ں نے احتجاجی مظاہرے کئے اور اس واقعہ کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ۔عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ زبردست فائرنگ کے نتیجے میں مکان، جسمیں جنگجو چھپے بیٹھے تھے ،سے تھوڑی دور پر واقع خوشی محمد کی کمسن بچی کنیزہ بانو اور اس کا بچہ فیصل احمد گولی لگنے سے شدید زخمی ہوئے ۔جھڑپ کے دوران اگرچہ مقامی لوگو ں نے دوشیزہ کو اسپتال لے جانے کی کوشش کی تاہم وہ زخمو ں کی تاب نالاکر دم تو ڑ بیٹھی جبکہ اس کے کمسن بھائی کو سرینگر علاج و معالجہ کے لئے منتقل کیا گیا۔ جو ں ہی علاقے میں جھڑپ ختم ہوئی تو مقامی لوگ گھرو ں سے باہر آئے اور احتجاجی مظاہرے کئے ۔مقامی لوگو ں نے الزام لگایا کہ جھڑپ کے دوران عام لوگو ں کے جان و مال کی حفاظت کا کوئی خیال نہیں رکھا گیا جس کے باعث ایک کمسن بچی لقمہ اجل بن گئی ۔مقامی لوگوں نے اس واقعہ کی سخت مذمت کی اور اس کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ۔بدھ کی شام گئے دیر تک علاقے میں لوگو ں کے احتجاجی مظاہرے کئے ۔لو احقین کا کہنا ہے کہ کمسن بچی کی ما ں دل کی مریضہ ہے اور جب اپنی کمسن بچی کی موت کی خبر سنی تو وہ اپنا ہوش و حواس کھو بیٹھی جبکہ اس کازخمی بیٹا زیر علاج ہے ۔معصوم بچی کی موت کے خلاف علاقے میں غم و غصہ پایا جارہا ہے ۔