بٹوت چکواہ رابطہ سڑک کی تعمیر میں تا خیر

 بٹوت// آج سے عرصہ چھ سال قبل بٹوت کو مضافات کے قدری حسن سے مالامال گائوں چکواہ ، شوگڑھڈھار اور پتنی ٹاپ سے سے جورنے کی خاطر محکمہ (پی ایم جی ایس وائی ) کی سپر ویزن میں تعمیر شروع کی گئی ۔تقریباً چھ کروڑ روپے ابتدائی تخمینہ لاگت کی دس کلو میٹر لمبائی کی بٹوت چکواہ لنک روڈ کو پائیہ تکمیل پہنچانے میں محکمہ کامیاب نہیں ہو سکا ہے ۔ بٹوت و گرد نواح کے علاقہ کو سیاحتی شعبے میں ترقی دینے کی خاطر بے حد اہمیت کی حامل بٹوت چکواہ روڈ کا سابقہ چھ سال عرصہ میں ابتدائی چار کلو میٹر کا حصہ بھی محکمہ مکمل طور تیار کر نے میں ناکام رہاہے ۔ جس سے اس لنک روڈ کے اطراف میں آباد بیسوں گائوں قصبہ جات میں آباد ہزاروں پر مشتمل انسانی آبادی کو بے شمار مشکلات و مسائل کا سامنا کر نا پڑ رہا ہے ۔ اس سلسلے میں محکمہ پی ایم جی ایس وائی کی سپر ویزن میں سابقہ چھ سالہ عرصہ سے زیر تعمیر بٹوت چکواہ لنک روڈ کے عدم تکمیل ہو نے کی وجہ سے پیدا شدہ عوامی مسائل و مشکلات پر کشمیر اعظمیٰ سے بات کر تے ہوئے پی ڈی پی ضلع رام بن کے یوتھ صدر شعمون میر نے کہا بٹوت چکواہ لنک روڈ تعمیر پراجیکٹ بٹوت و گرد نواح کے علاقہ جات کو سیاحتی شعبے میں ترقی دینے کے لئے بے حد اہمیت کا حامل ہو نے کے ساتھ علاقے میں آباد ہزاروں پر مشتمل انسانی آباد ی کو سڑک رابطے کی سہولیت سے جوڑنے کے لئے بے حد اہم ہے ۔ اس لنک سڑک کی تعمیر سے بٹوت میونسپلٹی روڈ نمبر 2مضافات کی پنچایت چکواہ تھوپال پر مشتمل علاقے میں آباد آبادی کو سڑک رابطے کی سہولیات میسر آجانی تھی ۔ بد قسمتی سے جن کو ٓاج کے ترقی یافتہ دور میں بھی اپنے رو ز مرہ معمولات زندگی کو انجام دینے کی خاطر ہر رو ز میلوں کا دشوار گزار پیدل سفر کر نا پڑتا ہے ۔ اپنے ہاں ہو نے زرعی پیداوار پھل اور ہری سبزیوں کو سڑک تک اور پھر با زار تک پہنچانے میں کل قیمت کا ستر فی صد صرف کر نا پڑتا ہے میر کا مزید کہنا تھا اس سڑک کی تعمیر ہو نے سے علاقے میں سیاحتی شعبے کو بڑھا وا دینے میں بڑی مدد مل جا ئے گی ۔ ریاست وبیرون ریاست کے سیاحوں کو پتنی ٹاپ و شو گڑھ دھار جیسے قدرتی حُسن سے مالامال دیکھنے کا موقع ملے گا۔ لہذا ان سب حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے کشمیر اعظمیٰ نے بٹوت چکواہ لنک روڈ کی تعمیر میں ہو رہی تاخیر کی وجہ سے جا ننے کے لئے (محکمہ پی ایم جی ایس وائی ) ڈویژن بٹوت سے رابطہ کیا تو جواب میں اعلیٰ افسران کا کہنا تھا کہ سال 2011میں شروع ہو ئے اس تعمیر منصوبے کو پائیہ تکمیل پہنچانے میں بڑی رکاوٹ ہیں ۔ اس تعمیری منصوبے کی زد میں آرہے بڑے پیمانے چیڑ و دویار کے سر سبز جنگلات ہیں ۔ اس روڈ کو دس کلو میٹر تک مکمل کر نے کے لئے ایک ہزار کے قریب دیودار اور چیڑ کے سبز درخت کا ٹنے پڑیں گے اور یہ سب کچھ محکمہ فارسٹ کی حتمی منظوری سے ہی ممکن ہو گا ۔ ہاں پھر حکومتی سطح پر ہی اس تعمیری منصوبے کے لئے کوئی متبادل غور و خوض ممکن ہے ۔ لہذا ہماری بھر پور کو شش ہے کہ قصبہ بٹوت و گرد نواح کے عوام کے لئے بے حد اہمیت کی حامل اس لنک سڑک کی تعمیر کے منصوبے کو جلد از جلد پائیہ تکمیل تک پہنچائیں۔