عظمیٰ نیوز سروس
سرینگر// اپنی پارٹی سربراہ سید الطاف بخاری نے مرکزی سرکار سے اپیل کی کہ وہ جموں و کشمیر میں جاری امن و استحکام کی صورتحال کو مزید مستحکم بنانے کے لیے اعتماد سازی کے اقدامات کرے۔ انہوں نے کہا، لوگوں نے جموں و کشمیر میں پرامن ماحول کو یقینی بنانے اور اسے برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کیا ہے، اور اب حکومتِ ہند کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس جاری امن و استحکام کو سہارا دینے کے لیے باہمی اقدامات کرے۔انہوں نے گلزار پورہ راولپورہ سرینگر میں کارکنوں کے ایک اجتماع سے خطاب میں کہا، آخر کب تک ہمارے لیڈران اور نوجوان جیلوں میں بند رہیں گے؟ تمام زیرِ حراست افراد کو رہا کیا جانا چاہیے، سوائے ان کے جو سنگین جرائم کے الزامات کا سامنا کر رہے ہیں۔انہوں نے گرفتاریوں اور بلا امتیاز ایف آئی آر درج کرنے کے عمل کو ختم کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔روایتی سیاسی جماعتوں پر تنقید کرتے ہوئے بخاری نے کہا کہ ان جماعتوں نے مسلسل جھوٹ، کھوکھلے وعدوں اور جذباتی نعروں کے ذریعے عوام کو دھوکہ دیا ہے۔ انہوں نے عوام کو بھی اس بات کا ذمہ دار ٹھہرایا کہ وہ بار بار ان جماعتوں کو خود پر استحصال کا موقع دیتے رہے ہیں۔
انہوں نے کہا، جب آپ جانتے ہیں کہ یہ سیاسی جماعتیں بار بار آپ کو دھوکہ دیتی ہیں اور ہر انتخاب میں جھوٹے وعدوں کے ساتھ ووٹ مانگنے آتی ہیں، تو پھر آپ انہیں اپنے استحصال کا موقع کیوں دیتے ہیں؟۔انہوں نے مزید کہا، موجودہ حکمران جماعت نے انتخابی مہم کے دوران کئی وعدے کیے تھے۔ ان وعدوں کا کیا ہوا؟ وہ ایک لاکھ نوکریاں کہاں ہیں جن کا وعدہ کیا گیا تھا؟ ڈیلی ویجرز کو مستقل کرنے کا وعدہ کیوں پورا نہیں کیا گیا؟ مفت بجلی کہاں ہے؟ راشن کوٹا میں اضافے کے وعدے کا کیا ہوا، مفت گیس سیلینڈروں کی فراہمی کے وعدے کا کیا ہوا اور دیگر سہولیات کہاں ہیں جن کی یقین دہانی کرائی گئی تھی؟حال ہی میں سامنے آنے والے ان الزامات کے حوالے سے کہ نائب تحصیلدار اور پٹواری کے عہدوں کے لیے اردو کی عملی واقفیت کی لازمی شرط کو ختم کر دیا گیا ہے بخاری نے عمر عبداللہ سے وضاحت سامنے لانے کی تلقین کی ۔انہوں نے کہا، میں وزیر اعلی سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ اس معاملے پر کھل کر بات کریں اور ہمیں بتائیں کہ آیا جموں و کشمیر سروسز سلیکشن بورڈ نے اردو کو سرکاری زبان کو بعض امتحانات کے لئے لازمی کی شق ختم کر دی ہے یا نہیں۔ اگر ہندی کو بطور آپشنل زبان شامل کیا گیا ہے تو ہمیں کوئی اعتراض نہیں، لیکن ہم اردو زبان کو ختم کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔انہوںنے مطالبہ کیا کہ ملازمت کے خواہشمندوں اور پاسپورٹ کے درخواست دہندگان کے لیے پولیس ویری فکیشن کے عمل کو آسان بنایا جائے۔ انہوں نے کہا، ہمارے نوجوانوں کو رکاوٹوں کے بغیر پاسپورٹ جاری کیے جائیں تاکہ وہ بہتر روزگار کے مواقع کی تلاش میں بیرونِ ملک جا سکیں۔غیر منصفانہ ریزرویشن نظام کے حوالے سے بخاری نے کہا، یہ غیر منصفانہ نظام ختم ہونا چاہیے، اور اسے لازماً ختم ہونا ہوگا۔ آخر کب تک 70 فیصد آبادی کو صرف 30 فیصد ملازمتوں کا حصہ دیا جاتا رہے گا؟ یہ شدید ناانصافی ہے۔