عمران احمد سلفی
ارشاد باری تعالیٰ ہے:(ترجمہ)اور ضرور آزمائیں گے ہم تمہیں کسی قدر خوف اور بھوک سے اور (مبتلا کرکے) نقصان میں مال وجان کے اور آمدنیوں کے اور خوش خبری دو صبر کرنے والوں کو، وہ (صبر کرنے والے)کہ جب پہنچتی ہے اْنہیں کوئی مصیبت تو کہتے ہیں بے شک، ہم اللہ ہی کے ہیں اور بے شک، ہمیں اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے، (دراصل) یہی وہ لوگ ہیں کہ ان پر ہیں عنایتیں ان کے رب کی اور رحمتیں بھی اور یہی لوگ ہیں جو ہدایت یافتہ ہیں۔(سورۃ البقرہ، ۱۵۵تا۱۵۷) ان آیات ِ مبارکہ میں اللہ تبارک وتعالیٰ نے انسان کو متنبہ فرمایا ہے کہ اسے مختلف چیزوں کے ذریعے ضرور بالضرور آزمایا جائے گااور جو ان آزمائشوں پر صبر کرتے ہوئے پورا اُتریں گے، انہیں رحمت و مغفرت کی بشارت دی گئی ہے۔
احادیث مبارکہ کے مطابق تکلیفوں پر صبر ثواب میں اضافے کا باعث بننے کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ کی رضا اور خوشنودی کا بھی ذریعہ ہے۔جامع ترمذی میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ ارشاد مروی ہے کہ’’ اجر و ثواب میں اضافہ مصیبتوں کے ساتھ ہے اور فرمایا کہ اللہ جب کسی قوم سے محبت کرتاہے تو انہیں کسی نہ کسی مصیبت میں مبتلا کردیتا ہے اور جو راضی رہتا ہے، اس کے لیے اللہ کی رضا ہے اور جو ناراض ہوجاتا ہے، اس کے لیے اللہ کی ناراضی ہے‘‘۔
مصیبت پر صبر کرنے کے حوالے سے کنز العمال میں حضرت علیؓ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ’’ تحقیق لوح محفوظ میں پہلی چیز جو کہ اللہ تعالیٰ نے لکھی ہے، وہ یہ ہے، بسم اللہ الرحمن الرحیم اوربے شک، میں ہی معبود ہوں، میرے سوا کوئی حاجت روا نہیں ،میرا کوئی شریک نہیں، جس نے میرے فیصلے کو مان لیااور میری دی ہوئی مصیبت پر صبر کیا اور میرے حکم پر راضی رہا ،میں اسے اپنے یہاں صدیق لکھ دیتا ہوں اور اسے قیامت کے دن صدیقوں میں اٹھاؤں گا‘‘۔
یہ رسول رحمت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اُمت پر اللہ تعالیٰ کی خصوصی رحمتوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ سابقہ اُمتوں کے شہیدوں کی طرح اُمتِ محمدیہ میں درجہِ شہادت پانے والوں کو صِرف اللہ کی راہ میں لڑتے ہوئے قتل ہونے والوں تک ہی محدود نہیں رکھا، بلکہ دوسروں کو بھی اِس درجہ پر فائزفرمایا ہے۔
مسند احمد میں راشد بن حبیش ؓ سے روایت ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت عبادہ بن صامت ؓ کی عیادت (بیمار پرسی) کے لیے تشریف لائے تو اِرشاد فرمایاـ: کیا تم لوگ جانتے ہو کہ میری اُمت کے شہید کون کون ہیں ؟حضرت عبادہ بن صامتؓ نے عرض کیا:اے اللہ کے رسولؐ!اللہ کی راہ میں مصیبت پر صبر کرنے اور اجر و ثواب کا یقین رکھنے والے۔ اس پر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اِرشاد فرمایا: اِس طرح تو میری امت کے شہید بہت کم ہوں گے۔پھر آپؐ نے فرمایاـ: جلنے کی وجہ سے مرنے والا بھی شہید ہے۔
پوری حدیث اس طرح ہے: ۱ ۔اللہ عز وجل کی راہ میں قتل ہونا شہادت ہے،۲۔طاعون (کی موت ) شہادت ہے،۳ ۔ ڈوبنا ،یعنی پانی میں ڈوبنے سے موت واقع ہونا، شہادت ہے ،۴۔ پیٹ کی بیماری سے موت واقع ہونا، شہادت ہے،۵۔ ولادت کے بعد نفاس کی حالت میں مرنے والی کو اس کی وہ اولاد،جس کی ولادت ہوئی اور اِس ولادت کی وجہ سے وہ مر گئی، اپنی کٹی ہوئی ناف سے جنّت میں کھینچ کرلے جاتی ہے،۶۔جلنا ،یعنی جلنے کی وجہ سے موت واقع ہونا،شہادت ہے اور۷۔سِل، یعنی پھیپھڑوں کی بیماری کی وجہ سے موت واقع ہونا شہادت ہے۔