سرنکوٹ// بفلیاز پھاگلہ منڈی سی آر ایف سڑک جس کا تعمیراتی کام 1972 میں شروع کیا گیا تھا 45 سال کا طویل عرصہ گزرنے کے باوجود بھی مکمل نہیں ہو سکی۔ 62 کلومیٹر سڑک کی تعمیر کیلئے دس سال قبل سنٹر ل روڈ فنڈ سی آر ایف سے 42 کروڑ روپے واگزارکئے گئے تھیتاہم دس سال گزرنے کے باوجود بھی مذکورہ سڑک کی کھدائی کا کام مکمل نہیں ہو سکا۔ مقامی لوگوں نے محکمہ پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ متعلقہ حکام نے صرف فنڈ کو ہڑپ کیا ہے اور محکمہ کی لاپرواہی کی وجہ سے لگ بھگ 150 میٹر سڑک راتھراں محلہ پر کٹائی نہیں کی گئی ہے اور محکمہ دعوئے کر رہا ہے کی سڑک پر گاڑیوں کی آمدورفت کا سلسلہ جاری ہے جبکہ بفلیاز تا پمروٹ تک اور منڈی سے سیڑھی تک نقل و حمل کا سلسلہ جاری ہے۔ انھوں نے کہا کہ کئی برس گزر گے لیکن سڑک مکمل نہیں ہو سکی ہے۔مکینوں نے کہاکہ راتھراں محلہ میں سڑک بند ہے اور کٹائی کا نام نشاں تک نہیں ہے۔بفلیاز پھاگلہ منڈی روڈ بند ہونے کی وجہ سے لوگ پرشان ہیں سڑک کے ملحقہ دیہات میں رہنے والے لوگوں کو دوران آمد ورفت شدید مشکلات درپیش ہیں ۔محمد شریف نامی ایک مقامی شخص نے بتایا کہ سڑک کی تعمیرات کے دوران نکاسی آب کا خیال نہیں رکھا گیا جس کی وجہ سے کئی گھروں میں بارش کے دنوں میں پانی داخل ہو جاتا ہے ۔انہوں نے بتایا کہ کئی رہائشی مکانات بارش سے متاثر ہو ئے ہیں جبکہ لوگوں کی زرعی زمینیں بھی تباہ ہو گئی ہے ۔مقامی معززین نے بتایا کہ متعلقہ محکمہ او ر ٹھیکیدار کی ملی بھگت کی وجہ سے پروجیکٹ کو مکمل ہی نہیں کیا جارہا ہے ۔قمر دین راتھر نامی ایک مقامی شخص نے بتایا کہ پروجیکٹ مکمل نہ ہونے کی وجہ سے علاقہ فتخ پور کہنو سہڑی خواجہ ،ڈنہ دھڑکاں، دھڑا موڑ بچھائی نیڑیاں پھاگلہ محلہ راتھراں پمروٹ اور بفلیاز جیسے علاقوں کی ہزاروں کی آبادی متاثر ہو رہی ہے ۔مکینوں نے مانگ کرتے ہوئے کہا کہ رابطہ سڑکوں کو جلداجلد مکمل کروایا جائے تاکہ لوگوں کی مصیبت کم ہو سکے ۔